Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

بینکاک: تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے قریب واقع ایک اسکول میں جمعہ کو پیش آنے والے ہولناک فائرنگ کے واقعے میں 14 سالہ طالب علم نے اپنے دادا دادی کو قتل کرنے کے بعد اسکول میں اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ حملہ آور نے بعد ازاں خود کو بھی گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ڈیبسرین نونتھابوری اسکول میں پیش آیا، جہاں حملہ آور نے کم از کم 26 گولیاں چلائیں۔ اس کے قبضے سے مزید 34 کارتوس بھی برآمد ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ استعمال ہونے والا اسلحہ اس کے دادا کی ملکیت تھا۔

فائرنگ کے بعد اسکول میں خوف و ہراس پھیل گیا اور طلبہ جان بچانے کے لیے عمارت سے باہر نکل آئے، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر ایمبولینسوں کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔ جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی تصاویر میں زخمی افراد کو طبی امداد دیتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ اساتذہ ایک دوسرے کو گلے لگا کر روتے ہوئے نظر آئے۔

پولیس ترجمان لیفٹیننٹ جنرل ٹرائرونگ فوفان نے بتایا کہ حملہ آور سمیت مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں طلبہ اور اساتذہ دونوں شامل ہیں۔

ایک 18 سالہ طالب علم نے بتایا کہ ابتدا میں اسے لگا جیسے پٹاخے چل رہے ہوں یا کوئی چیز زور سے ٹکرا رہی ہو، لیکن مسلسل فائرنگ کی آوازوں کے بعد صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔

ریسکیو اہلکار کیاٹیکھن ویراپونگ پردت نے بتایا کہ جب ان کی ٹیم موقع پر پہنچی تو فائرنگ جاری تھی۔ امدادی کارکنوں نے پیٹھ، سینے اور بازوؤں پر گولی لگنے والے متعدد طلبہ کو طبی امداد فراہم کی۔ عمارت کی بالائی منزل پر ایک مرد استاد مردہ حالت میں ملا، جبکہ ایک خاتون استاد شدید زخمی حالت میں پائی گئیں۔

ریسکیو اہلکار کے مطابق کچھ دیر بعد ایک آخری گولی چلنے کی آواز سنائی دی، جس کے بعد ٹیم حملہ آور تک پہنچی۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکے نے اپنے سر میں گولی مار لی تھی اور اس کی نبض ابھی چل رہی تھی، جس پر اسے سی پی آر دے کر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم بعد میں وہ دم توڑ گیا۔

تھائی لینڈ کے وزیر تعلیم پراسرت جانتاراروئنگتونگ نے تصدیق کی کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں طلبہ اور اساتذہ دونوں شامل ہیں۔ پولیس نے بھی تصدیق کی کہ حملہ آور اسی اسکول کا طالب علم تھا۔

یہ رواں سال تھائی لینڈ میں اسکول کے اندر پیش آنے والا دوسرا فائرنگ کا واقعہ ہے۔ اس سے قبل فروری میں ملک کے جنوبی علاقے میں ایک اسکول پر حملے میں ایک استاد ہلاک جبکہ ایک طالب علم زخمی ہوا تھا۔

وزیراعظم اناتین چرنویراکول نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “یہ انتہائی افسوسناک سانحہ ہے۔ ہم قیمتی جانوں کے ضیاع پر غمزدہ ہیں اور ایسے واقعات کی ہمارے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔”

تھائی لینڈ میں اسلحے کی ملکیت اور اس سے متعلق پرتشدد واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ 2022 میں ایک سابق پولیس اہلکار نے نرسری پر حملہ کر کے 36 افراد کو قتل کر دیا تھا، جن میں 22 بچے بھی شامل تھے۔ 2023 میں ایک 14 سالہ نوجوان نے بینکاک کے ایک شاپنگ مال میں فائرنگ کر کے دو افراد کو قتل اور پانچ کو زخمی کر دیا تھا۔

ان واقعات کے بعد تھائی حکومت نے اسلحہ لائسنس کے اجرا پر سخت پابندیاں، درآمدی کنٹرول اور کم عمر افراد کے شوٹنگ رینجز میں داخلے پر پابندی سمیت متعدد اصلاحات متعارف کرائی تھیں۔ اس کے باوجود حالیہ واقعہ نے ایک بار پھر ملک میں اسلحے کے پھیلاؤ اور اسکولوں کی سیکیورٹی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔