پیرس: فرانس کی اعلیٰ عدالت نے کم عمر نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر مجوزہ پابندی کو روک دیا ہے، جس کے بعد بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن پلیٹ فارمز کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو قانونی دھچکا لگا ہے۔
مجوزہ اقدام کا مقصد کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنا تھا۔ اس کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ بچوں کو آن لائن خطرات، نامناسب مواد، ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم اور دیگر ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے سخت قوانین ضروری ہیں۔
عدالت کے فیصلے نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ حکومتوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ صارفین کے قانونی اور آئینی حقوق میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بھی پیچیدہ قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔
یورپ میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر بحث گزشتہ کچھ عرصے کے دوران تیز ہوئی ہے۔ مختلف حکومتیں کم عمر صارفین کے لیے عمر کی پابندیوں، والدین کے کنٹرول اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داریوں کو مزید سخت کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
دوسری جانب، یورپ نے مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے بھی نئے ضوابط متعارف کرائے ہیں۔ رواں ماہ پورے یورپ میں ایسے قواعد نافذ کیے گئے جن کے تحت مخصوص AI نظاموں کو صارفین کے ساتھ گفتگو کے دوران واضح کرنا ہوگا کہ سامنے والا نظام مصنوعی ذہانت پر مبنی ہے۔
ان شفافیت کے اقدامات کا مقصد صارفین کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ وہ کسی انسان کے بجائے AI سسٹم سے بات کر رہے ہیں۔ یہ اقدامات یورپ کی جانب سے تیزی سے ترقی کرتی مصنوعی ذہانت کی صنعت کو منظم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔
نئے AI قواعد ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ڈیپ فیک، غلط معلومات اور AI سے تیار کردہ مواد کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ جدید AI ٹیکنالوجی انتہائی حقیقت سے قریب متن، تصاویر، آواز اور ویڈیوز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے انسانی اور مصنوعی مواد میں فرق کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
یورپ نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں سخت قوانین متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ ڈیجیٹل جدت، صارفین کا تحفظ اور بنیادی حقوق ایک ساتھ برقرار رہیں۔
فرانس میں کم عمر نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی کو عدالت کی جانب سے روکے جانے کے باوجود بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کی بحث ختم نہیں ہوئی۔ دوسری طرف، AI کے حوالے سے شفافیت کے نئے تقاضے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے مزید ذمہ داریاں پیدا کر رہے ہیں۔
یہ دونوں پیش رفت ظاہر کرتی ہیں کہ یورپ سوشل میڈیا سے لے کر مصنوعی ذہانت تک ڈیجیٹل دنیا کو منظم کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہا ہے، جبکہ حکومتیں ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ اس سے وابستہ خطرات سے نمٹنے کی کوشش بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

