لاہور: لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں تین منزلہ رہائشی عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق جمعرات کو ملبے سے ایک خاتون کی لاش نکالے جانے کے بعد ہلاکتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ خدشہ ہے کہ ایک بچی اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں گزشتہ کئی گھنٹوں سے بھاری مشینری اور جدید آلات کی مدد سے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ملبے تلے پھنسے افراد کو بحفاظت نکالا جا سکے۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں چار خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ چھ زخمی افراد کو لاہور کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
میو اسپتال لاہور منتقل کیے گئے جاں بحق افراد میں کومل، جاوید، احد، نیلم، حامد اور حسنین شامل ہیں۔
دوسری جانب سروسز اسپتال میں منتقل کیے گئے چار جاں بحق افراد میں سے دو کی شناخت شاہدہ بی بی اور ثمینہ بی بی کے ناموں سے ہوئی ہے، جبکہ زخمیوں میں سونیا بی بی، شاہد، سحر اور زاہد شامل ہیں، جن کا علاج جاری ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد 10 ایمرجنسی گاڑیوں اور 40 سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور ملبہ ہٹانے کا کام مسلسل جاری ہے۔
پولیس کے مطابق گرنے والی عمارت میں تین خاندان رہائش پذیر تھے اور حادثے کے وقت تمام افراد عمارت کے اندر موجود تھے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
تاحال عمارت گرنے کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں۔ متعلقہ اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ عمارت تکنیکی خرابی، خستہ حالی یا کسی اور وجہ سے گری۔
حکام کا کہنا ہے کہ جب تک ملبہ مکمل طور پر ہٹا نہیں لیا جاتا، ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری رہے گا۔
یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر شہر میں خستہ حال اور غیر محفوظ عمارتوں کی حالت پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کا فوری سروے کرکے بروقت اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔



