Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

کراچی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بدھ کے روز اپنے بانی عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہونے پر کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ کراچی میں ہونے والے مرکزی احتجاج کے باعث شہر کے اہم علاقوں میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔

کراچی پریس کلب کے قریب ہونے والے احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے اور پریس کلب جانے والے تمام اہم راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا، جس کے باعث صدر اور اطراف کے علاقوں میں شدید ٹریفک جام ہوگیا۔ شہریوں کو طویل وقت تک سڑکوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ متعدد شاہراہوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کے کئی کارکنوں اور رہنماؤں کو کراچی پریس کلب کے قریب حراست میں لیا گیا۔ ان کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج بھی کیا، جس کے بعد شام کے وقت سڑک کو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ کراچی کے علاوہ حیدرآباد، میرپورخاص، نواب شاہ، عمرکوٹ، مٹھی اور سندھ کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں کارکنوں نے عمران خان کی رہائی کے حق میں نعرے لگائے اور حکومت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔

پی ٹی آئی کے مطابق کراچی میں احتجاج کی قیادت پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، کراچی کے صدر راجہ اظہر، سندھ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مسرور سیال اور کراچی کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد نے کی۔ پارٹی رہنما کارکنوں کے ہمراہ کراچی پریس کلب کی جانب مارچ کر رہے تھے، تاہم پولیس نے راستوں کو کنٹینرز لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا۔

پارٹی کے مطابق راستے بند ہونے کے بعد کارکنوں نے زیب النساء اسٹریٹ اور فوارہ چوک، صدر کے قریب پرامن احتجاج کیا، لیکن پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں متعدد کارکن زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام نے مظاہرے کے بعد صورتحال کو قابو میں ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد سڑکوں کو کلیئر کر دیا گیا اور ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی۔ تاہم پی ٹی آئی نے اپنے احتجاجی سلسلے کو جاری رکھنے اور عمران خان کی رہائی کے لیے ملک بھر میں سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔