Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

کراچی: کراچی کی ایک عدالت نے مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے خلاف درج قتل کے مقدمے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے پولیس کی چالان رپورٹ منظور کر لی، جس کے بعد قتل کی دفعہ ختم کرکے مقدمہ قتلِ سبب (Qatl-bis-Sabab) میں تبدیل کر دیا گیا۔

تفتیشی افسر نے جوڈیشل مجسٹریٹ (جنوبی) کی عدالت میں حتمی چالان جمع کراتے ہوئے سفارش کی تھی کہ پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 302 کے تحت قتل کے الزام کو ختم کرکے دفعہ 322 کے تحت قتلِ سبب کی کارروائی کی جائے۔

پولیس کے مطابق یہ فیصلہ کراچی یونیورسٹی کی کیمیائی تجزیاتی رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ نامعلوم شخص کی موت کسی حملے کے بجائے منشیات کے زیادہ استعمال (Drug Intoxication) کے باعث واقع ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر بغدادی تھانے میں قتل کا مقدمہ اس وقت درج کیا گیا تھا جب ایک نامعلوم شخص کی لاش فٹ پاتھ سے برآمد ہوئی۔ تفتیش کے دوران مقتول کی جیب سے ایک چھوٹا ڈبہ ملا جس پر انمول عرف پنکی کا نام درج تھا، جس کی بنیاد پر تقریباً ایک ماہ بعد قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔

حکام کے مطابق اب تک مقتول کی شناخت نہیں ہو سکی، جبکہ اس حوالے سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ 322 (قتلِ سبب) کے تحت اگر ملزمہ پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اسے قید کے بجائے مقتول کے قانونی ورثا کو دیت ادا کرنے کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ پولیس نے مئی 2026 میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کی انتہائی مطلوب مبینہ منشیات فروشوں میں شامل ہے اور کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اعلیٰ معیار کی کوکین کی تیاری اور ترسیل کے منظم نیٹ ورک سے وابستہ رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور دیگر متعلقہ مقدمات کی تحقیقات بھی جاری ہیں، جبکہ عدالت میں قتلِ سبب کے تحت مقدمے کی آئندہ سماعت مقرر کی جائے گی۔