ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی سنسنی خیز، جذباتی اور تماشائیوں کو اپنی نشستوں پر بٹھائے رکھنے والے مقابلے میں بھارت نے پاکستان کو 5-3 سے شکست دے دی۔
یہ میچ نہ صرف اسکور لائن کے اعتبار سے اہم تھا بلکہ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان کھیل کے معیار، حکمتِ عملی اور جذبے کے لحاظ سے بھی ایک یادگار مقابلہ ثابت ہوا۔
میچ کا آغاز ہی بھارت کے تیز رفتار اور منظم کھیل سے ہوا۔ بھارتی ٹیم نے پہلے ہی کوارٹر میں جارحانہ انداز اپناتے ہوئے پاکستان کے دفاعی حصے پر دباؤ بڑھایا اور جلد ہی گول اسکور کر کے برتری حاصل کر لی۔ اس ابتدائی گول نے بھارت کے اعتماد میں اضافہ کیا جبکہ پاکستان کو اپنے کھیل کی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنا پڑی۔
دوسرے کوارٹر میں بھارت نے اپنی گرفت مزید مضبوط کی۔ مڈفیلڈ میں بہترین کنٹرول، تیز پاسنگ اور مسلسل حملوں نے پاکستان کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا۔ اسی دوران بھارت نے ایک اور گول اسکور کر کے اسکور 2-0 کر دیا، جس کے بعد پاکستان پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔
پاکستانی ٹیم نے تیسرے کوارٹر میں بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کی۔ مڈفیلڈ میں کچھ اچھے موومنٹس دیکھنے میں آئے اور پاکستان نے ایک گول اسکور کر کے مقابلے میں واپسی کی امید پیدا کی۔ تاہم بھارت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اپنی برتری برقرار رکھی اور ایک اور گول کے ساتھ اسکور 3-1 کر دیا۔
میچ کا سب سے ڈرامائی اور دلچسپ مرحلہ آخری کوارٹر میں دیکھنے میں آیا۔ پاکستان نے غیر معمولی جذبے اور فائٹنگ اسپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل حملے کیےاس دباؤ کے نتیجے میں پاکستان نے دو شاندار گول اسکور کیے،
تاہم بھارت نے تجربے اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری لمحات میں کھیل کا رخ دوبارہ اپنے حق میں موڑ لیا۔ بھارتی ٹیم نے دو مزید گول اسکور کر کے میچ 5-3 سے اپنے نام کر لیا۔ آخری منٹوں میں بھارت کی دفاعی لائن نے بھی شاندار کارکردگی دکھائی اور پاکستان کو مزید گول کرنے سے روک دیا۔
بین الاقوامی میڈیا نے اس میچ کو “ہائی انٹینسٹی کلاسک” قرار دیا۔ بھارت کی منظم حکمتِ عملی، ٹیم ورک اور موقع سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کو بھرپور سراہا گیا، جبکہ پاکستان کی آخری کوارٹر میں شاندار واپسی اور فائٹنگ اسپرٹ کو بھی نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان نے اگرچہ میچ کے آغاز میں کمزور دفاعی کارکردگی دکھائی، تاہم آخری کوارٹر میں ان کی کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیم میں صلاحیت موجود ہے۔ اگر پاکستان اپنی دفاعی حکمتِ عملی، کنسٹریشن اور مستقل مزاجی میں بہتری لائے تو وہ آنے والے میچوں میں کسی بھی بڑی ٹیم کے لیے خطرناک حریف ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ مقابلہ نہ صرف اسکور کے لحاظ سے بلکہ جذبات، دباؤ اور کھیل کے معیار کے اعتبار سے بھی ورلڈ کپ 2026 کے یادگار ترین میچوں میں شمار کیا جائے گا۔
رپورٹ: عاصم صدیقی

