وقت کا فریب: ابدیت، کوانٹم مکینکس، بلاک یونیورس کا راز اور آزاد ارادے کا خاتمہ
میاں افتخار احمد
جدید نظریاتی طبیعیات، کوانٹم مکینکس اور دماغی سائنس کی دنیا میں وقت اور انسانی ارادے کے وجود کے بارے میں ابھرنے والے سوالات نے عقل کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں کائنات اور انسان کی سب سے بنیادی سچائیاں ہمارے روزمرہ کے تجربات اور مشاہدات کی نفی کرتی نظر آتی ہیں۔
گھڑی کی سوئیوں سے کوانٹم اینٹینگلمنٹ تک کی ترقی کیا وقت واقعی ایک سائنسی دھوکہ ہے؟
کوانٹم ڈیکوہورنس اور وقت کا ظہور،کیا یہ ایک غیر متغیر کائنات میں بہاؤ کا احساس ہے ؟
پلیٹونیا کی دنیا، کیا ہمارا ماضی، حال اور مستقبل پہلے سے موجود ہے کیا تقدیر کا نظریہ/خیال ثابت ہونے جا رہا ہے ؟
کیا ابدیت کے کینوس میں ماضی، حال اور مستقبل کا غیر متغیر سفرجاری ہے؟
زمان و مکان کی سرحدیں، کیاکوانٹم مکینکس اور ریاضی نے کائنات کی بنیادی مساواتوں سے وقت غائب کر دیا ہے؟
یہ نئے بنیادی سوالات ہیں جو سائنس کی ترقی سے سامنے آ گئے ہیں ۔صدیوں سے انسان یہ سمجھتا رہا ہے کہ وقت ایک ندی کی طرح ایک ہی سمت میں مسلسل بہہ رہا ہے جس میں ماضی پیچھے چھوٹ جاتا ہے، حال میں ہم سانس لیتے ہیں اور مستقبل نا معلوم گہرائیوں میں چھپا ہوا ہوتا ہے لیکن جدید سائنسی تحقیق نے اس مفروضے کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔ وقت جسے ہم اپنی گھڑیوں کی سوئیوں کے ذریعے ناپتے ہیں، دراصل کائنات کے بنیادی قوانین میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور اس غیر متغیر بلاک یونیورس میں انسان کا خود کو اپنے فیصلے کا مختارِ کل سمجھنا یعنی آزاد ارادہ محض دماغی کیمسٹری اور کوانٹم پروسیسنگ کا بنایا ہوا ایک پائیدار دھوکہ ہے۔
اس حیران کن سائنسی سفر کی شروعات اس وقت ہوئی جب 1965 میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے اٹھائیس سالہ طالب علم جولین باربور نے پاؤل ڈراک کے 1958 کے ایک سائنسی مقالے کو پڑھا جس میں جنرل ریلیٹیویٹی کو کوانٹم مکینکس کے بنیادی اصولوں میں ڈھالنے کی ریاضیاتی کوشش کی گئی تھی۔ اس مقالے کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہوئے باربور پر یہ سچائی آشکار ہوئی کہ اگر کائنات کے بنیادی قوانین کو کوانٹم کی سطح پر پرکھا جائے تو ان میں وقت کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اس نقطے نے باربور کی زندگی کا رخ بدل دیا اور انہوں نے سائنسی اداروں کی روایتی تحقیق اور پروفیسری کو خیرباد کہہ کر انگلینڈ کے ایک خاموش دیہات کے پرانے فارم ہاؤس میں پناہ لی اور روسی زبان کے سائنسی مقالوں کے ترجمے کر کے اپنا روزگار چلانے کے ساتھ ساتھ وقت کی حقیقت پر کام شروع کیا۔ باربور نے 1999 میں اپنی کتاب دی اینڈ آف ٹائم میں یہ موثر موقف پیش کیا کہ وقت نامی کسی آزاد بہاؤ کا کوئی وجود نہیں ہے بلکہ پوری کائنات ساکت اور منجمد حالتوں کا ایک لا متناہی مجموعہ ہے جسے انہوں نے افلاطونی دنیا سے تشبیہ دیتے ہوئے پلیٹونیا کا نام دیا۔ ان کے نزدیک ہر لمحہ یا ناو اپنے آپ میں ایک مکمل اور ساکت تصویر یعنی فروزن سنیپ شاٹ ہے جہاں ماضی، حال اور مستقبل سب ایک ساتھ قائم و دائم ہیں اور انسان کا شعور صرف ان ساکت تصاویر کے درمیان ایک راستے پر حرکت کرتا دکھائی دیتا ہے۔

باربور کی اس سوچ کی مضبوط ریاضیاتی بنیاد 1967 میں اس وقت قائم ہوئی جب جان وہیلر اور برائس ڈی وٹ نے کائنات کے تمام مادے اور توانائی کے لیے کوانٹم مکینکس کی بنیادی شروڈنگر مساوات لاگو کرنے کی کوشش کی۔ برائس ڈی وٹ نے شکاگو کے ہوائی اڈے پر فلائٹ کا انتظار کرتے ہوئے آئن سٹائن کی جنرل ریلیٹیویٹی جو کہ کہکشاؤں اور تاروں پر لاگو ہوتی ہے اور کوانٹم مکینکس جو کہ ایٹموں اور زرات کا حساب رکھتی ہے، کو باہم ملا کر پوری کائنات کا ویو فنکشن لکھا۔ اس کوشش کا نتیجہ طبیعیات کی تاریخ کا سب سے بڑا صدمہ ثابت ہوا کیونکہ جب کائنات کی کل توانائی ناپنے والے ہیملٹونین آپریٹر کو اس ویو فنکشن پر لاگو کیا گیا تو جواب صفر آیا۔ ریاضیاتی اصولوں کے مطابق جب مساوات کی ایک طرف کل توانائی صفر ہو جائے تو وقت کی تبدیلی کا متغیر بھی ریاضیاتی طور پر غائب ہو جاتا ہے جس مساوات کو آج وہیلر ڈی وٹ مساوات کا نام دیا جاتا ہے۔ اس مساوات کا صاف اور واضح مطلب یہ تھا کہ جب ہم پوری کائنات کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتے ہیں تو اس میں وقت کی حرکت کا کوئی نشان نہیں ملتا اور اس کیفیت کو طبیعیات دانوں کی دنیا میں پرابلم آف ٹائم کہا جاتا ہے۔
مساواتوں میں سے وقت کا یوں غائب ہو جانا کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ اس کا گہرا سائنسی سبب کائنات کی توانائی کی ساخت میں چھپا ہے۔ فزکس دانوں کے مطابق کائنات میں موجود تمام مادے اور روشنی کی توانائی مثبت ہوتی ہے جبکہ مادے کو آپس میں باندھنے والی کشش ثقل یعنی گریویٹی کی توانائی منفی ہوتی ہے۔ جب ان دونوں اقسام کی توانائیوں کو یکجا کیا جاتا ہے تو یہ ایک دوسرے کے اثر کو بالکل زائل کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے پوری کائنات کی مجموعی توانائی ہمیشہ صفر حاصل ہوتی ہے۔ کوانٹم مکینکس کا بنیادی قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی نظام میں وقت کے ساتھ تبدیلی کا انحصار اس نظام کی کل توانائی پر ہوتا ہے اور چونکہ کائنات سے باہر کوئی فریم آف ریفرنس یا بیرونی گھڑی موجود نہیں ہے اس لیے مجموعی طور پر کائنات کے اندر وقت کی کوئی ریاضیاتی گنجائش نہیں بچتی۔یہ حیران کن سائنسی دریافت آئن سٹائن کے اس نظریے کی تائید کرتی ہے جو انہوں نے سپیس ٹائم کنٹینیوم کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ مارچ 1955 میں جب آئن سٹائن کے انتہائی قریب اور پیارے دوست مائیکل بیسو کا انتقال ہوا تو آئن سٹائن نے ان کے سوگوار خاندان کے نام تعزیت کا ایک تاریخی خط لکھا جس میں انہوں نے لکھا کہ مائیکل اس عجیب دنیا سے مجھ سے تھوڑا پہلے رخصت ہوا ہے لیکن اس کا کوئی مطلب نہیں کیونکہ ہم فزکس دانوں کے نزدیک ماضی، حال اور مستقبل کا فرق صرف ایک ضدی اور مسلسل برقرار رہنے والا دھوکہ ہے۔ اس خط کے لکھنے کے محض ایک ماہ بعد آئن سٹائن خود بھی وفات پا گئے لیکن ان کی جنرل ریلیٹیویٹی کی بنیاد پر جو تصور ابھرا اسے جدید طبیعیات میں فور ڈائمنشنل بلاک یونیورس یا ایٹرنلزم کہا جاتا ہے۔ بلاک یونیورس کے نظریے کی رو سے خلا یعنی سپیس کی تین سمتوں اور وقت کی چوتھی سمت کے ملنے سے ایک ٹھوس چار جہتی بلاک بنتا ہے جس میں تاریخ کا ہر واقعہ یعنی بگ بینگ سے لے کر دنیا کے آخری لمحے تک کے تمام مناظر ایک ہی جگہ اور ایک ہی وقت میں موجود ہیں۔
برائن گرین نے اپنی شہرہ آفاق کتاب میں بلاک یونیورس کے اس تصور کو سمجھانے کے لیے ریلیٹیویٹی آف سائملٹینیٹی کی ایک بہت ہی عمدہ مثال دی ہے۔ برائن گرین کی مثال کے مطابق اگر زمین سے دس ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود کسی کہکشاں میں ایک خلائی مخلوق ساکت کھڑی ہو تو اس کا حال کا لمحہ اور زمین پر ہمارا موجودہ لمحہ بالکل ایک سیدھ میں ہوتے ہیں لیکن اگر وہی خلائی مخلوق سائیکل پر بیٹھ کر معمولی رفتار سے زمین سے دور جانے لگے تو اس کی حرکت کی وجہ سے سپیس ٹائم کے اینگل میں تبدیلی آ جاتی ہے جس سے اس کے حال کا لمحہ زمین کے سینکڑوں سال پرانے ماضی سے جا ملتا ہے۔ اگر وہی سائیکل سوار اپنا رخ موڑ کر زمین کی طرف آنا شروع کر دے تو اس کا حال زمین کے سینکڑوں سال بعد کے مستقبل سے جا ملتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اگر کائنات کے کسی کونے میں موجود مشاہدہ کار کے لیے ہمارا مستقبل اس کا حال بن چکا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا مستقبل اب بھی مکمل تفصیلات کے ساتھ وہاں پہلے سے موجود ہے۔
تاہم سائنس دانوں کے سامنے یہ بڑا سوال اٹھا کہ اگر کائنات کی بنیاد میں وقت موجود نہیں ہے تو پھر ہمیں اپنے روزمرہ کے تجربات میں وقت کا بہاؤ کیوں محسوس ہوتا ہے اور ہماری گھڑیاں کس چیز کو ناپتی ہیں۔ اس معمے کو سلجھانے کے لیے 1983 میں ڈان پیج اور ولیم ووٹرز نے ایک نیا میکانزم پیش کیا جسے پیج اینڈ ووٹرز میکانزم یا ٹائم فرام اینٹینگلمنٹ کہا جاتا ہے۔ ان دونوں ماہرین نے یہ نظریہ دیا کہ کائنات بحیثیت مجموعی تو بالکل ساکت اور منجمد ہے لیکن جب کائنات کے اندر موجود ذرات کوانٹم اینٹینگلمنٹ کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں تو ان کے باہمی تعلق کی وجہ سے وقت کا احساس ابھرتا ہے۔ اگر ایک نظام کو گھڑی مان لیا جائے اور دوسرے نظام کو اس کے ساتھ اینٹینگل کر دیا جائے تو کائنات کے باہر سے دیکھنے والے کو پورا نظام ساکت نظر آئے گا لیکن اندر موجود مشاہدہ کار کو گھڑی کی حالت بدلنے کے ساتھ ساتھ باقی کائنات کی حالت بدلتی ہوئی محسوس ہوگی جسے ہم وقت کا بہاؤ کہتے ہیں۔ اس نظریے کی تصدیق 2013 میں اٹلی کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ایکاتیرینا موریوا اور ان کی ٹیم نے لیبارٹری میں اینٹینگلڈ فوٹونز پر تجربہ کر کے کی جہاں بیرون سے دیکھنے پر فوٹونز کا سسٹم منجمد رہا جبکہ اندرونی طریقہ کار کے تحت ان میں وقت کی تبدیلی ریکارڈ کی گئی۔
اسی بنیادی سطح پر وقت کے ابھرنے کے عمل کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے کوانٹم کوہورنس اور کوانٹم ڈیکوہورنس کے نظریات کو جاننا انتہائی ضروری ہے جسے فزکس دان ایچ ڈی زیہ نے 1970 کی دہائی میں پیش کیا اور بعد میں ووجچیچ زریک نے اسے مزید وسعت دی۔ کوانٹم سطح پر مادے اور طاقت کے تمام ذرات کوانٹم کوہورنس یعنی ایک انتہائی مربوط، پرسکون اور لہروں جیسی ملٹیپل حالتوں یعنی سپوزیشن میں موجود ہوتے ہیں جہاں وقت کی کوئی متعین سمت یا Arrow of Time نہیں ہوتا۔ اس کوہورنٹ حالت میں کوانٹم مساواتیں ماضی اور مستقبل میں بالکل ایک جیسی رویہ دکھاتی ہیں یعنی وہ Time-Symmetric ہوتی ہیں۔ لیکن جیسے ہی یہ چھوٹا کوانٹم سسٹم اپنے ماحول یا بقیہ کائنات کے ساتھ ذرات کا تبادلہ کرتا ہے، کوانٹم کوہورنس ختم ہو جاتی ہے اور اس عمل کو کوانٹم ڈیکوہورنس کہا جاتا ہے۔ ڈیکوہورنس کی وجہ سے کوانٹم نظام کا تمام انفارمیشن یا معلومات بقیہ ماحول میں بکھر جاتی ہے اور کوانٹم سپر پوزیشن ختم ہو کر ایک واحد کلاسکلی متعین حالت بن جاتی ہے۔ زیہ اور زریک کی تحقیقات کے مطابق کوانٹم ڈیکوہورنس ہی وہ بنیادی پل ہے جو کوانٹم لیول کی وقت سے پاک یعنی Timeless دنیا کو ہماری روزمرہ کی کلاسیکل دنیا سے جوڑتا ہے۔ جب ڈیکوہورنس کا یہ یکطرفہ عمل رونما ہوتا ہے تو انفارمیشن کی واپسی ناممکن ہو جاتی ہے اور یہی عمل حرارت کی انٹروپی کو بڑھاتا ہے، جس کی بدولت ایک ایسا غیر معکوس یعنی Irreversible تیر بنتا ہے جسے ہمارا ذہن وقت کا بہاؤ تسلیم کرتا ہے۔ بغیر کوانٹم ڈیکوہورنس کے کوانٹم کوہورنس کبھی کلاسیکل حقیقت میں تبدیل نہیں ہو سکتی تھی اور وقت کا احساس کبھی جنم نہیں لے سکتا تھا۔
کوانٹم مکینکس میں وقت کے گرد گھومنے والی بحث یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہHugh Everett III کے 1957 میں پیش کردہ مینی ورلڈز انٹرپریٹیشن نے وقت کی تعریف کو ایک بالکل نیا دھارا دیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق کوانٹم ویو فنکشن کبھی کولیپس نہیں ہوتا بلکہ جب بھی کوئی کوانٹم پیمائش یا تعامل ہوتا ہے، کائنات ان گنت الگ الگ شاخوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ اس تشریح میں وقت کوئی سیدھی لکیر نہیں ہے بلکہ ایک لامتناہی درخت کی شاخوں کی طرح ہے جہاں ماضی کے ہر کوانٹم واقعے نے متوازی کائناتوں کا ایک نیا جال بچھایا ہوا ہے اور وقت کا بہاؤ محض اس مخصوص شاخ کے اندر ممکن ہوتا ہے جس میں ہمارا شعور آگے بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح رچرڈ فائنمین کی فائنمین ڈایاگرامز اور کوانٹم الیکٹروڈائنامکس کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ سچائی سامنے آتی ہے کہ کوانٹم سطح پر ذرات کا ماضی سے مستقبل کی طرف جانا اور پوزیٹران جیسے اینٹی میٹر ذرات کا مستقبل سے ماضی کی طرف سفر کرنا ریاضیاتی طور پر بالکل ایک برابر ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوانٹم مکینکس کی بنیادی سطح پر وقت کی آگے کی طرف حرکت کوئی مجبوری یا واحد سمت نہیں ہے بلکہ منفی اور مثبت دونوں سمتوں میں مساواتیں یکساں طور پر درست کام کرتی ہیں۔ مزید برآں، جدید ایڈوانسڈ ویو تھیوری اور جان وہیلر اور رچرڈ فائنمین کی ہی پیش کردہ Absorber Theory یہ واضح کرتی ہے کہ کوانٹم تعاملات میں صرف ماضی کا اثر مستقبل پر نہیں پڑتا بلکہ مستقبل کی سرحدیں اور حالات بھی ماضی کے کوانٹم ایونٹس کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جس سے وقت کا حتمی یکطرفہ سفر مکمل طور پر مشکوک ہو جاتا ہے۔دوسری طرف کارلو روویلی نے لوپ کوانٹم گریویٹی کے دائرہ کار میں تھرمل ٹائم ہائپوتھیسز کا تصور پیش کرتے ہوئے وقت کو ایک بنیادی اکائی ماننے کے بجائے ایک ایمرجنٹ مظہر قرار دیا۔ کارلو روویلی اور ان کے ساتھیوں کے مطابق سپیس ٹائم مسلسل نہیں ہے بلکہ یہ دس کی طاقت نفی پینتیس میٹر کے کوانٹم دانوں یعنی اسپن نیٹ ورکس پر مشتمل ہے اور اس بنیادی سطح پر وقت کا نام و نشان نہیں۔ روویلی کے مطابق وقت کا بہاؤ اصل میں انسان کی لا علمی اور کائنات کی معلومات کو ایک ساتھ نہ دیکھ سکنے کی محدود صلاحیت کا نتیجہ ہے۔ جب ہم کھربوں ذرات کی اندرونی حالتوں کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ان کا مجموعی مطالعہ کرتے ہیں تو حرارت اور انٹروپی کے بڑھنے کی وجہ سے جو دھندلا پن پیدا ہوتا ہے وہی ہمیں وقت کا احساس دلاتا ہے۔ اس کے برعکس اسٹرنگ تھیوری کا نقطہ نظر یہ ہے کہ کائنات بنیادی دھاگوں یا اسٹرنگز کے تھرتھرانے سے بنی ہے اور اس تھیوری میں وقت اور مکان کو ایک بنیادی اسٹیج کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسٹرنگ تھیوری آئن سٹائن کے بلاک یونیورس کے قریب تر ہے اور اس میں وقت کو ایک مسلسل پیرامیٹر مانا جاتا ہے جو کہ لوپ کوانٹم گریویٹی کے بیک گراؤنڈ انڈیپینڈنٹ نظریے کے بالکل برعکس ہے۔ لی سمولن اور شان کیرول جیسے فزکس دان وقت کو مکمل طور پر بنیادی حقیقت ماننے کے حامی ہیں اور ان کا موقف ہے کہ وقت کے بغیر کائنات کا ارتقاء اور ہمارے تجربات کی وضاحت ممکن نہیں ہے تاہم وہ بھی اب تک ایسی کوئی عالمگیر مساوات پیش نہیں کر سکے جو کوانٹم لیول پر وقت کو بحال کر سکے۔
وقت اور بلاک یونیورس کے اس نظریے نے صرف طبیعیات کو ہی متزلزل نہیں کیا بلکہ نیورو سائنس کے میدان میں انسان کی فری ول یعنی آزاد ارادے پر کی جانے والی جدید تحقیقات نے اس سائنسی حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ 1980 کے دہائی میں کیلیفورنیا یونیورسٹی کے نیورو سائنسدان بنجمن لبٹ نے ایک تاریخی تجربہ ترتیب دیا جس نے انسان کی خود مختاری کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ لبٹ نے رضاکاروں کے سروں پر الیکٹرو اینسیفالو گرافی یعنی ای ای جی کی باریک تاریں لگائیں جو ان کے دماغی سگنلز کو ریکارڈ کر رہی تھیں اور ان سے کہا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی وقت ایک بٹن دبائیں اور گھڑی پر دیکھ کر بتائیں کہ ان کے دل میں بٹن دبانے کی خواہش یا ارادہ کس لمحے پیدا ہوا۔ جب تجربے کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تو ششدر کر دینے والے نتائج سامنے آئے کیونکہ رضاکار کے "اپنی مرضی سے بٹن دبانے کا فیصلہ کرنے” سے نصف سیکنڈ یعنی تقریباً پانچ سو ملی سیکنڈز پہلے ہی ان کے دماغ کے موٹر کورٹیکس میں الیکٹریکل سگنل بن چکا تھا جسے لبٹ نے ریڈینیس پوٹینشل کا نام دیا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس لمحے اپنی آزاد مرضی سے ایک راستہ چن رہا ہے، اس سے پہلے ہی اس کے دماغ کا نیورولوجیکل الگورتھم وہ فیصلہ سنا چکا ہوتا ہے اور ہمارا شعور محض ایک ناظر کی طرح اس پر "میں نے یہ چاہا” کا جعلی لیبل لگا دیتا ہے۔
بعد میں 2008 میں نیورو سائنسدان جان ڈائلن ہینز نے جدید ترین ایف ایم آر آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے اس تجربے کو مزید آگے بڑھایا اور یہ ثابت کیا کہ انسان کے بٹن دبانے کا فیصلہ کرنے سے پورے سات سے دس سیکنڈ پہلے ہی ان کے دماغ کے پری فرنٹل اور پیرائٹل کورٹیکس میں بننے والے پیٹرنز کو دیکھ کر کمپیوٹر یہ بتا سکتا تھا کہ انسان دائیں ہاتھ کا بٹن دبائے گا یا بائیں ہاتھ کا۔ یہ تجربات اس بات کا حتمی سائنسی ثبوت ہیں کہ فور ڈائمنشنل بلاک یونیورس کی طرح انسانی دماغ بھی طبعی قوانین کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک بائیولوجیکل سسٹم ہے جہاں تمام کیمیائی اور برقی تعاملات جبریت کے تحت رونما ہوتے ہیں اور انسان اپنے فیصلوں کا آزادانہ خالق نہیں بلکہ محض ایک بائیولوجیکل روبوٹ کی طرح برتاؤ کرتا ہے۔
آزاد ارادے کی اس سائنسی نفی کے بعد جرم، سزا اور اخلاقی ذمہ داری کے انسانی نظام پر زبردست فلسفیانہ اور قانونی بحث چھڑ جاتی ہے کیونکہ اگر کوئی مجرم اپنے عمل کا خود خالق نہیں تھا اور اس کا وہ فعل بلاک یونیورس کا لازمی حصہ اور اس کے دماغ کے نیورولوجیکل پیٹرنز کا نتیجہ تھا تو اسے سزا دینے کا روایتی انتقامی جواز یعنی ریٹریبیوٹو جسٹس باقی نہیں رہتا۔ ڈینیئل ڈینیٹ اور شان کیرول جیسے مفکرین نے مطابقت پسندی کے ذریعے اس کا یہ حل پیش کیا ہے کہ فزکس اور نیورو سائنس کی بنیادی سطح پر اگرچہ وقت اور آزاد ارادہ غائب ہیں لیکن انسانی رویوں کی اونچی سطح پر معاشرے کے نظم و ضبط، بقا اور حفاظت کے لیے اخلاقیات اور سزاؤں کو بطورِ ٹول استعمال کرنا ایک لازمی عملی ضرورت ہے۔ مجرم کو سزا دینا اس کے برے ارادے کا بدلہ لینے کے لیے نہیں بلکہ باقی معاشرے کو اس سے محفوظ رکھنے اور اس کے برقی نظام میں ایک بیرونی ان پٹ شامل کر کے اسے اصلاح کی طرف مائل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح اگر جرم کرنا بلاک یونیورس کا حصہ تھا تو پولیس کا اسے پکڑنا، عدالتی کارروائی اور قانون کا وجود بھی اسی بلاک یونیورس کی طبعی زنجیر کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔
بالآخر جولین باربور کا ایک ٹرین کے سفر میں شروع ہونے والا سوچ کا سفر، بنجمن لبٹ کے نیورولوجیکل تجربات، کوانٹم ڈیکوہورنس، مینی ورلڈز انٹرپریٹیشن اور فائنمین کا بنیادی کوانٹم ماڈل آج انسانی عقل کو اس نقطے پر لے آئے ہیں جہاں یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ وقت کائنات کی کوئی بنیادی اور حتمی اکائی نہیں ہے اور نہ ہی انسان کا ارادہ طبعی قوانین سے آزاد ہے، بلکہ یہ دونوں کوانٹم اینٹینگلمنٹ، ڈیکوہورنس، حرارت کی انٹروپی اور انسانی دماغ کی ساخت سے جنم لینے والے پائیدار فریب ہیں اور انسان جسے زندگی کا گزرنا اور اپنے فیصلوں سے تقدیر تراشنا کہتا ہے وہ اصل میں ایک بے انتہا اور غیر متغیر ابدی کینوس پر بکھرے ہوئے ساکت مناظر کا ایک ایسا سلسلہ ہے جس میں کچھ بھی کبھی ضائع یا ختم نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ کے لیے اسی لا متناہی تصویر میں محفوظ رہتا ہے۔
