Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

ماسکو: جنوبی روس کے بحیرہ اسود کے ساحلی شہر گیلینژک (Gelendzhik) میں ایک مصروف ساحل پر مبینہ طور پر یوکرینی ڈرون کا ملبہ گرنے سے کم از کم 7 افراد ہلاک جبکہ 58 افراد زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ یہ حالیہ ہفتوں میں روس میں ڈرون حملوں سے متعلق پیش آنے والے مہلک ترین واقعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

روسی حکام کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز پیش آیا، جب ساحل پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

بچوں سمیت متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے

روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس (TASS) نے بچوں کے حقوق کے کمشنر کے حوالے سے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے سات افراد میں چار بچے بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق واقعے میں 58 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے متعدد اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ڈرون کا ملبہ ساحل پر گرا، گورنر

کراسنودار ریجن کے گورنر وینیامین کوندراتیف نے بتایا کہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب بغیر پائلٹ طیارے (یو اے وی) کا ملبہ ساحل پر آ گرا۔

انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کر رہی ہے۔

واقعے کی وجوہات تاحال واضح نہیں

روسی حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ڈرون کو روسی فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا تھا جس کے بعد اس کا ملبہ ساحل پر گرا، یا پھر ڈرون خود ہی بے قابو ہو کر ساحل پر آ گرا۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ویڈیو میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں

واقعے کی منظر عام پر آنے والی ویڈیوز کے تجزیے کے مطابق دھماکے سے چند لمحے قبل خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ ڈرون اچانک اپنا رخ تبدیل کرتا ہے اور ساحل کی جانب نیچے آ گرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈرون ساحل کے قریب واقع ایک روسی ریڈار تنصیب کے اوپر سے گزرتے ہوئے زمین سے ٹکرایا۔

تاہم روسی حکام نے ویڈیو میں دکھائی گئی تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

روس یوکرین جنگ میں ڈرون حملوں میں اضافہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کے فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال کر رہے ہیں، تاہم حالیہ واقعے نے شہری علاقوں اور سیاحتی مقامات کی سلامتی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔

روسی حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ زخمیوں کے علاج اور متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔