چمن: سیشن عدالت نے اے این پی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی کی ضمانت منسوخ کر دی، کمرہ عدالت سے گرفتار
اے این پی قیادت کا گرفتاری پر اظہارِ تشویش، سیاسی جماعتوں کی مذمت؛ اصغر خان اچکزئی کی کارکنوں سے پُرامن رہنے کی اپیل
چمن (سید سردار محمد خوندئی): سیشن جج چمن کی عدالت نے بدھ کے روز ایک مقدمے کی سماعت کے دوران عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) بلوچستان کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کی ضمانت منسوخ کر دی، جس کے بعد انہیں کمرۂ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاری کے فوراً بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اصغر خان اچکزئی نے پارٹی کارکنوں کو پُرامن رہنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ فکرِ باچا خان کے پیروکار ایسے ہتھکنڈوں سے صدیوں سے واقف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس واقعے کی آڑ میں ریاستی ادارے علاقے اور ملک میں نفرت پھیلانے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو واضح ہدایت دی کہ کوئی ہڑتال یا شٹر ڈاؤن نہیں ہوگا اور تمام کارکن پُرامن رہیں گے۔
اصغر خان اچکزئی نے مزید کہا کہ وہ ملک کے مقتدر حلقوں کے عزائم سے بخوبی آگاہ ہیں۔
اے این پی کی مرکزی و صوبائی قیادت کا اظہارِ تشویش
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان سمیت مرکزی اور صوبائی قیادت نے اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پارٹی قیادت کے مشترکہ بیان میں مقدمے کے مدعی کی جانب سے پیش کیے گئے بیانِ حلفی کو نظر انداز کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اے این پی عدالت سے مایوس نہیں اور ان شاء اللہ فتح اس کی ہوگی۔
مختلف سیاسی جماعتوں کی گرفتاری کی مذمت
بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں، جن میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) شامل ہیں، نے اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔
دوسری جانب چمن میں عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کارکنوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی اور کسی بھی قسم کے احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیا۔
عدالتی فیصلے پر قانونی ماہرین کے سوالات
قانونی ماہرین نے ضمانت منسوخ کیے جانے کے فیصلے پر بعض سوالات اٹھائے ہیں۔ ایڈووکیٹ اولس یار ترین، کلیم اللہ اچکزئی اور دیگر وکلا کے مطابق سیشن جج چمن کے 21 اکتوبر 2026 کے حکم نامے کی ایک نقل سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔
ان وکلا کا کہنا ہے کہ دستیاب نقل میں نہ تو مدعی مقدمہ کے روبرو دیے گئے بیان کا ذکر موجود ہے اور نہ ہی اسٹامپ پیپر پر جمع کرائے گئے حلف نامے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتِ حال انصاف کے تقاضوں سے متعلق سوالات پیدا کرتی ہے۔
تاہم، عدالتی فیصلے اور مقدمے کے مکمل ریکارڈ کی آزادانہ تصدیق کے بغیر ان اعتراضات کو وکلا کے مؤقف کے طور پر ہی پیش کیا جانا چاہیے۔
اے این پی کا آئین و قانون کی بالادستی پر زور
عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ وہ آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور عدلیہ سمیت تمام عدالتی اداروں کا احترام کرتی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ہر شہری کو قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔
پارٹی کے مطابق، ’’امن ہماری روایت ہے، اتحاد ہماری طاقت ہے اور انصاف ہمارا بنیادی حق ہے۔‘‘
اے این پی نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری کے بعد پارٹی قیادت اور مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والے ردِعمل کے دوران اے این پی نے کارکنوں کو پُرامن رہنے کی ہدایت برقرار رکھی ہے۔
