Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے سرکاری اسپتالوں کے لیے روبوٹک سرجیکل سسٹمز کی مبینہ طور پر زائد قیمت پر خریداری کے خلاف دائر دو یکساں آئینی درخواستیں نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس معاملے سے متعلق شکایت پہلے ہی قومی احتساب بیورو (نیب) کے نوٹس میں لائی جا چکی ہے، جبکہ مشینوں کی خریداری اور تنصیب مکمل ہونے کے بعد درخواستوں کی بنیادی استدعا بھی غیر مؤثر ہو چکی ہے۔

جسٹس یوسف علی سعید کی سربراہی میں قائم دو رکنی آئینی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متعلقہ سرکاری اسپتالوں میں روبوٹک سرجیکل مشینیں نصب اور فعال کی جا چکی ہیں، اس لیے خریداری کا عمل منسوخ کرنے یا روکنے کی درخواست اب قابلِ عمل نہیں رہی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ آیا یہ مشینیں واقعی غیر معمولی یا مبالغہ آمیز قیمتوں پر خریدی گئیں یا نہیں، اس کا فیصلہ آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے لیے شواہد، تحقیقات اور حقائق کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔

یہ دونوں درخواستیں خواجہ محمود آفریدی نے 2024 میں دائر کی تھیں، جن میں چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری صحت، دو نجی کمپنیوں اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ لیاقت یونیورسٹی اسپتال (LUH) اور دیگر سرکاری طبی مراکز کے لیے روبوٹک سرجیکل سسٹمز کی خریداری میں بے ضابطگیاں کی گئیں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ خریداری کے پورے عمل کو کالعدم قرار دیا جائے اور سندھ حکومت کو ہدایت کی جائے کہ سرکاری اسپتالوں کی اپ گریڈیشن کے لیے ضروری طبی مشینری اور آلات شفاف طریقے سے خریدے جائیں۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے عوامی مفاد میں یہ معاملہ اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ روبوٹک سرجیکل مشینیں مارکیٹ ریٹ سے کہیں زیادہ قیمت پر خریدی گئیں، تاہم عدالت کے سامنے یہ بھی بتایا گیا کہ ان خریداریوں میں سے ایک کے حوالے سے شکایت پہلے ہی ڈی جی نیب کو بھیجی جا چکی ہے۔

بینچ نے قرار دیا کہ چونکہ معاملہ متعلقہ احتساب ادارے کے سامنے موجود ہے، اس لیے درخواست گزار چاہے تو اپنی شکایت کی مزید پیروی نیب کے سامنے کر سکتا ہے۔ اگر نیب کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کی جائے تو وہ قانون کے مطابق مناسب قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہے۔

درخواست گزار نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ درآمدی دستاویزات کے مطابق ایک روبوٹک سرجیکل سسٹم کی قیمت تقریباً 37 ہزار 500 امریکی ڈالر ظاہر کی گئی تھی، جبکہ سندھ حکومت اسے 15 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد میں خریدنے جا رہی تھی، جس سے مبینہ طور پر سپلائر کو 1,500 فیصد سے زیادہ منافع حاصل ہونا تھا۔

دوسری جانب لیاقت یونیورسٹی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ روبوٹک سرجیکل سسٹمز کی قیمت سندھ حکومت نے تمام قانونی اور ضابطہ جاتی تقاضے مکمل کرنے کے بعد منظور کی تھی، لہٰذا خریداری کا عمل قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیا گیا۔

عدالت نے درخواستیں نمٹاتے ہوئے واضح کیا کہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور قیمتوں کے تعین کا معاملہ متعلقہ احتسابی ادارے کا دائرہ اختیار ہے، نہ کہ آئینی عدالت کا۔