Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے اسپن کاریز میں واقع ایک نجی کوئلہ کان میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 34 کان کن جاں بحق ہو گئے، جبکہ متعدد مزدوروں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکہ کان میں میتھین گیس جمع ہونے کے باعث ہوا، جس سے کان کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا اور درجنوں مزدور ملبے تلے دب گئے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے مطابق دھماکے کے وقت کان کے اندر 41 کان کن موجود تھے۔ اب تک 34 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ باقی مزدوروں تک پہنچنے کے لیے امدادی ٹیمیں مسلسل کارروائی کر رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ تقریباً 2,500 سے 3,000 فٹ گہرائی میں ہوا، جس کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی پیچیدہ اور خطرناک بن گیا۔

چیف انسپکٹر آف مائنز محمد عاطف نے بتایا کہ دھماکے سے کان کا متبادل وینٹیلیشن شافٹ بھی تباہ ہو گیا، جو زیرِ زمین کام کرنے والے مزدوروں کو آکسیجن اور تازہ ہوا فراہم کرتا تھا۔ اس نقصان کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں اور ریسکیو اہلکار انتہائی احتیاط کے ساتھ کان کے اندر پیش قدمی کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے بیشتر کان کنوں کا تعلق ضلع شانگلہ، خیبرپختونخوا سے ہے۔ شناخت اور قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد 11 مزدوروں کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سانحے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ معدنیات و کان کنی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ حادثے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

صوبائی وزیر معدنیات شعیب نوشیروانی نے جاں بحق کان کنوں کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر جاں بحق مزدور کے ورثا کو 5 لاکھ روپے جبکہ ہر زخمی مزدور کو 3 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔

پاکستان، خصوصاً بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے حادثات ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ مزدور تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے طویل عرصے سے مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ کان کنی کے شعبے میں حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد، جدید وینٹیلیشن نظام، باقاعدہ حفاظتی معائنہ اور مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں قیمتی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔ حالیہ کوئٹہ کوئلہ کان دھماکہ ایک بار پھر کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کو مؤثر بنانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔