ریاض: سعودی عرب نے باب المندب کی اہم آبی گذرگاہ میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے 14 ممالک پر مشتمل بحری دفاعی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں اور مملکت کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔
سعودی وزارت دفاع کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اتحاد کا مقصد باب المندب میں بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ، سمندری سلامتی کو مضبوط بنانے اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی ایک اہم آبی گذرگاہ ہے، جہاں سے دنیا بھر میں تیل اور تجارتی سامان کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد سعودی عرب کے لیے باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ مملکت کی تیل برآمدات کا بڑا حصہ اب اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
اس اتحاد میں سعودی عرب، پاکستان، بحرین، بنگلہ دیش، جبوتی، مصر، اردن، کویت، نائجیریا، قطر، صومالیہ، سوڈان، ترکی اور یمن شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق رکن ممالک سمندری نگرانی، مشترکہ تعاون اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں گے تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔



