محکمہ موسمیات نے مکمل سورج گرہن کا شیڈول جاری کر دیا، یورپ اور چند دیگر ممالک میں دلکش فلکیاتی منظر دیکھا جا سکے گا، جبکہ پاکستان میں جزوی چاند گرہن بھی نظر نہیں آئے گا۔
کراچی: پاکستان محکمہ موسمیات (PMD) نے اعلان کیا ہے کہ سال 2026 کا آخری مکمل سورج گرہن 12 اور 13 اگست کی درمیانی شب رونما ہوگا، تاہم یہ فلکیاتی مظہر پاکستان میں کہیں بھی نظر نہیں آئے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس نایاب فلکیاتی واقعے کو یورپ اور دنیا کے چند دیگر حصوں میں لاکھوں افراد براہ راست دیکھ سکیں گے۔
پی ایم ڈی کے مطابق مکمل سورج گرہن کا آغاز 12 اگست رات 8 بج کر 34 منٹ (پاکستانی وقت) پر ہوگا، یہ 10 بج کر 46 منٹ پر اپنے عروج پر پہنچے گا جبکہ 13 اگست رات 12 بج کر 58 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا۔
کن ممالک میں مکمل سورج گرہن دکھائی دے گا؟
محکمہ موسمیات کے مطابق گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین اور روس کے مختلف علاقوں میں مکمل سورج گرہن واضح طور پر دیکھا جا سکے گا، جبکہ یورپ، افریقہ اور شمالی و جنوبی امریکہ کے کئی علاقوں میں جزوی سورج گرہن نظر آئے گا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق یہ واقعہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ 2006 کے بعد پہلی مرتبہ یورپ کے مرکزی حصوں میں مکمل سورج گرہن دیکھا جائے گا۔
مکمل سورج گرہن کیا ہوتا ہے؟
مکمل سورج گرہن اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے اور سورج کی روشنی کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے۔ اس دوران چاند کا سایہ زمین کے ایک محدود حصے پر پڑتا ہے، جس سے چند لمحوں کے لیے دن رات یا گہری شام میں تبدیل ہوتا محسوس ہوتا ہے۔
اس نادر لمحے میں سورج کا بیرونی روشن ہالہ، جسے کورونا (Corona) کہا جاتا ہے، واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ یہی منظر دنیا بھر کے فلکیات دانوں اور شوقین افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
یہ سورج گرہن کیوں خاص ہے؟
ماہرین کے مطابق ہر سال دنیا میں ایک یا دو سورج گرہن ضرور آتے ہیں، لیکن مکمل سورج گرہن کسی مخصوص مقام پر بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ چاند کا مکمل سایہ زمین کے صرف ایک تنگ راستے سے گزرتا ہے۔
اسی وجہ سے کئی ممالک میں مکمل سورج گرہن دیکھنے کے لیے لوگوں کو کئی دہائیوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔
آئندہ مکمل سورج گرہن کب ہوگا؟
محکمہ موسمیات کے مطابق 2 اگست 2027 کو ایک اور تاریخی مکمل سورج گرہن جنوبی اسپین، شمالی افریقہ اور جزیرہ نما عرب سے گزرے گا۔
اس گرہن کی مکمل مدت 6 منٹ 23 سیکنڈ ہوگی، جو رواں صدی کے طویل ترین مکمل سورج گرہنوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ طویل دورانیے والا مکمل سورج گرہن اب سال 2114 میں ہی دیکھنے کو ملے گا۔
اس کے بعد 26 جنوری 2028 کو اسپین میں حلقہ نما سورج گرہن (Ring of Fire) بھی دیکھا جائے گا، جس میں چاند سورج کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپتا بلکہ سورج کے گرد آگ کے دائرے جیسا منظر دکھائی دیتا ہے۔
28 اگست کو جزوی چاند گرہن بھی ہوگا
پاکستان محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ 28 اگست کو جزوی چاند گرہن بھی رونما ہوگا، تاہم یہ فلکیاتی منظر بھی پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔
احتیاطی ہدایات جاری
ماہرین فلکیات نے خبردار کیا ہے کہ مکمل سورج گرہن یا جزوی سورج گرہن کے دوران عام چشموں یا بغیر حفاظتی فلٹر کے سورج کو براہ راست دیکھنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔
انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ صرف بین الاقوامی معیار کے Eclipse Glasses یا منظور شدہ سولر فلٹرز استعمال کیے جائیں، کیونکہ براہ راست سورج کو دیکھنے سے آنکھوں کی بینائی مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
فلکیات کے ماہرین کے مطابق مکمل سورج گرہن نہ صرف ایک دلکش قدرتی منظر ہوتا ہے بلکہ یہ سائنسی تحقیق کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس دوران سائنس دان سورج کے بیرونی ماحول (Corona) کا مشاہدہ کرتے ہیں، جس سے سورج کی ساخت، مقناطیسی میدان اور شمسی سرگرمیوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔


