پٹرولیم ڈارک نیٹ ورک: سٹوریج اور سیل کے درمیان لاپتا اربوں روپے اور عوام پر اس کا قہر
پاکستان کا پٹرولیم سیکٹر ایک ایسے سنگین نظامی بحران کا شکار ہے جس کی جڑیں پٹرول پمپس پر سٹوریج اور سیل کے درمیان فرق کو ریکارڈ کرنے کے لیے کسی موثر نظام کی عدم موجودگی میں پیوست ہیں، یہ فرق نہ صرف ٹیکس چوری کا سب سے بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے بلکہ پٹرولیم ڈیلرز کو حکومت اور عوام کو بلیک میل کرنے کا موقع بھی فراہم کر رہا ہے، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی مشترکہ تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ پٹرولیم سیکٹر میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے جس کی بنیادی وجہ پٹرول پمپس کے زیر زمین ٹینکوں میں موجود ایندھن اور نوزل کے ذریعے فروخت ہونے والے ایندھن کے درمیان فرق کو ریکارڈ کرنے کے لیے کوئی خودکار اور شفاف نظام موجود نہیں، حکومت نے اوگرا کا ڈیجیٹل ڈیش بورڈ متعارف کرایا ہے جو ڈپو سے لے کر ریٹیل آؤٹ لیٹس تک سٹاک کی سطح، فروخت، اور سپلائی کی شرائط کی ریئل ٹائم مرئیت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ فروخت، انوینٹری، اور طلب میں ہونے والی تبدیلیوں کو ٹریک کیا جا سکے، لیکن کیبنٹ کمیٹی برائے پٹرول پرائسز نے تسلیم کیا کہ بارہ ہزار سے زائد پٹرول پمپس سے ڈیٹا رپورٹنگ مطلوبہ سطح سے بہت کم ہے جس کی وجہ سے یہ ڈیش بورڈ اپنا مکمل کردار ادا نہیں کر پا رہا، پٹرولیم سیکٹر میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پٹرول پمپ کے ٹینک میں موجود ایندھن کی مقدار اور نوزل کے ذریعے فروخت کی جانے والی مقدار کے درمیان فرق کو ریکارڈ کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں، جدید ٹیکنالوجی میں ڈیجیٹل ڈسپنسنگ نوزلز اور آٹومیٹک ٹینک گیجز دستیاب ہیں جو خودکار طور پر ایندھن کی مقدار کو ریکارڈ اور مانیٹر کر سکتے ہیں اور زیر زمین ٹینکوں میں ایندھن کی حقیقی مقدار کو جانچ سکتے ہیں، لیکن ان ٹیکنالوجیز کو وسیع پیمانے پر نافذ نہیں کیا گیا، اگر یہ نظام مکمل طور پر فعال ہو جائے تو پمپ کے سٹوریج اور سیل کے درمیان کوئی بھی غیر معمولی فرق جیسے لیکیج، چوری، یا کیلیبریشن کی غلطی مہینے کے آخر تک انتظار کیے بغیر فوری طور پر ظاہر ہو جائے گا، ایف آئی اے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ کسٹمز بانڈڈ گوداموں میں رکھی گئی پٹرولیم مصنوعات کو بغیر ڈیوٹی ادا کیے فروخت کیا گیا، ایک اہم کیس میں گیس اینڈ آئل پاکستان لمیٹڈ اور ٹرمینل ون لمیٹڈ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جس میں الزام ہے کہ انہوں نے کسٹمز بانڈڈ پٹرولیم مصنوعات کو بغیر ایکس بانڈ گڈز ڈیکلریشن فائل کیے اور بغیر ڈیوٹی اور لیوی ادا کیے فروخت کیا، اس اسکیم کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً چھ ارب روپے کا نقصان پہنچا اور تقریباً اڑتالیس اعشاریہ چھ ملین لیٹر پٹرولیم مصنوعات کے لیے ریکارڈز، فزیکل سٹاک اور سپلائی چین دستاویزات میں تضادات پائے گئے، پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو خبردار کیا کہ بعض عناصر سالوینٹ آئل کو پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل میں ملا رہے ہیں تاکہ غیرقانونی منافع کما سکیں، سالوینٹ آئل نمایاں طور پر سستا ہے اور اس پر ٹیکس کا مختلف نظام لاگو ہوتا ہے، اس ملاوٹ کے نتیجے میں گاڑیوں کے انجنوں کو نقصان پہنچتا ہے، صارفین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، اور حکومت کو ٹیکس ریونیو کا بڑا نقصان ہوتا ہے، تحقیقات میں پانچ سو فرضی پٹرول پمپس کا پتہ چلا جو زیادہ تر سال بند رہے لیکن جب حکومت نے ایران امریکہ تنازع کے دوران پرائس ڈیفرنشل سبسڈی کا اعلان کیا تو یہ پمپس اچانک فعال ہو گئے اور اربوں روپے کی جعلی فروخت کے دعوے جمع کروائے، اوگرا نے ان پٹرول پمپس کے مالکان کو اٹھارہ ماہ کے بجلی کے بل فراہم کرنے کو کہا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا یہ اسٹیشنز باقاعدہ طور پر چل رہے تھے یا صرف سبسڈی کی مدت کے دوران فعال ہوئے، تاہم بہت سے مالکان نے بجلی کے بل جمع نہیں کرائے اور دعویٰ کیا کہ ان کے پٹرول پمپس مکمل طور پر سولر پاور پر چل رہے ہیں، ایف آئی اے نے پرائس ڈیفرنشل کلیمز کی ادائیگی کے میکانزم کو ناقص اور غیر معقول قرار دیا ہے، تحقیقات کے مطابق یہ نظام کمپنیوں کو پرانے سٹاک پر معاوضہ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے جو ریفائنری قیمتوں میں اضافے سے متاثر نہیں ہوئے تھے، پی ڈی سی کا حساب فروخت کے حجم کی بنیاد پر کیا جاتا تھا نہ کہ ریفائنری خریداری کی بنیاد پر اور اوگرا نے پرانے اور سستے انوینٹریز کو نظر انداز کیا، ایک مثال میں دو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے چودہ سے بیس مارچ دو ہزار چھبیس کی مدت کے دوران نہ تو مقامی ریفائنریوں سے مصنوعات خریدیں اور نہ ہی پٹرولیم درآمد کیا لیکن پھر بھی بالترتیب پندرہ اعشاریہ چھ ملین اور پندرہ اعشاریہ نو ملین روپے کے کلیمز فائل کیے جو پروسیس اور ڈسبرس کر دیے گئے، پٹرولیم ڈیلرز کی ایسوسی ایشنز نے متعدد بار ہڑتالوں کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالا ہے، جولائی دو ہزار چھبیس میں آل پاکستان پیٹرولیم پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے پندرہ ہزار پٹرول اسٹیشنز بند کرنے کی دھمکی دی، ڈیلرز کے اہم مطالبات میں روزانہ پٹرولیم پرائسنگ کے نظام کی مخالفت، ڈیلرز کمیشن میں موجودہ آٹھ اعشاریہ چونسٹھ روپے فی لیٹر سے پچیس روپے فی لیٹر یعنی آٹھ فیصد منافع تک اضافہ، اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی سپلائی کوٹہ ختم کرنا شامل تھے، ان ہڑتالوں سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جسے ماہرین نے عوام کو بلیک میل کرنے کا طریقہ کار قرار دیا ہے، فیصل آباد اور سوات میں پٹرول پمپس بند ہونے سے شہریوں کو لمبی قطاروں اور ایندھن کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، ایک رپورٹ کے مطابق پٹرول پمپ مالکان ہر پندرہ دن بعد عوام کو بلیک میل کرتے ہیں، اپنے بیس فیصد پمپس کھول کر لمبی قطاریں لگاتے ہیں، کریڈٹ کارڈز قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں، اور ایندھن کی ریٹنگ کرتے ہیں صرف قیمت میں اضافے سے فائدہ اٹھانے کے لیے کیونکہ ان کے ٹینکوں میں ستر سے اسی فیصد ایندھن بطور سٹاک موجود ہوتا ہے جو اگلے دن نئی قیمت پر فروخت ہوتا ہے، پاکستان ٹوڈے کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے پہلے پٹرول پمپس کا بند ہونا ایک انوینٹری گین کا طریقہ کار ہے، جب حکومت پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتی ہے تو پمپ مالکان کو اپنے زیرزمین ٹینکوں میں موجود پرانے سٹاک پر منافع ہوتا ہے، ایک چھوٹے اسٹیشن پر دس ہزار لیٹر بقیہ سٹاک پر ایک رات کا منافع تیرہ لاکھ ستر ہزار روپے بنتا ہے، درمیانہ اسٹیشن پر پچیس ہزار لیٹر پر تینتالیس لاکھ تیس ہزار روپے بنتا ہے، اور بڑے اسٹیشن پر پچاس ہزار لیٹر پر چھیاسی لاکھ ساٹھ ہزار روپے بنتا ہے، اس حساب سے ایک بڑے پمپ کے لیے رات دس بجے سے بارہ بجے تک کھلا رہنے کے بجائے بند رہنا زیادہ منافع بخش ہے کیونکہ پانچ ہزار لیٹر فروخت کرنے پر قانونی کمیشن صرف چھیالیس ہزار پانچ سو پچاس روپے بنتا ہے جبکہ وہی ایندھن بچا کر رکھنے پر چھ سو چھیاسی ہزار ایک سو پچاس روپے کا منافع ہوتا ہے، موجودہ نظام میں معلومات کا عدم توازن ہے ڈیلر کو اپنے ٹینک کی سطح کا علم ہے جبکہ ریگولیٹر اندازہ لگا رہا ہے، اس وقت تک جب تک ریاست فزیکل چیکس پر انحصار کرتی رہے گی ڈیلرز ہمیشہ جیتتے رہیں گے، حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور غیرقانونی سٹوریج کو روکنے کے لیے مشترکہ ٹیموں کی تشکیل کی ہدایت کی جن میں پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، ایف آئی اے، اور پاکستان اسٹیٹ آئل کے نمائندے شامل ہوں گے، یہ ٹیمیں اسلام آباد میں منتخب پی ایس او پمپس پر تعینات کی جائیں گی تاکہ بروقت ڈیٹا انٹری، سٹاک کی شفافیت، اور آپریشنل تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے، پٹرولیم ایکٹ انیس سو چونتیس میں ترامیم کی گئی ہیں جن میں غیر قانونی فروخت، اسٹوریج اور ٹرانسپورٹیشن پر سخت جرمانے اور ضبطی کی دفعات شامل ہیں، اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کی مشترکہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں اسٹریٹجک اور کمرشل اسٹوریج کی کمی معیشت کو سپاٹ مارکیٹ کے حوالے کر دیتی ہے اور توانائی کی حفاظت قومی سلامتی کا سنگ بنیاد ہے جس کے لیے اسٹوریج انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے، ریپبلک پالیسی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا توانائی بحران قیمتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ آرکیٹیکچر کا مسئلہ ہے، رپورٹ میں مسابقتی مارکیٹس قائم کرنے، ایندھن کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے، آئی ایف ای ایم اور فریٹ ایکویلائزیشن کو مرحلہ وار ختم کرنے، اوگرا کو ایک حقیقی طور پر آزاد ریگولیٹر بنانے جس کے پاس قابل نفاذ لائسنسنگ اور شفاف ٹیرف کا تعین کرنے کے اختیارات ہوں، اور ایک قومی ڈیٹا پلیٹ فارم قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو عوام کو سٹاک، درآمدات، اور سرکلر ڈیٹ کے بارے میں ایماندارانہ اعداد و شمار فراہم کرے، حکومت کا اقتصادی تبدیلی کا منصوبہ پٹرولیم سیکٹر میں سرکلر ڈیٹ کو حل کرنے اور مالیاتی استحکام کو بحال کرنے پر مرکوز ہے جس کے تحت شفاف قیمتوں کے تعین کے میکانزم کا نفاذ، سرکلر ڈیٹ کے تصفیے کا منصوبہ، ایل این جی درآمدات کا موثر انتظام، اور تکنیکی اور مالیاتی رساؤ کو کم کرنا شامل ہیں، پٹرولیم سیکٹر میں ٹیکس چوری اور نظامی بدعنوانی کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا سالانہ نقصان ہو رہا ہے، اگر حکومت پٹرول پمپس پر سٹوریج اور سیل کے درمیان فرق کو ریکارڈ کرنے کے لیے ڈیجیٹل نظام مکمل طور پر نافذ کر لے تو ٹیکس چوری پر قابو پا کر درست ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی شرحیں کم کرنے کا موقع ملے گا کیونکہ ٹیکس چوری کے خاتمے سے ریونیو میں اضافہ ہو گا اور حکومت کو اپنے مالی اہداف پورے کرنے کے لیے عوام پر بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں رہے گی، موجودہ نظام میں ٹیکس چوری کی وجہ سے حکومت کو ریونیو کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے لیوی کی شرحیں زیادہ رکھنی پڑتی ہیں جس کا بوجھ براہ راست عام صارفین پر پڑتا ہے، اگر پٹرولیم سیکٹر میں شفافیت آ جائے اور ہر لیٹر فروخت کا درست ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہو تو ٹیکس نیٹ بیس بڑھ جائے گا اور حکومت فی لیٹر کم ٹیکس وصول کر کے بھی کل ریونیو میں اضافہ کر سکے گی، اس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی خوردہ قیمتیں خود بخود کم ہو جائیں گی کیونکہ قیمت کا ایک بڑا حصہ ٹیکسز اور لیوی پر مشتمل ہوتا ہے، فی الحال پٹرول کی قیمت میں تقریباً ساٹھ سے ستر فیصد حصہ مختلف ٹیکسز اور لیوی کا ہوتا ہے اور اگر ٹیکس چوری روک کر درست ٹیکس وصول کیا جائے تو حکومت لیوی کی شرحیں کم کر سکتی ہے جس سے فی لیٹر قیمت میں نمایاں کمی آئے گی، اس کا مطلب ہے کہ عوام کو پٹرول اور ڈیزل سستی قیمت پر دستیاب ہو گا جس سے نقل و حمل کے اخراجات کم ہوں گے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی کم ہوں گی کیونکہ ٹرانسپورٹیشن لاگت میں کمی آئے گی، مہنگائی میں کمی آئے گی اور عام آدمی کو ریلیف ملے گا، اس کے علاوہ ٹیکس چوری کی روک تھام سے غیر قانونی منافع خوری کا سلسلہ بھی ختم ہو گا اور جائز پٹرولیم ڈیلرز کو بھی مسابقتی ماحول ملے گا، پٹرولیم ڈیلرز جو قیمتوں میں اضافے سے پہلے سٹاک روک کر ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں ان کا یہ طریقہ کار بھی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی وجہ سے ختم ہو جائے گا، جب ہر پمپ کا سٹوریج اور سیل کا ڈیٹا ریئل ٹائم میں حکومت کو دستیاب ہو گا تو ڈیلرز قیمت میں اضافے سے پہلے مصنوعی قلت پیدا نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی پرانے سٹاک پر غیر قانونی منافع کما سکیں گے، اس سے ایندھن کی سپلائی چین میں استحکام آئے گا اور قیمتوں میں غیر متوقع اضافے کی صورت حال پیدا نہیں ہو گی، حکومت کو ڈیلرز کی بلیک میلنگ کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ڈیلرز کو معلوم ہو گا کہ ان کا ہر ایکشن ریکارڈ ہو رہا ہے اور وہ ہڑتالوں یا مصنوعی قلت کے ذریعے دباؤ نہیں بنا سکتے، اس کے علاوہ ٹیکس چوری کی روک تھام سے حاصل ہونے والا اضافی ریونیو حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں جیسے صحت، تعلیم، اور انفراسٹرکچر پر خرچ کر سکے گی جس سے معیشت کو مزید تقویت ملے گی، مجموعی طور پر پٹرولیم سیکٹر میں شفافیت اور ڈیجیٹل نگرانی نہ صرف ٹیکس چوری روکے گی بلکہ عوام پر ٹیکس کا بوجھ کم کر کے انہیں سستی پٹرولیم مصنوعات فراہم کرے گی جس سے روزمرہ زندگی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور عوام کو معاشی ریلیف ملے گا، پاکستان کے پٹرولیم سیکٹر میں اصلاحات کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ حکومت ڈیجیٹل گورننس کو ترجیح دے، تمام پٹرول پمپس پر اے ٹی جی اور ڈیجیٹل نوزلز کی تنصیب کو لازمی قرار دے، اوگرا کے ڈیٹا ڈیش بورڈ کو مکمل طور پر فعال کرے اور تمام بارہ ہزار پمپس

کو اس سے منسلک کرے، انوینٹری ونڈ فال ٹیکس متعارف کرائے جس کے تحت قیمت میں اضافے کے وقت موجودہ سٹاک پر قیمت کے فرق کا اسی فیصد وصول کیا جائے تاکہ ذخیرہ اندوزی کی ترغیب ختم ہو، اوگرا کو ایک حقیقی طور پر آزاد ریگولیٹر بنایا جائے، پندرہ روزہ پرائسنگ ماڈل کو ڈائنامک پرائسنگ میں تبدیل کیا جائے تاکہ کلف ایج اثر ختم ہو، ایف آئی اے اور اوگرا کی مشترکہ ٹیمیں تمام پمپس کا باقاعدہ معائنہ کریں، ٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث ڈیلرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، اور توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اسٹریٹجک اور کمرشل اسٹوریج کی سہولیات قائم کی جائیں، ان تمام اقدامات پر عمل درآمد سے پٹرولیم سیکٹر میں شفافیت آئے گی، ٹیکس چوری ختم ہو گی، عوام کو سستی ایندھن ملے گا، مہنگائی میں کمی آئے گی، اور قومی معیشت کو استحکام حاصل ہو گا، یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ حکومت پٹرولیم سیکٹر میں اصلاحات کو اپنی اولین ترجیح بنائے اور اس شعبے کو بدعنوانی سے پاک کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرے، کیونکہ جب تک رئیل ٹائم مانیٹرنگ اور ڈیٹا بیسڈ ریگولیشن کو لاگو نہیں کیا جاتا اس شعبے میں بدعنوانی جاری رہے گی اور عوام اسی طرح گرانی اور مصنوعی قلت کا شکار ہوتے رہیں گے، پٹرولیم سیکٹر کی اصلاحات کا مطلب صرف ٹیکس چوری روکنا نہیں بلکہ عوام کو انصاف فراہم کرنا اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا ہے، جب عوام کو سستی اور معیاری ایندھن ملے گا تو ان کی قوت خرید میں اضافہ ہو گا، کاروباری سرگرمیاں فروغ پائیں گی، اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اس سمت میں عملی اقدامات کرے اور پٹرولیم سیکٹر کو شفاف اور موثر بنانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے، عوام کا اعتماد بحال کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پٹرولیم سیکٹر میں اصلاحات ناگزیر ہیں، اور یہ اصلاحات تبھی ممکن ہیں جب سٹوریج اور سیل کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے اور ہر لیٹر ایندھن کی فروخت کا درست ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہو، اس طرح نہ صرف ٹیکس چوری ختم ہو گی بلکہ پٹرولیم ڈیلرز کی بلیک میلنگ بھی ختم ہو جائے گی اور عوام کو مہنگائی اور مصنوعی قلت سے نجات ملے گی، پاکستان کو اپنے پٹرولیم سیکٹر کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہو گا تاکہ وہ عالمی معیار کے مطابق شفاف اور موثر بن سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کر سکے۔



