پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی سیاست میں ہمیشہ پالیسی، گورننس اور عوامی مسائل پر بات کی ہے، نہ کہ شخصیات پر ذاتی حملے کیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے بھی انہوں نے کبھی ان کے طیارے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی ایسی کوئی موازنہ آرائی کی جس سے معاملہ ذاتی نوعیت اختیار کرتا۔
ARY نیوز کے پروگرام “دی الیونتھ آور” میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے مریم نواز کے اس بیان کا جواب دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بلاول “بیلو دی بیلٹ” چلے گئے ہیں۔ بلاول نے کہا کہ ان کی سیاست ہمیشہ اصولوں، پالیسیوں اور حکومتی کارکردگی کے گرد گھومتی رہی ہے، نہ کہ ذاتیات کے گرد۔
انہوں نے کہا کہ وہ ماضی میں سیاسی مخالفین اور حتیٰ کہ اتحادی جماعتوں کے بعض رہنماؤں کی جانب سے ذاتی تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی اسی انداز میں جواب دینے کو اپنی سیاست کا حصہ نہیں بنایا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نظریاتی اور سیاسی اختلافات کو ذاتی حملہ قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی سیاست دان حکومتی پالیسیوں، عوامی مسائل یا گورننس پر سوال اٹھاتا ہے تو اسے ذاتی حملہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومتی کارکردگی پر تنقید کو اکثر ذاتی حملہ قرار دے کر مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے بقول صحافیوں اور سیاست دانوں کی جانب سے گورننس یا عوامی پالیسیوں پر تنقید کے بعد بعض اوقات قانونی کارروائی یا پولیس کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ بطور عوامی نمائندہ انہیں مکمل حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کسی کی ذاتی زندگی یا نجی معاملات پر بات نہ کی جائے، ایسی تنقید کو ذاتی حملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مریم نواز کے سرکاری طیارے سے متعلق جاری بحث پر بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ چاہتے تو اس معاملے کو جنوبی پنجاب کے ترقیاتی بجٹ سے جوڑ کر تنقید کر سکتے تھے، مگر انہوں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا کیونکہ وہ سیاسی مباحثے کو ذاتی رخ نہیں دینا چاہتے تھے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ان کے سیاسی مخالفین ان کے خلاف مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ جعلی مواد پھیلا رہے ہیں تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق ان کی سوشل میڈیا ٹیم پہلے ہی کارکنوں کو ایسے جعلی مواد سے خبردار کر چکی ہے، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی اس قسم کے ہتھکنڈوں کا سہارا نہیں لے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جمہوریت میں تنقید نہ صرف ضروری بلکہ صحت مند عمل ہے، تاہم اس کا دائرہ پالیسیوں، فیصلوں اور حکومتی کارکردگی تک محدود رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کو “بیلو دی بیلٹ” قرار دینا حقائق کے منافی ہے، کیونکہ ان کی تمام گفتگو سیاسی نکات اور حکومتی معاملات تک محدود تھی، نہ کہ کسی شخصیت کی ذاتی زندگی یا نجی معاملات پر۔


