چمن-کوئٹہ قومی شاہراہ تیسرے روز بھی بند، مسے زئی حملے میں شہید دو افراد کی لاشیں ایمبولینس میں رکھ کر لواحقین کا دھرنا جاری
قلعہ عبداللہ (سید سردار محمد خوندئی): ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان کی حدود تنگ مسے زئی میں مسلح حملے کے خلاف کوئٹہ-چمن قومی شاہراہ مسلسل تیسرے روز بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔ واقعے میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوا، اس کے علاوہ ایک شخص کو اغوا کیے جانے کی اطلاع ہے۔
مقامی ذرائع اور لواحقین کے مطابق مسلح افراد نے مسے زئی قوم کے افراد کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو افراد شہید اور ایک شخص زخمی ہوگیا، جبکہ ایک شخص کو اغوا کر لیا گیا۔ واقعے کے خلاف مقامی قبائل سراپا احتجاج ہیں۔
میزئی اڈہ پر لواحقین کا دھرنا، ٹریفک معطل
لواحقین نے شہداء کی لاشیں ایمبولینسوں میں رکھ کر میزئی اڈہ کے مقام پر کوئٹہ-چمن قومی شاہراہ پر دھرنا دے رکھا ہے۔ احتجاج کے باعث کوئٹہ اور چمن کے درمیان ٹریفک مکمل طور پر معطل ہے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک حملے میں ملوث مسلح افراد کو گرفتار اور اغوا شدہ شخص کو بازیاب نہیں کرایا جاتا، شہداء کی تدفین نہیں کی جائے گی۔ لواحقین نے لاشیں ایمبولینسوں میں رکھ کر سڑک پر احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور حملہ آوروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شاہراہ کے متعدد مقامات پر ٹریفک کی آمدورفت متاثر
شاہراہ کی بندش سے میزئی اڈہ، کمر پل، ول مسے زئی، سید حمید کراس اور دیگر مقامات پر ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ کوئٹہ اور چمن کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔
انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ناکام
دوسری جانب حکومت اور انتظامیہ کے حکام کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کے متعدد دور کیے گئے، تاہم تاحال کوئی کامیاب پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ مظاہرین اپنے مطالبات پر قائم ہیں اور دھرنا بدستور جاری ہے۔
لواحقین اور مقامی قبائل کا مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور اغوا شدہ شخص کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے تاکہ شاہراہ کھولی جا سکے۔
