جمعیت علمائے اسلام کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، مولانا عبدالواسع

جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر مولانا عبدالواسع پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

کوئٹہ (سید سردار محمد خوندئی) — جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر اور سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ جماعت کے منتخب نمائندوں کو فورتھ شیڈول کے نام پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

کوئٹہ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو بیرون ملک سفر سے روکنے کے واقعات تشویش ناک ہیں۔ اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری سید آغا مولانا محمود شاہ، مولانا غلام سرور ندیم، مولانا کمال الدین اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

جمعیت علمائے اسلام کے نمائندوں کو روکنے کا معاملہ

مولانا عبدالواسع نے کہا کہ سینیٹر عبدالشکور خان غیبیزئی کو چین جانے سے روکا گیا اور بتایا گیا کہ ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے۔ اسی طرح رکن بلوچستان اسمبلی زابد ریکی کو بھی بیرون ملک جانے سے روکا گیا۔

ان کے مطابق بعد میں انتظامیہ نے دونوں واقعات کو غلطی قرار دیا۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ صرف معذرت کافی نہیں، بلکہ ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

سینیٹر مولانا عبدالواسع نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں ہزاروں شہریوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں اور بعض افراد کے شناختی کارڈ بھی بلاک کیے گئے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی شہری پر الزام ہے تو اس کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوست کی کاشت کے نام پر بھی مختلف اضلاع میں شہریوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا جا رہا ہے۔

مولانا عبدالواسع نے بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں اضافے کے باعث عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے افغان شہریوں سے متعلق پالیسی اور صوبے میں نئے صوبے بنانے کے ممکنہ نتائج پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

مولانا عبدالواسع نے اعلان کیا کہ جمعیت علمائے اسلام اپنی سیاسی سرگرمیاں مزید تیز کرے گی۔ ان کے مطابق نومبر سے بلوچستان کے ہر ضلع میں جلسے اور کنونشن منعقد کیے جائیں گے۔

Related posts

Leave a Comment