اسلام آباد: پاکستان اور ایران کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ – FTA) کو حتمی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا تین روزہ 10واں مشترکہ تجارتی کمیٹی (Joint Trade Committee – JTC) کا اجلاس بدھ کے روز کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا، جس میں مجوزہ ایف ٹی اے کے تکنیکی امور پر اطمینان بخش پیش رفت حاصل کی گئی۔
حکام کے مطابق اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے پہلی مرتبہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کا باضابطہ آغاز کیا، جس سے آزاد تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی تجارت کو فروغ دینے اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
اجلاس کے اختتامی سیشن کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک نے کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور مستقبل کے اقتصادی مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان اور ایران نے باہمی تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کا اعادہ کیا، تاہم حکام نے اس ہدف کے حصول کے لیے کوئی حتمی ٹائم لائن جاری نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی مذاکرات کے اگلے مراحل مکمل ہونے کے بعد آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔
اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایرانی وزیر ڈاکٹر محمد اتابک نے اجلاس کے متفقہ نکات پر مشتمل دستاویز (Minutes) پر دستخط کیے، جس میں مذاکرات کے دوران طے پانے والے اہم فیصلوں اور باہمی اتفاق رائے کو باضابطہ طور پر ریکارڈ کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹیں کم کرنے، سرمایہ کاری میں اضافے، کاروباری روابط مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں خصوصاً صنعت، زراعت، کان کنی، توانائی اور مینوفیکچرنگ میں تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ماہرین کے مطابق مشترکہ تجارتی کمیٹی کے کامیاب اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور ایران خطے میں اقتصادی تعاون کو وسعت دینے، دوطرفہ تجارت بڑھانے اور طویل المدتی تجارتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔


