پاکستان نے جاپان کو شکست دے کر ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سالہ انتظار ختم کر دیا

ایمسٹلوین: پاکستان ہاکی ٹیم نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے جاپان کو 4-3 سے شکست دے کر ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ میں اپنی 16 سالہ فتح کی خشک سالی ختم کر دی۔

واگنر اسٹیڈیم میں کھیلے گئے 9ویں سے 16ویں پوزیشن کے درجہ بندی میچ میں گرین شرٹس نے دو گول کے خسارے سے واپسی کرتے ہوئے دلچسپ مقابلہ اپنے نام کیا۔

یہ پاکستان کی 2010 کے بعد ہاکی ورلڈ کپ میں پہلی کامیابی ہے۔ پاکستان نے آخری مرتبہ 2010 کے ورلڈ کپ میں اسپین کو 2-1 سے شکست دی تھی۔

مقابلے کا آغاز پاکستان کے لیے مایوس کن رہا اور جاپان نے پہلے ہی کوارٹر میں دو گول داغ دیے۔

ہیوتا یامادا نے جاپان کو برتری دلائی، جس کے بعد کائتو تاناکا نے دوسرا گول کر کے پاکستان پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔

پاکستان نے دوسرے کوارٹر میں واپسی کی کوشش کی اور رانا وحید اشرف نے گیند کو جال میں پہنچا کر جاپان کی برتری 2-1 کر دی۔

دوسرے کوارٹر کے اختتام تک مزید کوئی گول نہ ہو سکا اور جاپان ایک گول کی برتری کے ساتھ ہاف ٹائم میں داخل ہوا۔

تیسرے کوارٹر کے آغاز میں پاکستان نے جارحانہ انداز اپنایا اور صرف دو منٹ بعد رانا وحید اشرف نے اپنا دوسرا گول کر کے مقابلہ 2-2 سے برابر کر دیا۔

اس کے صرف ایک منٹ بعد محمد حماد الدین نے پاکستان کے لیے تیسرا گول کر کے گرین شرٹس کو پہلی مرتبہ میچ میں برتری دلا دی۔

تاہم جاپان نے فوری جواب دیا۔ کوجی یاماساکی نے دو منٹ بعد گول کر کے اسکور ایک بار پھر 3-3 سے برابر کر دیا۔

مقابلہ سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو گیا اور دونوں ٹیمیں فیصلہ کن گول کی تلاش میں نظر آئیں۔

پاکستان کو بالآخر 40ویں منٹ میں کامیابی ملی جب حنان شاہد نے اہم گول کر کے گرین شرٹس کو 4-3 کی برتری دلا دی۔

جاپان نے آخری لمحات میں برابر ی کی بھرپور کوشش کی، تاہم پاکستانی دفاع نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جاپانی حملوں کو ناکام بنا دیا۔

اختتامی سیٹی تک مزید کوئی گول نہ ہو سکا اور پاکستان نے 4-3 سے تاریخی کامیابی حاصل کر لی۔

جاپان کے خلاف فتح پاکستان ہاکی کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ قومی ٹیم نے آخری مرتبہ 2010 کے ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کی تھی۔

پاکستان 2014 کے ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا تھا، جبکہ 2018 کے ایڈیشن میں بھی ٹیم کوئی میچ جیتنے میں ناکام رہی۔

اس کے بعد آٹھ سال کے وقفے کے بعد پاکستان نے دوبارہ ورلڈ کپ میں شرکت کی، لیکن رواں ایونٹ کے مین راؤنڈ میں ٹیم کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔

پاکستان کو انگلینڈ اور روایتی حریف کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ویلز کے خلاف میچ 3-3 سے برابر ہونے کے باعث ٹیم نے صرف ایک پوائنٹ حاصل کیا۔

مین راؤنڈ سے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی نہ کرنے کے بعد پاکستان نے 9ویں سے 16ویں پوزیشن کے درجہ بندی میچ میں جاپان کا سامنا کیا۔

گرین شرٹس کے لیے اہم حوصلہ افزائی

اگرچہ پاکستان مین راؤنڈ سے آگے نہیں بڑھ سکا، تاہم جاپان کے خلاف کامیابی نے ٹیم اور شائقین کو ایک اہم مثبت لمحہ فراہم کیا ہے۔

دو گول کے خسارے سے واپسی اور پھر فیصلہ کن برتری حاصل کرنا پاکستانی ٹیم کے عزم اور فائٹنگ اسپرٹ کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان ہاکی ٹیم اب ورلڈ کپ میں اپنی مہم کو بہتر انداز میں ختم کرنے اور اس کامیابی سے مستقبل کے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔