Picture of Muhammad Mohsin Iqbal

Muhammad Mohsin Iqbal

ہم نے بدلے میں کیا لوٹایا؟

تحریر:محمد محسن اقبال

پاکستان 14 اگست 1947ء کو ان قربانیوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا جن کی عظمت آج بھی دلوں کو مضطرب اور روح کو بے چین کر دیتی ہے، اور اس جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا جس کی استقامت اور بے مثال عزم آج بھی ہمارے لیے ایک لازوال سبق ہے۔ ان پُرآشوب مہینوں میں لاکھوں انسان سرحدوں کے آرپار ہجرت کر گئے۔ انہوں نے اپنے آبائی گھر چھوڑے، اپنے خاندانوں کی قبریں پیچھے چھوڑیں، نسلوں سے مانوس مٹی سے رشتہ توڑا، تاکہ ایک ایسی آزاد سرزمین وجود میں آئے جہاں مسلمان اپنے دین، اپنے عقیدے اور اپنی آزاد مرضی کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔

آج ہم اس آزادی کی آٹھویں دہائی کی دہلیز پر کھڑے ہیں، جسے بڑی جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔ میں، جو پیدائشی اور نظریاتی طور پر پاکستانی ہوں، خود بھی اس آزاد وطن کی حدود میں تقریباً اٹھاون برس گزار چکا ہوں۔

اس ملک نے مجھے وہ شناخت عطا کی جسے دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے چھین نہیں سکتی۔ اس نے مجھے آزادانہ زندگی بسر کرنے کے وسائل دیے؛ وہ درس گاہیں دیں جہاں میں علم حاصل کر سکا، وہ سڑکیں دیں جن پر چل کر اپنی منزلوں تک پہنچا، وہ بازار دیے جہاں محنت کر کے رزق کما سکا۔ اس نے دنیا کی نگاہ میں مجھے عزت کا ایک مقام دیا اور کسی نہ کسی درجے میں اپنے ہم وطنوں کے درمیان ایک نام اور پہچان بھی عطا کی۔ لیکن ایک سوال بار بار لوٹ آتا ہے، خاموشی سے، مگر مسلسل—جیسے برسوں سے مؤخر کیا ہوا کوئی قرض؛ میں نے اس کے بدلے کیا دیا؟ کیا میں نے کبھی روزمرہ زندگی کی مصروفیات سے کچھ دیر دامن چھڑا کر اس قرض کو دیانت داری سے پرکھنے کی کوشش کی؟

یہی سوال اسی سنجیدگی اور بے لاگ انداز میں ان اداروں سے بھی پوچھا جانا چاہیے جنہیں ریاست کے ستون بن کر قوم کی خدمت کرنا تھی، اور ان حکمرانوں اور صاحبانِ اختیار سے بھی جنہوں نے ان برسوں میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی۔ وہ اپنی امانت داری اور کارکردگی کا کیا حساب پیش کر سکتے ہیں؟ پارلیمان کو عوام کی آواز بننا تھا؛ عدالتوں کو انصاف کی پاسبان ہونا تھا؛ سول سروس کو انتظامِ مملکت کا مضبوط اور متوازن ہاتھ بننا تھا؛ جامعات کو فکر، علم اور کردار کی آبیاری گاہیں بننا تھا۔ کیا ان اداروں نے اپنے فرائض پوری وفاداری سے ادا کیے، یا کبھی کبھی یہ ذاتی مفادات، سیاسی مصلحتوں، گروہی کشمکش اور عوام کے اعتماد کو رفتہ رفتہ کھوکھلا کرنے کے مراکز بن گئے؟

جو حکمران یکے بعد دیگرے آئے، خواہ وہ سویلین تھے یا فوجی، سب نے ایک ہی ورثہ پایا—یہی مٹی، یہی لوگ اور یہی امیدیں۔ انہوں نے قومی خزانے میں انصاف، خوش حالی، خودداری اور قومی یکجہتی کے کتنے چراغ روشن کیے؟ قومی تاریخ کا آئینہ یک رنگ نہیں؛ اس میں کامیابیوں کی جھلک بھی ہے اور خلا کی ایسی لکیریں بھی جو دل کو دکھ سے بھر دیتی ہیں۔ کیا ہم نے بحیثیت قوم کبھی اپنے اجتماعی کردار کا حقیقی احتساب کیا؟ ایسا احتساب جو محض قومی دنوں کی تقریروں اور نعروں تک محدود نہ ہو بلکہ ضمیر کی عدالت میں بیٹھ کر اپنے اعمال کا سنجیدہ جائزہ لے؟ اور اگر کبھی ایسا حساب ہوا بھی تو کیا اس کے نتیجے میں ہمارے رویوں اور طریقِ کار میں کوئی حقیقی اصلاح آئی، یا سالگرہ کی تقریبات ختم ہوتے ہی ہم پھر انہی پرانی روشوں کی طرف لوٹ گئے؟

آخرکار، حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان ایک ریاست کی حیثیت سے کہاں کھڑا ہے؟

ہمارے پاس دریاؤں سے مالا مال سرزمین ہے، زرخیز میدان ہیں، عزم و حوصلے اور صلاحیت سے بھرپور لوگ ہیں، اور ایک ایسی جغرافیائی حیثیت ہے جسے قدرت نے خود شاید عالمی اہمیت کے لیے منتخب کیا ہے۔ اس کے باوجود ہم اب بھی غربت کے ان بوجھوں سے نبردآزما ہیں جو بے شمار گھروں کے چراغ مدھم کر دیتے ہیں۔ ملک کے بعض حصوں میں بدامنی کے سائے اب بھی موجود ہیں۔ ایسے اداروں کے درمیان توازن کی کشمکش جاری ہے جنہیں ایک دوسرے کا دست و بازو بننا چاہیے، اور ذاتی منفعت کو اجتماعی بھلائی پر ترجیح دینے کا رجحان بھی بار بار ہمارے راستے میں حائل ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب ہمارے بزرگوں نے یہ ملک ہمارے سپرد کیا تھا تو جو مقدس امانت انہوں نے ہمارے ہاتھوں میں رکھی، کیا ہم نے اسے محفوظ رکھا یا اپنی غفلت، خود غرضی اور باہمی کشمکش میں اسے رفتہ رفتہ ضائع کر دیا؟

یہ امانت معمولی نہ تھی۔ اس کا تقاضا تھا کہ ہم ظلم و جبر کے خلاف بیدار رہیں، معاملاتِ عامہ میں دیانت کو شعار بنائیں، نئی نسل کو صرف علم ہی نہیں بلکہ کردار بھی عطا کریں، اور چند افراد کے فائدے پر پوری قوم کی بھلائی کو مقدم رکھیں۔ دہائیوں پر پھیلے سفر پر نگاہ ڈالتے ہوئے دل مجبور ہو جاتا ہے کہ پوچھے: کیا ہم نے اس مطالبے کو اس کی پوری معنویت کے ساتھ نبھایا ہے؟

میں خود کو بھی اس احتساب سے مستثنیٰ نہیں سمجھتا۔

تقریباً چھ دہائیوں سے میں بھی اس قومی زندگی کے چشمے سے سیراب ہوتا آیا ہوں۔ مجھے قانون کا تحفظ ملا، کام کرنے اور اظہارِ خیال کا موقع ملا، اور سب سے بڑھ کر یہ سادہ مگر عظیم اعزاز ملا کہ میں اپنے آپ کو ایک آزاد ملک کا شہری کہہ سکوں۔ لیکن کیا میری خدمات ان نعمتوں کے برابر ہیں جو مجھے اس وطن سے ملیں؟ جس شعبے اور جس دائرۂ کار میں مجھے کام کرنے کا موقع ملا، کیا میں نے وہاں ریاست کے اس نظام کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جس کا میں حصہ تھا، یا کبھی دانستہ یا نادانستہ اسے کمزور کیا؟

کیا میں نے اس وقت سچ بولنے کی ہمت کی جب خاموش رہنا زیادہ آسان تھا؟ کیا میں نے اس وقت انصاف کا دامن تھاما جب جانبداری میرے لیے زیادہ فائدہ مند ہو سکتی تھی؟ کیا میں نے آنے والی نسل کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ آزادی کوئی ایسی میراث نہیں جسے محض خرچ کیا جائے، بلکہ یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جسے ہر نسل کو اپنے کردار، اپنے عمل اور اپنی قربانی سے ازسرِنو زندہ رکھنا پڑتا ہے؟

دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ہم میں سے ہر شخص ان سوالات کا جواب اپنے دل کی تنہائی میں تلاش کرے۔ اجتماعی بہانوں کی اوٹ لے کر یا ہمیشہ اپنے سے پہلے آنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرا کر ہم اپنے ضمیر کی عدالت سے فرار نہیں ہو سکتے۔

بس بہت ہو چکا۔ اب گریز کا وقت نہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ ہر شہری، خواہ وہ اقتدار کے ایوانوں میں ہو یا کسی معمولی گھر کی دہلیز پر، اور ان سطور کا لکھنے والا بھی، اپنے حصے کا ذاتی احتساب کرے۔ ہر شخص اپنے آپ سے پوچھے کہ اس نے اس وطن سے کیا لیا اور بدلے میں کیا لوٹایا۔ ادارے اپنے اپنے آئینی اور قومی مقاصد سے وفاداری کا حساب دیں۔ صاحبانِ اختیار اپنے فیصلوں کو پرکھیں کہ ان میں ریاست کے دیرپا مفاد کی جھلک تھی یا لمحاتی مصلحتوں اور وقتی مفادات کی۔

قومیں محض جشن منانے سے عظیم نہیں ہوتیں؛ وہ اپنے گریبان میں جھانکنے، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور پھر انہیں درست کرنے کی ہمت سے عظیم بنتی ہیں۔

اگر ہمیں اپنے بانیان کے اعتماد کی تجدید کرنی ہے، اگر ہمیں پاکستان کے وعدے کو آنے والی نسلوں کے لیے زندہ رکھنا ہے، تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر یہ حوصلہ پیدا کرنا ہوگا کہ ہم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے یہ سوال پوچھ سکیں:

پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ اور ہم نے پاکستان کو بدلے میں کیا لوٹایا؟

شاید اسی ایک سوال میں ہماری قومی زندگی کے اگلے سفر کی سمت بھی پوشیدہ ہے اور ہمارے اجتماعی ضمیر کی بیداری کا آغاز بھی۔