سمندر، امن اور مشترکہ مستقبل کی تلاش
تحریر: محمد محسن اقبال
سمندر محض پانی کے بے کراں ذخیرے یا زمین کے دو کناروں کے درمیان حائل فاصلوں کا نام نہیں، بلکہ یہ قدرت کی وہ عظیم نعمت ہیں جنہوں نے صدیوں سے انسانوں، تہذیبوں اور قوموں کو ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔ کبھی یہی سمندر تجارتی قافلوں کے راستے بنے، کبھی علم و تہذیب کے سفیر ثابت ہوئے اور کبھی قوموں کی معاشی ترقی اور خوش حالی کا وسیلہ بنے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے سمندروں کی وسعتوں کو سمجھا، ان کے وسائل سے فائدہ اٹھایا اور بحری تجارت کو فروغ دیا، انہوں نے عالمی سیاست اور معیشت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ مگر آج یہی سمندر عالمی طاقتوں کی رقابت، سیاسی کشمکش، عسکری مقابلے اور سلامتی کے خطرات کی زد میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت ان سمندروں کو تصادم کا میدان بنائے رکھے گی یا انہیں امن، تعاون اور مشترکہ خوش حالی کی شاہراہوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی؟
قرآنِ حکیم انسان کو بارہا سمندروں کی وسعتوں، ان کے خزانوں اور ان میں پوشیدہ قدرتِ الٰہی کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ سمندر میں رواں دواں جہاز، ان سے حاصل ہونے والی روزی، موتیوں اور دیگر نعمتوں کا ذکر دراصل انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ کائنات کے وسائل کسی ایک فرد یا قوم کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانتیں ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھانا بھی چاہیے اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی نبھانی چاہیے۔ قرآن کا پیغامِ عدل، مشاورت، باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی آج بھی اقوام کے تعلقات کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگر دنیا کی طاقتور اقوام ان اصولوں کو اپنی پالیسیوں کا حصہ بنا لیں تو بہت سے تنازعات اور کشیدگیاں کم ہو سکتی ہیں۔
اسی فکر اور تصور کو عملی شکل دینے کے لیے پاک بحریہ کی جانب سے شروع کی جانے والی کثیرالقومی بحری مشقیں ’’امن” ایک اہم بین الاقوامی اقدام کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ 2007ء میں ’’امن کے لیے مل کر” کے عنوان سے شروع ہونے والا یہ سفر محض ایک عسکری مشق نہیں رہا بلکہ بتدریج بحری سفارت کاری، اعتماد سازی اور عالمی تعاون کے ایک مؤثر پلیٹ فارم میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس کا بنیادی پیغام نہایت واضح ہے کہ سمندروں کی سلامتی کسی ایک ملک کی انفرادی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ تمام بحری اقوام کا مشترکہ فریضہ ہے۔ سمندر کی لہریں کسی ملک کی سرحد یا سیاسی اختلاف کو نہیں پہچانتیں؛ وہاں پیدا ہونے والا خطرہ کسی ایک ساحل تک محدود نہیں رہتا۔
اس سلسلے کے دسویں ایڈیشن کا موضوع ’’سمندری خطوں کے درمیان اشتراکِ عمل اور شراکت داری” وقت کی ایک اہم ضرورت کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس عنوان میں ایک ایسا عالمی تصور پوشیدہ ہے جو جغرافیائی فاصلے، سیاسی اختلافات اور مختلف تزویراتی ترجیحات سے بالاتر ہو کر اقوام کو مشترکہ مقاصد کے لیے یکجا ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ امن اور سلامتی کے معاملات میں اختلافِ رائے کے باوجود تعاون کے دروازے بند نہیں ہونے چاہییں۔
بحرِ ہند اس تصور کی عملی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ایک نہایت اہم خطہ ہے۔ یہ سمندر مشرقِ وسطیٰ، افریقہ، جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیا کو آپس میں ملاتا ہے۔ عالمی تجارت، تیل اور توانائی کی ترسیل کے کئی اہم راستے اسی سمندر سے گزرتے ہیں۔ اگر ان راستوں پر بحری قزاقی، دہشت گردی، غیر قانونی اسمگلنگ یا علاقائی تنازعات کے باعث رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سمندری آلودگی، موسمیاتی تبدیلیوں اور بندرگاہوں و دیگر بحری تنصیبات کو لاحق خطرات نے اس خطے کی اہمیت اور حساسیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ان چیلنجز کا مقابلہ کسی ایک ملک کے لیے ممکن نہیں۔ اس کے لیے معلومات کا بروقت تبادلہ، بحری افواج کے درمیان رابطہ، پیشہ ورانہ ہم آہنگی اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ناگزیر ہے۔ مشقِ امن اسی مقصد کے حصول کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ مختلف ممالک کی بحری افواج جب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتی ہیں تو انہیں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے، عملی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے کا موقع ملتا ہے۔ یہ روابط صرف مشق کے دنوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ کسی ہنگامی صورتِ حال یا حقیقی بحران میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس بین الاقوامی سرگرمی کی وسعت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2007ء میں اس کے پہلے ایڈیشن میں 28 ممالک شریک ہوئے تھے، جبکہ فروری 2025ء میں منعقد ہونے والی نویں مشق میں شرکت کرنے والے ممالک کی تعداد 60 سے تجاوز کر گئی۔ اسی موقع پر ’’امن ڈائیلاگ‘‘ کا انعقاد بھی اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت تھا، جس نے اس سرگرمی کو محض بحری مشق سے آگے بڑھا کر سفارتی اور فکری مکالمے کی شکل دے دی۔ اس پلیٹ فارم پر مختلف ممالک کے اعلیٰ بحری حکام اور متعلقہ ماہرین کو ابھرتے ہوئے مسائل، مشترکہ مفادات اور تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ جب ارادہ مثبت ہو تو عسکری ادارے بھی امن کے فروغ اور سفارتی تعلقات کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس پورے معاملے کی اہمیت کئی حوالوں سے غیر معمولی ہے۔ بحیرۂ عرب کے ساحل پر واقع ہونے کے باعث پاکستان کو بین الاقوامی بحری تجارتی راستوں تک قدرتی رسائی حاصل ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں نہ صرف ملکی تجارت بلکہ علاقائی روابط اور معاشی ترقی کے وسیع امکانات رکھتی ہیں۔ پاکستان کی مستقبل کی معیشت میں سمندر سے وابستہ شعبوں، یعنی بلیو اکانومی، کو بھی کلیدی اہمیت حاصل ہو سکتی ہے۔ جہاز رانی، ماہی گیری، بندرگاہوں کی خدمات، سمندری سیاحت اور سمندر سے متعلق صنعتیں ملکی آمدنی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم یہ امکانات اسی وقت حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں جب بحری راستے محفوظ ہوں، بندرگاہوں کا نظام جدید ہو اور خطے میں امن و استحکام قائم رہے۔

پاک بحریہ کا کردار بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کی ذمہ داری صرف ملکی سمندری حدود کی حفاظت تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارتی راستوں کے تحفظ، بحری مواصلات کے تسلسل اور علاقائی امن کے قیام میں معاونت بھی اس کے فرائض کا حصہ ہے۔ علاقائی بحری سلامتی کے گشت اور دیگر بین الاقوامی سرگرمیوں میں پاکستان کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ وہ سمندری سلامتی کو مشترکہ ذمہ داری سمجھتا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ محفوظ سمندری راستوں سے صرف ساحلی ممالک ہی فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ وہ ممالک بھی مستفید ہوتے ہیں جن کے پاس سمندر تک براہِ راست رسائی نہیں ہوتی اور جن کی تجارت کا انحصار دوسرے ممالک کی بندرگاہوں اور بحری راستوں پر ہے۔
سمندری تعاون کا ایک انسانی پہلو بھی ہے جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سمندر میں کسی جہاز کو حادثہ پیش آ جائے، کوئی کشتی طوفان میں پھنس جائے یا قدرتی آفت کے باعث کسی علاقے میں امداد کی ضرورت ہو تو وہاں قومیت، مذہب، سیاسی نظریے اور سرحدوں کے اختلافات ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ اس وقت سب سے بڑی ترجیح انسانی جان بچانا ہوتی ہے۔ تلاش و بچاؤ کی کارروائیاں، قدرتی آفات میں امداد اور سمندر میں پھنسے ہوئے افراد کی مدد ایسے معاملات ہیں جن میں فوری تعاون اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امن کے زمانے میں قائم ہونے والے بحری روابط کسی مشکل وقت میں انسانیت کے لیے امید کی کرن بن سکتے ہیں۔
مشقِ امن کے دسویں ایڈیشن کی اہمیت اس اعتبار سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کے آغاز کو بیس برس مکمل ہو رہے ہیں۔ دو دہائیوں پر محیط یہ سفر پاک بحریہ کے اس عزم کا اظہار ہے کہ سمندری سلامتی کو علاقائی اور عالمی تعاون کے بغیر یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ تاہم اس مشق کی حقیقی کامیابی کا اندازہ شریک ممالک یا جنگی جہازوں کی تعداد سے نہیں لگایا جانا چاہیے۔ اصل کامیابی اس اعتماد میں ہے جو مختلف اقوام کے درمیان پیدا ہو، اس سوچ میں ہے جو اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات کو تسلیم کرے اور اس عملی تعاون میں ہے جو مشق کے اختتام کے بعد بھی جاری رہے۔
آج دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں طاقت کے مظاہرے، سیاسی مفادات اور جغرافیائی رقابتیں اکثر امن کی خواہش پر غالب آ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں سمندروں کو تصادم کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اقوام کے سیاسی نظریات مختلف ہو سکتے ہیں، ان کے درمیان تاریخی تنازعات بھی موجود ہو سکتے ہیں، لیکن تجارتی جہاز رانی کا تحفظ، بحری جرائم کا خاتمہ اور سمندری وسائل کی حفاظت ایسے مشترکہ مقاصد ہیں جن پر اتفاقِ رائے ممکن ہے۔
سمندر انسانیت کو تقسیم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ملانے کے لیے ہیں۔ ان کی وسعتیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کا راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ قرآنِ حکیم نے جن سمندری نعمتوں پر غور و فکر کی دعوت دی ہے، ان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں کے حقوق اور اجتماعی مفادات کا خیال رکھے۔ پاک بحریہ کی مشقِ امن اسی تصور کو عملی تعاون میں ڈھالنے کی ایک قابلِ تحسین کوشش ہے۔ بالآخر کسی بحری قوم کی عظمت کا پیمانہ صرف اس کے جنگی جہازوں، میزائلوں اور دفاعی صلاحیتوں سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس بات سے بھی متعین ہونا چاہیے کہ وہ سمندروں کو کس قدر امن، اعتماد، استحکام اور انسانی ترقی کا وسیلہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو سمندروں کی وسعتوں کو انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی ضمانت بنا سکتی ہے۔
