اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں اسٹریٹجک گندم ذخائر کو صوبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی قرار دیتے ہوئے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے نے ماہرین اور زرعی شعبے کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ صرف تین ماہ قبل گندم کی نئی فصل کی کٹائی مکمل ہوئی تھی اور حکومت مسلسل دعویٰ کر رہی تھی کہ ملک میں گندم کی پیداوار سالانہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ پنجاب، جو پاکستان کا واحد گندم سرپلس صوبہ سمجھا جاتا ہے، اس نے بھی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے 10 لاکھ ٹن گندم کی طلب کی ہے۔ اس پیش رفت نے سرکاری اعداد و شمار اور گندم کی دستیابی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
پاکستان میں گندم کی درآمد کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مختلف مواقع پر سپلائی میں کمی یا اسٹریٹجک ذخائر کی بحالی کے لیے درآمدات کی جاتی رہی ہیں۔ تاہم اس مرتبہ درآمد کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صرف چند ہفتے قبل تک حکومت کا مؤقف تھا کہ رواں سیزن میں 2 کروڑ 98 لاکھ ٹن گندم پیدا ہوئی ہے، جبکہ گزشتہ سال کے 20 لاکھ ٹن سے زائد ذخائر بھی موجود ہیں، جو ملک کی سالانہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
مارکیٹ کی صورتحال بھی اس فیصلے کو غیر معمولی بناتی ہے۔ رواں سال پولٹری فیڈ انڈسٹری گندم استعمال نہیں کر رہی کیونکہ مکئی کی قیمت نسبتاً کم ہونے کے باعث پولٹری سیکٹر اسی کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کے ساتھ سرحد بھی بڑی حد تک بند رہی، جس کی وجہ سے نہ تو باضابطہ برآمدات ہوئیں اور نہ ہی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اس کے باوجود گندم کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فصل کی کٹائی کے بعد 40 کلو گرام گندم کی قیمت تقریباً 3,300 روپے سے بڑھ کر 4,700 روپے تک پہنچ گئی، جو موجودہ درآمدی قیمت سے بھی زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ غیر معمولی اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طلب اور رسد کے درمیان واضح عدم توازن موجود ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال سرکاری گندم پیداوار کے تخمینوں، اسٹریٹجک ذخائر کی حقیقی مقدار اور ملک میں گندم کی خریداری و تقسیم کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری اعداد و شمار درست تھے تو اتنی جلد درآمد کی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ اگر ذخائر ناکافی تھے تو اس کی بروقت نشاندہی کیوں نہیں کی گئی۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ شفاف اعداد و شمار، مؤثر منصوبہ بندی اور مضبوط سپلائی چین ہی مستقبل میں غذائی تحفظ کو یقینی بنا سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ اگرچہ فوری طور پر مارکیٹ میں سپلائی بہتر بنانے اور قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم اس نے ملکی زرعی پالیسی اور گندم کے انتظامی نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔



