ریاض ایئرپورٹ کے قریب سیاہ دھواں، سعودی دارالحکومت میں فضائی حملے کا الرٹ

ریاض ایئرپورٹ کے قریب دھواں، شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت

ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں فضائی حملے کے الرٹ جاری ہونے کے چند گھنٹے بعد کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب سیاہ دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔

یہ واقعہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا۔ شہریوں کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی۔

ریاض کے مختلف علاقوں میں دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

سعودی حکام کی جانب سے دھوئیں کی اصل وجہ کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

ریاض ایئرپورٹ کے قریب ایندھن کے ٹینک میں آگ کی اطلاعات

اے ایف پی کے ایک صحافی نے بتایا کہ فائر فائٹرز کو سعودی سرکاری توانائی کمپنی آرامکو (Aramco) سے منسلک ایک جلتے ہوئے ایندھن کے ٹینک پر آگ بجھانے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔

تاہم دستیاب اطلاعات میں اس بات کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی کہ آگ براہ راست کسی فضائی حملے کے نتیجے میں لگی یا نہیں۔

واقعے کی مکمل وجوہات اور ممکنہ نقصانات کے بارے میں مزید سرکاری معلومات کا انتظار ہے۔

سعودی عرب میں فضائی حملے کے الرٹ جاری

سعودی سول ڈیفنس نے رات کے وقت ریاض اور دیگر علاقوں کے رہائشیوں کو ممکنہ خطرے سے متعلق موبائل الرٹس بھیجے۔

شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ ہفتے کی صبح صورتحال معمول پر آنے کے بعد آل کلیئر جاری کیا گیا۔

ریاض کے ایک رہائشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ الارم بجنے کے بعد کھڑکیاں لرزنے لگیں، جس سے شہریوں میں خوف پھیل گیا۔

حوثی سعودی تنازع اور خطے کی صورتحال

ریاض کے قریب دھواں نظر آنے کا واقعہ سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا۔

حوثی تحریک نے سعودی عرب پر یمن میں حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

خطے میں جاری تنازع کے باعث توانائی کی تنصیبات، بحری راستوں اور تیل کی عالمی ترسیل سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

Related posts

Leave a Comment