مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان کا نیا تزویراتی امتحان

مکہ دفاعی معاہدہ: بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کا نیا تزویراتی امتحان

میاں افتخار احمد

مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ مسلم دنیا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے تزویراتی حالات میں ایک غیر معمولی پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا ایک رسمی اعلان نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود علاقائی، سیاسی، معاشی، عسکری اور سفارتی محرکات اسے ایک وسیع تر جغرافیائی و سیاسی تبدیلی کا اشارہ بناتے ہیں۔ اس معاہدے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا اور اس صورت میں مشترکہ دفاعی تعاون کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ یہی اصول اس معاہدے کو عام دوطرفہ دفاعی معاہدوں سے مختلف بناتا ہے، تاہم اسے فوری طور پر ’’مسلم نیٹو‘‘ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا، کیونکہ نیٹو جیسے مکمل مشترکہ کمانڈ، مستقل فوجی ڈھانچے، واضح اجتماعی جنگی منصوبے اور ہر ممکنہ صورتحال میں لازمی فوجی کارروائی کے تفصیلی طریقۂ کار ابھی اس سطح پر سامنے نہیں آئے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اپنی اپنی قومی طاقت اور دفاعی صلاحیتوں کو ایک ایسے فریم ورک میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے مستقبل میں مشترکہ مشاورت، فوجی تربیت، دفاعی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، سائبر سکیورٹی، فضائی دفاع، بحری سلامتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو ادارہ جاتی شکل دی جاسکے۔ تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود کئی حوالوں سے ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ پاکستان کے پاس ایک بڑی اور تجربہ کار فوج، جوہری صلاحیت، میزائل ٹیکنالوجی، فضائی دفاع اور کئی دہائیوں پر محیط عسکری تجربہ ہے۔ ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت کو غیر معمولی رفتار سے ترقی دی ہے اور ڈرونز، بغیر پائلٹ نظام، الیکٹرانک جنگ، بحری ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید دفاعی شعبوں میں اپنی صلاحیت نمایاں کی ہے۔ سعودی عرب کے پاس وسیع معاشی وسائل، توانائی کے بڑے ذخائر، خلیج میں انتہائی اہم جغرافیائی مقام اور جدید ترین دفاعی سازوسامان حاصل کرنے کی مالی صلاحیت موجود ہے۔ اگر ان تینوں ممالک کی طاقتوں کو ایک مشترکہ فریم ورک میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ صرف فوجی تعاون نہیں بلکہ ایک وسیع تر تزویراتی شراکت داری کی بنیاد بن سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس معاہدے کی سب سے بڑی اہمیت سعودی عرب کے ساتھ اس کے دیرینہ دفاعی تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے اور پاکستانی فوجی ماہرین، تربیت کاروں اور اہلکاروں نے سعودی دفاعی نظام کی تربیت اور استعداد میں ماضی میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ نئے معاہدے کے بعد یہ تعلق ایک زیادہ منظم اور کثیر ملکی دفاعی فریم ورک میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ پاکستان کو اس کے نتیجے میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات کے ساتھ ساتھ معاشی، سفارتی اور تکنیکی تعاون کے نئے امکانات بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے پہلے سے مضبوط دفاعی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کئی دفاعی منصوبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔ مکہ معاہدہ ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے ترکیہ کی دفاعی صنعت خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ مستقبل کی جنگ صرف روایتی فوجی طاقت سے نہیں بلکہ ڈرونز، مصنوعی ذہانت، سائبر نظام، الیکٹرانک جنگ، خلائی نگرانی، درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں اور جدید مواصلاتی نظام سے بھی لڑی جائے گی۔ اگر تینوں ممالک مشترکہ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی منتقلی کی طرف بڑھتے ہیں تو پاکستان کے لیے اس کے طویل مدتی فوائد نمایاں ہوسکتے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے اس معاہدے کا سب سے اہم پہلو علاقائی دفاعی خود انحصاری کی طرف ایک قدم ہے۔ سعودی عرب کے پاس دنیا کے جدید ترین جنگی طیارے، میزائل دفاعی نظام اور دیگر جدید ہتھیار موجود ہیں، لیکن جدید ترین ہتھیار خرید لینا اور ایک مکمل خود کفیل دفاعی نظام قائم کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔


مکہ دفاعی فریم ورک سعودی عرب کو پاکستان کے فوجی تجربے اور ترکیہ کی دفاعی صنعت سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سعودی عرب کے لیے پاکستان کی فوجی تربیت اور عملی جنگی تجربہ اہم ہے، جبکہ ترکیہ کی دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی مستقبل میں سعودی دفاعی صلاحیت کو مزید متنوع بنا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اپنی معاشی طاقت کے ذریعے مشترکہ دفاعی منصوبوں، تحقیق، پیداوار اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔ ترکیہ کے لیے بھی یہ معاہدہ کم اہم نہیں۔ ترکیہ گزشتہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں تک وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مستقل دفاعی تعاون ترکیہ کو خلیج اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم دفاعی پل بنا سکتا ہے۔ ترکیہ کی دفاعی صنعت کے لیے سعودی عرب ایک بڑی مارکیٹ ہے، جبکہ پاکستان ایک طویل مدتی دفاعی شراکت دار ہے۔ اگر دونوں ممالک کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں آگے بڑھتے ہیں تو ترکیہ کی علاقائی اہمیت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ معاہدے کو صرف تین ممالک کا دفاعی سمجھوتا سمجھنا اس کی اصل اہمیت کو محدود کردینا ہوگا۔ اس کے اثرات ایران، بھارت، امریکہ، چین، خلیجی ممالک اور مسلم دنیا کے دیگر اہم ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس معاہدے کا سب سے حساس اور پیچیدہ پہلو ایران ہے۔ موجودہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایران اور خلیجی عرب ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں سے حساس رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اس معاہدے کو دفاعی قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں، لیکن ایران کے لیے یہ بات اہم ہوگی کہ سعودی عرب کی سلامتی اب صرف ایک ملک کی دفاعی ذمہ داری نہیں رہی بلکہ اس میں پاکستان اور ترکیہ بھی شریک ہیں۔ تاہم پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ تعلقات کو دشمنی میں تبدیل کرنا کسی بھی صورت آسان یا دانشمندانہ نہیں ہوگا۔ پاکستان اور ایران پڑوسی ہیں، ان کے درمیان طویل سرحد ہے، دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی، تجارتی اور تاریخی روابط موجود ہیں اور پاکستان کے بلوچستان میں امن و سلامتی کا تعلق براہ راست ایران کی سرحدی صورتحال سے ہے۔ اس لیے پاکستان کو سعودی عرب کے دفاعی وعدے اور ایران کے ساتھ ہمسایہ تعلقات کے درمیان انتہائی محتاط توازن قائم کرنا ہوگا۔ اگر ایران سعودی عرب پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہوگا کہ وہ اس معاہدے کو کس حد تک عملی شکل دیتا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اجتماعی دفاع کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ پاکستان اپنی پوری فوج ایران کے خلاف میدان جنگ میں اتار دے۔ دفاعی معاہدوں میں عملی ردعمل حالات، حملے کی نوعیت، شدت، جغرافیہ، سیاسی فیصلوں اور عسکری ضروریات کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔ اگر سعودی عرب پر محدود میزائل یا ڈرون حملہ ہو تو پاکستان ممکنہ طور پر فضائی دفاع، نگرانی، ریڈار، انٹیلی جنس اور دفاعی طیاروں کے ذریعے سعودی عرب کی مدد کرے گا۔ اگر حملہ زیادہ وسیع ہو تو پاکستانی فضائیہ کے طیارے، فضائی دفاعی نظام اور دیگر دفاعی وسائل سعودی عرب میں تعینات کیے جاسکتے ہیں۔ اگر جنگ کا دائرہ سمندر تک پھیل جائے تو بحری سلامتی میں تعاون بھی ضروری ہوسکتا ہے۔ لیکن سعودی عرب کا دفاع کرنے اور ایران کے اندر زمینی جنگ شروع کرنے کے درمیان ایک واضح حد موجود ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے کم پسندیدہ صورت یہی ہوگی کہ وہ ایران کے اندر طویل زمینی جنگ میں داخل ہوجائے۔ ایران ایک بڑا ملک ہے، اس کے پاس وسیع جغرافیہ، میزائل صلاحیت، ڈرون ٹیکنالوجی، بڑی عسکری قوت اور علاقائی اثر و رسوخ موجود ہے۔ پاکستان اگر ایران کے ساتھ مکمل جنگ میں داخل ہوتا ہے تو اسے صرف فوجی نہیں بلکہ معاشی، سفارتی اور داخلی سلامتی کے شدید مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحد پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے، بلوچستان میں امن و امان متاثر ہوسکتا ہے، سرحدی علاقوں میں عسکری جھڑپیں بڑھ سکتی ہیں اور تجارت و آمدورفت متاثر ہوسکتی ہے۔ مزید برآں ایک طویل جنگ کے نتیجے میں پاکستان کے اندر معاشی دباؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان کی معیشت توانائی کی درآمدات پر نمایاں انحصار کرتی ہے، اس لیے خلیج میں جنگ کی شدت بڑھنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ پٹرول، ڈیزل، بجلی، صنعت، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں بڑی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے بھی شدید بحران پیدا کرسکتی ہے اور پاکستان اس بحران سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے پاکستان کے لیے بہترین حکمت عملی دفاع اور سفارت کاری کا امتزاج ہوگی۔ پاکستان سعودی عرب کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے لیکن ساتھ ہی ایران کے ساتھ رابطے کے دروازے بھی کھلے رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے ایک منفرد کردار دیتی ہے۔ وہ سعودی عرب کا اہم دفاعی شراکت دار بھی ہے اور ایران کا پڑوسی بھی۔ اگر اسلام آباد اپنی سفارتی صلاحیت استعمال کرے تو وہ کسی ممکنہ ایران۔سعودی تنازع میں ثالثی، کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک ایسا موقع ہوگا جس میں وہ صرف فوجی طاقت نہیں بلکہ سفارتی طاقت بھی استعمال کرسکتا ہے۔ اگر ایران براہ راست پاکستان کو بھی نشانہ بناتا ہے تو صورتحال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ اس صورت میں پاکستان صرف سعودی عرب کے دفاع میں شریک ملک نہیں رہے گا بلکہ خود بھی جنگ کا فریق بن جائے گا۔ اگر پاکستانی فوجی تنصیبات، طیاروں، بحری جہازوں یا سرحدی علاقوں پر حملے ہوں تو پاکستان کا ردعمل زیادہ سخت ہوسکتا ہے۔ تاہم اس صورت میں بھی پاکستان کے لیے جنگ کو محدود رکھنا اہم ہوگا۔ ایران کے اندر گہرائی تک زمینی فوج بھیجنا یا طویل مدتی قبضے کی جنگ لڑنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی غالباً اپنے علاقے، اپنی افواج اور سعودی عرب کی دفاعی ضروریات تک محدود رکھنے کی کوشش کرے گی۔ مکہ معاہدے کے تناظر میں بھارت کا کردار بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ اگر پاکستان کی فوج کا ایک بڑا حصہ سعودی عرب کے دفاع یا مغربی محاذ کی صورتحال میں مصروف ہوجاتا ہے تو بھارت اسے ایک تزویراتی موقع سمجھ سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت لازماً پاکستان کے خلاف جنگ شروع کردے گا۔ بھارت بھی جانتا ہے کہ پاکستان ایک جوہری ملک ہے اور کسی بھی بڑی جنگ کے نتائج انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔ تاہم بھارت اپنی فوجی تیاری بڑھا سکتا ہے، سرحدی نگرانی مضبوط کرسکتا ہے، پاکستان کی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے اور سفارتی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار کو چیلنج کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ بھارت ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی مزید اہمیت دے سکتا ہے، خصوصاً اقتصادی اور علاقائی رابطوں کے منصوبوں کے ذریعے۔ تاہم بھارت کے لیے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں۔ سعودی عرب بھارت کے لیے ایک اہم توانائی، سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت دار ہے۔ اس لیے بھارت کے لیے سعودی عرب کو مکمل طور پر پاکستان مخالف کیمپ میں دیکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح سعودی عرب بھی بھارت کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو صرف پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کی وجہ سے ختم نہیں کرے گا۔ اس پورے منظرنامے میں امریکہ اور چین کا کردار بھی اہم ہوگا۔ امریکہ خلیج میں ایک بڑی طاقت ہے اور سعودی عرب کے ساتھ اس کے طویل مدتی دفاعی تعلقات ہیں۔ مکہ معاہدہ امریکہ کی جگہ لینے کا فوری ذریعہ نہیں، لیکن یہ سعودی عرب کو علاقائی دفاعی شراکت داری کے اضافی راستے فراہم کرتا ہے۔ چین کے لیے بھی پاکستان، سعودی عرب اور ایران تینوں اہم ممالک ہیں۔ چین پاکستان کا قریبی شراکت دار ہے، سعودی عرب کے ساتھ اس کے اقتصادی تعلقات بڑھ رہے ہیں اور ایران کے ساتھ بھی اس کے اہم تعلقات ہیں۔ اس لیے اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو چین کی کوشش ہوگی کہ تنازع وسیع نہ ہو اور خطے میں اقتصادی و تجارتی استحکام برقرار رہے۔ مکہ معاہدے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ مستقبل میں اس میں مزید ممالک کی شمولیت کا امکان موجود ہے۔ اگر مصر یا دیگر اہم مسلم ممالک اس دفاعی فریم ورک کا حصہ بنتے ہیں تو اس کی جغرافیائی وسعت اور سیاسی اہمیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ تاہم اتحاد جتنا بڑا ہوگا، قومی مفادات کا فرق بھی اتنا ہی نمایاں ہوگا۔ ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی، داخلی سیاست اور علاقائی ترجیحات کے مطابق فیصلے کرے گا، اس لیے کسی بھی بڑے دفاعی اتحاد کے لیے مشترکہ سیاسی ارادہ اور واضح عملی طریقۂ کار ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان کے لیے مکہ معاہدے کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ اس موقع کو کس طرح قومی مفاد کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ اگر یہ معاہدہ مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، انٹیلی جنس تعاون، فضائی دفاع، سائبر سکیورٹی اور تحقیق کے مستقل منصوبوں میں تبدیل ہوجاتا ہے تو پاکستان کو اس سے طویل مدتی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار پاکستان کے لیے روزگار، برآمدات، ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔ ترکیہ کے ساتھ جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے ساتھ سرمایہ کاری کے امکانات کو یکجا کرکے پاکستان اپنی دفاعی صنعت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ پاکستان کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ دفاعی معاہدہ اس کی خارجہ پالیسی کو غیر ضروری طور پر محدود نہ کرے۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب سے دوستی ضروری ہے، ترکیہ کے ساتھ شراکت داری اہم ہے، ایران کے ساتھ ہمسائیگی ایک حقیقت ہے، چین کے ساتھ تعلقات اس کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں اور بھارت کے ساتھ مستقل کشیدگی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان تمام عوامل کے درمیان توازن قائم کرنا پاکستان کی سفارت کاری کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ اگر مستقبل میں ایران سعودی عرب پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان کو جذبات کے بجائے قومی مفاد کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوگا۔ سعودی عرب کے دفاع میں مدد دینا معاہدے کی روح کا حصہ ہوسکتا ہے، لیکن ہر ممکنہ جنگی صورتحال میں پاکستان کی فوج کو ایران کے اندر بھیج دینا نہ تو لازمی طور پر ضروری ہوگا اور نہ ہی پاکستان کے وسیع تر مفادات کے لیے دانشمندانہ ہوگا۔ پاکستان کی فوجی حکمت عملی کا محور دفاعی مدد، فضائی تحفظ، انٹیلی جنس، نگرانی، بحری سلامتی اور سعودی سرزمین کے تحفظ پر رہ سکتا ہے، جبکہ سفارت کاری کے ذریعے جنگ کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اگر پاکستان ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو مکہ دفاعی معاہدہ اس کے لیے صرف ایک عسکری ذمہ داری نہیں بلکہ ایک سفارتی موقع بھی بن سکتا ہے۔ پاکستان مسلم دنیا کے اندر اپنی تاریخی، جغرافیائی اور عسکری اہمیت کو استعمال کرتے ہوئے امن کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہی کردار پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز کرسکتا ہے۔ پاکستان کے پاس فوجی طاقت ضرور ہے، لیکن اس کی اصل تزویراتی طاقت اس وقت سامنے آئے گی جب وہ فوجی صلاحیت، اقتصادی مفاد، سفارت کاری اور علاقائی امن کو ایک ہی حکمت عملی میں جمع کرسکے۔ مکہ دفاعی معاہدہ اسی لیے پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔ یہ معاہدہ پاکستان کو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون کی نئی سطح تک لے جاسکتا ہے، جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کے دروازے کھول سکتا ہے، مسلم دنیا میں اس کی سفارتی اہمیت بڑھا سکتا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کے سلامتی کے نظام میں زیادہ نمایاں کردار دے سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ اگر خطے میں کوئی بڑی جنگ چھڑتی ہے تو پاکستان پر اپنے اتحادیوں کی مدد کرنے کا دباؤ بڑھے گا۔ اس لیے اسلام آباد کو ہر مرحلے پر یہ دیکھنا ہوگا کہ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور علاقائی امن میں توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ سعودی عرب کا دفاع پاکستان کے لیے ایک اہم ذمہ داری ہوسکتا ہے، لیکن ایران کے ساتھ غیر ضروری اور طویل جنگ میں داخل ہونا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ بھارت کے ممکنہ ردعمل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، مگر پاکستان کی جوہری صلاحیت اور خطے میں طاقت کا توازن بھارت کو بھی محتاط رہنے پر مجبور کرے گا۔ بالآخر مکہ دفاعی معاہدے کی کامیابی کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوگا کہ اس پر کتنے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، بلکہ اس بات سے ہوگا کہ تینوں ممالک کس حد تک اپنے وعدوں کو عملی تعاون میں تبدیل کرتے ہیں۔ اگر مشترکہ دفاعی منصوبے، جدید ٹیکنالوجی، دفاعی پیداوار، تربیت، انٹیلی جنس اور سفارتی رابطے مضبوط ہوتے ہیں تو یہ معاہدہ آنے والے برسوں میں ایک مؤثر علاقائی دفاعی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ محض ایک سیاسی علامت بن کر رہ جائے گا۔ پاکستان کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی دفاعی طاقت کو برقرار رکھتے ہوئے سفارتی دروازے بند نہ کرے، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنائے، ایران کے ساتھ کشیدگی سے حتی الامکان بچے، بھارت کے ممکنہ ردعمل پر نظر رکھے اور اپنی معاشی بنیاد کو مضبوط کرے۔ کیونکہ جدید دنیا میں صرف طاقتور فوج کسی ملک کو محفوظ نہیں بناتی؛ مضبوط معیشت، متوازن خارجہ پالیسی، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر سفارت کاری اور قومی مفاد پر مبنی فیصلے ہی حقیقی قومی سلامتی کی بنیاد بنتے ہیں۔ مکہ معاہدہ پاکستان کے لیے اسی جامع قومی حکمت عملی کا ایک نیا باب ثابت ہوسکتا ہے۔

 

Latest Posts