کوئٹہ میں تین روزہ پشتون قومی جرگہ اختتام پذیر، 19 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری
کوئٹہ (سید سردار محمد خوندئی سے)
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی کی زیر صدارت جنوبی پشتونخوا کا تین روزہ قومی جرگہ کوئٹہ میں اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ جرگہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی دعوت پر، 11 تا 14 مارچ 2022 کو منعقدہ بنوں جرگہ کے تسلسل میں 30، 31 اگست اور یکم ستمبر 2026 کو منعقد کیا گیا تھا۔ جرگے کا 19 نکاتی مشترکہ اعلامیہ محمود خان اچکزئی نے پیش کیا۔
یہ اختتام نہیں، نئی جدوجہد کا آغاز ہے: نواب ایاز جوگیزئی
جرگے کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ یہ جرگہ کسی اختتام کا نام نہیں بلکہ پشتون قوم کے پرامن، متحد اور باوقار مستقبل کی جدوجہد کا نیا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرگے کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قوم کو متحد اور ثابت قدم رہنا ہو گا۔ قومی بقا، امن، عزت، زمین اور وسائل کے تحفظ کے لیے تمام پشتونوں کا ایک صف میں کھڑا ہونا ناگزیر ہو چکا ہے۔
سماجی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شادیوں میں بھاری ولور اور بے جا اخراجات جیسی فرسودہ رسومات کا خاتمہ کیا جائے۔ بیٹیوں اور بیواؤں کو ان کے شرعی، قانونی اور وراثتی حقوق سے محروم رکھنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کو تعلیم، تحفظ اور فیصلہ سازی میں مناسب مقام دیے بغیر قومی ترقی کا تصور ناممکن ہے۔
نواب جوگیزئی نے کہا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال پشتون عوام آج بھی بجلی، گیس اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ سکولوں میں اساتذہ نہیں، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور ادویات ناپید ہیں۔ وسائل کے مالک عوام کو پسماندہ رکھنا کسی صورت منظور نہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں مقامی آبادی کو اس کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنے کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس کے اہم نکات یہ ہیں:
سیاسی و آئینی مطالبات: یہ جرگہ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو غیر منتخب اور غیر نمائندہ قرار دے کر ان کے خاتمے اور ملک میں نئے، آزادانہ، غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتا ہے۔ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کو آئین کی پامالی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا جاتا ہے۔ ملکی بحرانوں کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، عدلیہ، فوج، وکلاء اور تمام مکاتب فکر پر مشتمل قومی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔
امن و امان کی بحالی: جنوبی پشتونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مطالبہ کیا گیا کہ تمام اضلاع اور کوئٹہ، کراچی، چمن، ڈی آئی خان سمیت تمام قومی شاہراہوں سے ایف سی کو فوری طور پر ہٹا کر سویلین اتھارٹی کو بحال کیا جائے۔ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے لیویز کو فوری بحال کرکے جدید خطوط پر تربیت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ زیارت میں پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔
زمین اور وسائل کا تحفظ: معدنیات کے نام پر کوئٹہ، پشین، چمن، ژوب اور لورالائی سمیت مختلف اضلاع میں لاکھوں ایکڑ جدی پشتی اراضی غیر مقامی افراد اور فرموں کو الاٹ کرنے اور جنگلات کی 24 لاکھ ایکڑ اراضی سرکار کے نام منتقل کرنے کے عمل کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔ انویسٹمنٹ ایکٹ اور مائنز اینڈ منرلز ایکٹ میں ترامیم کو صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔
قومی حقوق اور نئے صوبے کا مطالبہ: بلوچستان میں پشتون بلوچ برابری تسلیم کی جائے یا سابق چیف کمشنر صوبے پر مشتمل جنوبی پشتونخوا کا نیا صوبہ قائم کیا جائے۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے پشتون خطوں کو ملا کر لسانی، تاریخی اور جغرافیائی بنیادوں پر ‘متحدہ پشتون یونٹ’ قائم کیا جائے۔
سرحدی تجارت اور دیگر فیصلے: ڈیورنڈ لائن پر چمن، طورخم، انگور اڈہ، بادینی اور غلام خان سمیت تمام 10 سے 12 تاریخی راستوں پر منشیات اور اسلحے کے علاوہ تمام اشیاء کی تجارت بحال کی جائے جو سرحدی عوام کا قانونی حق ہے۔ جرگے نے واضح کیا کہ وہ بلوچ قومی تحریک کا احترام کرتا ہے مگر پشتون علاقوں میں ٹرکوں کو جلانے، اغواء اور بھتہ خوری جیسی کارروائیوں کی سخت مذمت کرتا ہے جو محکوم اقوام میں نفرت پھیلانے کی سازش ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے خصوصی پشتون بلوچ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
اعلامیے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، علی وزیر، ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی، لاپتہ افراد کی بازیابی اور فورتھ شیڈول کی پالیسی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ سرکاری ملازمین کی مرضی کے خلاف بلوچ علاقوں میں جبری ٹرانسفر پوسٹنگ کو بھی مسترد کر دیا گیا۔
آخر میں اعلان کیا گیا کہ جرگے کے فیصلوں پر عملدرآمد اور پیش رفت کے مسلسل جائزے کے لیے تمام اضلاع میں جرگہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔

