آزاد کشمیر میں نہتے شہریوں پر گولی چلانے کی شدید مذمت کرتے ہیں، بلوچستان میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی: محمود خان اچکزئی
کوئٹہ( سید سردار محمد خوندئی )
آئین تحفظ پاکستان کے سربراہ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں نہتے شہریوں پر گولی چلانے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
کوئٹہ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں اور مقتدرہ پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس طرح کے ظلم و بربریت سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مسائل کا حل صرف وہاں کے عوام کے ساتھ مل بیٹھ کر ہی نکالا جا سکتا ہے، جس کے لیے آئین تحفظ پاکستان اور مولانا فضل الرحمان نے کوششیں کیں مگر انہیں جانے نہیں دیا گیا۔
بلوچستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں حکومت کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، کسی کی جان و مال محفوظ نہیں اور تمام راستے بدمعاشوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں آزادی کے متوالوں سے کہتا ہوں کہ آپ کے علاقوں میں ایسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں جن میں غریب پشتونوں کی گاڑیوں کو جلایا جائے اور انہیں تنگ کیا جائے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون وطن کی الاٹمنٹ کسی صورت قابل قبول نہیں، اس کی ایک ایک فٹ زمین کی تقسیم قبائلی روایات کے مطابق ہوئی ہے۔ معدنیات پر اس طرح قبضہ کرنا ہرگز قبول نہیں۔ مختلف علاقوں میں مسلح جتھوں کو چھوڑ کر عوام کو تنگ کیا جا رہا ہے اور علاقے میں بدامنی پھیلائی جا رہی ہے، جس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جنوبی پشتونخوا میں پیش آنے والے دلخراش واقعات کی روک تھام اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے 29، 30 اور 31 اگست کو کوئٹہ میں پشتون قومی جرگہ منعقد کیا جائے گا جس میں تمام پشتون شریک ہوں گے۔
اس موقع پر پشتون قومی جرگہ کے کنوینر نواب محمد ایاز خان جوگیزئی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی و صوبائی عہدیداران اور سینکڑوں کارکنان بھی موجود تھے۔
عمران خان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں تین سال کی مدت مکمل ہو رہی ہے، اس سلسلے میں پورے پاکستان میں پرامن احتجاج کیا جائے گا۔



