فرانس میں احتجاج کی روایت اور انقلابِ فرانس کے اثرات

پیرس میں فرانسیسی پرچموں کے ساتھ عوامی مظاہرہ، جو فرانس کی احتجاجی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔

وارث شاہ عادتاں ایویں جاندیاں نیں

تحریر: محمد محسن اقبال

قوموں کی زندگی میں کچھ واقعات محض تاریخ کا حصہ نہیں بنتے بلکہ ان کے اجتماعی شعور، مزاج اور طرزِ فکر میں ہمیشہ کے لیے رچ بس جاتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، نسلیں بدل جاتی ہیں، حکومتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں، مگر بعض تاریخی تجربات قوموں کی نفسیات پر ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جنہیں مٹانا آسان نہیں ہوتا۔ فرانس بھی ایسی ہی قوم ہے جس کے مزاج میں انقلاب کی یاد آج تک زندہ ہے۔ دو صدیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود فرانسیسی عوام جب کسی حکومتی فیصلے کو اپنے معاشی مفادات یا بنیادی حقوق کے منافی سمجھتے ہیں تو سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ ان کے نزدیک احتجاج محض ناراضی کا اظہار نہیں بلکہ حکمرانوں کو یہ یاد دلانے کا ایک ذریعہ بھی ہے کہ اقتدار کی حدود ہوتی ہیں اور عوامی اعتماد کے بغیر اس کی بنیادیں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔

1789ء کا انقلابِ فرانس اسی حقیقت کی ایک تاریخی مثال تھا۔ اس وقت فرانس کی بادشاہت مالی بحران سے دوچار تھی، مراعات یافتہ طبقے اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے اور عام آدمی ٹیکسوں، مہنگائی اور خوراک کی قلت کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ ایک طرف شاہی دربار کی شان و شوکت تھی، دوسری طرف عوام کی محرومیاں۔ جب معاشی مشکلات کے ساتھ سیاسی بے اختیاری بھی جمع ہو جائے تو بے چینی رفتہ رفتہ بغاوت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ باستیل کے قلعے پر دھاوا اسی عوامی اضطراب کی علامت بن گیا۔ آزادی، مساوات اور اخوت کے نعرے فرانس کی سرحدوں سے نکل کر دنیا بھر میں سیاسی تبدیلی کی علامت بن گئے۔

تاہم تاریخ کو محض رومانوی انداز میں دیکھنا بھی درست نہیں۔ انقلابِ فرانس اپنے ساتھ تشدد، انتشار اور سیاسی انتہا پسندی بھی لایا۔ جمہوریت کی امیدوں کے درمیان آمرانہ اقتدار اور سلطنتی عزائم نے بھی جنم لیا۔ اس کے باوجود اس انقلاب نے موروثی مراعات اور مطلق العنان حکمرانی کے تصور کو شدید چیلنج کیا اور جدید سیاسی فکر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس کا بنیادی سبق آج بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ حکومت کا جواز صرف قوت، قانون یا اختیار سے پیدا نہیں ہوتا؛ اسے عوام کی ضروریات، توقعات اور رضامندی سے بھی تقویت ملتی ہے۔

فرانس میں آج بھی ہڑتالیں، احتجاج اور عوامی مظاہرے سیاسی زندگی کا نمایاں حصہ ہیں۔ پنشن اصلاحات ہوں، محنت کشوں کے حقوق کا معاملہ ہو یا عوامی خدمات میں تبدیلیاں، حکومت کو اکثر شدید عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض حلقے اس طرزِ عمل کو معاشی ترقی اور جدیدیت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلسل احتجاج حکومت کی فیصلہ سازی کو کمزور اور اصلاحات کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر کسی اصلاح کا بیشتر بوجھ عام شہریوں پر پڑے، اگر بڑھتے ہوئے اخراجات سے متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کی زندگی دشوار ہو جائے اور مراعات یافتہ طبقہ نسبتاً محفوظ رہے، تو عوام خاموش کیوں رہیں؟

یہاں احتجاج کی اصل معنویت سامنے آتی ہے۔ ہر احتجاج انقلاب نہیں ہوتا اور ہر اختلاف ریاست سے دشمنی کے مترادف نہیں۔ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے، بلکہ بعض اوقات یہی اختلاف حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے اور عوامی مشکلات کا ادراک کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ موجودہ فرانس اور 1789ء کے فرانس میں واضح فرق ہے۔ آج وہاں آئینی ادارے، انتخابات اور جمہوری طریقۂ کار موجود ہیں، جن کے ذریعے شہری اپنی شکایات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اس لیے پنشن یا ٹیکسوں پر ہونے والے احتجاج کو مطلق العنان بادشاہت کے خلاف بغاوت کے برابر قرار دینا تاریخ کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینے کے مترادف ہوگا۔ اصل مماثلت اس سیاسی روایت میں ہے جس میں عوام اپنے حقوق اور معاشی انصاف کے معاملے پر آواز اٹھانے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔

معاشی اعداد و شمار بھی ہمیشہ عوامی زندگی کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ کسی ملک کی معیشت کے مستحکم ہونے کا اعلان کیا جا سکتا ہے، مگر اس استحکام کا حقیقی امتحان اس وقت ہوتا ہے جب عام شہری بازار سے ضروری اشیا خریدنے، گھر کا کرایہ ادا کرنے اور روزمرہ اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر قومی معیشت کے اشاریے بہتر ہوں لیکن شہری کی قوتِ خرید مسلسل دباؤ کا شکار رہے تو اعداد و شمار اور عوامی احساسات کے درمیان خلیج پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی خلیج رفتہ رفتہ حکومت پر اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ قربانی کا مطالبہ صرف ان سے کیا جا رہا ہے، تو مسئلہ محض مہنگائی یا ٹیکس کا نہیں رہتا بلکہ انصاف اور مساوات کا سوال بن جاتا ہے۔

ایسے حالات میں حکومت کے لیے دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ احتجاج کو صرف امن و امان کا مسئلہ نہ سمجھے۔ ریاستی نظم و ضبط برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ضرور ہے، لیکن عوامی شکایات سننا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ حکومت ہر مطالبہ تسلیم نہیں کر سکتی اور نہ ہی ہر مخالفت کے سامنے اصلاحات سے دست بردار ہو سکتی ہے، مگر انتخابی کامیابی کو لامحدود اختیار کا اجازت نامہ بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔ پائیدار اصلاحات وہی ہوتی ہیں جن کے مقاصد عوام کو سمجھائے جائیں، ان کے اثرات منصفانہ انداز میں تقسیم ہوں اور متاثرہ طبقات کو یہ احساس ہو کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔ محض انتظامی قوت سے خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، اعتماد نہیں۔

فرانس کی داخلی سیاست کو اس کی خارجہ پالیسی سے الگ کرکے بھی مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ پیرس نے کئی مواقع پر تزویراتی خود مختاری کو اہمیت دی ہے اور بعض عالمی معاملات میں ایسے مؤقف اختیار کیے ہیں جو اس کے اتحادیوں کی ترجیحات سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں رہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور ایران کے بارے میں پالیسی، فرانس کے قومی مفادات اور سفارتی روایات کے تناظر میں تشکیل پاتی ہیں۔ ایک آزاد خارجہ پالیسی کسی ملک کے عالمی وقار میں اضافہ کر سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ اتحادیوں کے اختلافات اور تزویراتی دباؤ کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔

بعض تجزیوں میں یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایران کے حوالے سے فرانس کے بعض مؤقف یا فیصلوں کے باعث اسے سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم، ایسے دعووں کو ٹھوس شواہد کے بغیر حقیقت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ سفارتی اختلاف اور داخلی احتجاج کا ایک ہی وقت میں سامنے آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ دونوں کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق موجود ہے۔ فرانس کی معاشی مشکلات، سماجی بے چینی اور سیاسی اختلافات کی اپنی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے بیرونی قوتوں کے ممکنہ کردار کا جائزہ لیتے ہوئے داخلی اسباب کو نظرانداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ دنیا میں ریاستیں ایک دوسرے کے اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ضرور کرتی ہیں، لیکن ہر عوامی تحریک کو بیرونی سازش قرار دینا بھی حقیقت سے فرار کے مترادف ہے۔

آج کا عالمی نظام بھی تبدیلی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ پرانے اتحاد دباؤ کا شکار ہیں، علاقائی تنازعات سفارتی ترجیحات بدل رہے ہیں اور معاشی روابط کے ساتھ عالمی طاقتوں کے درمیان رقابت بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں کسی ملک کے لیے اپنی خارجہ پالیسی میں خود مختاری برقرار رکھنا آسان نہیں۔ تاہم، بین الاقوامی سطح پر آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت صرف سفارتی مہارت یا عسکری و معاشی قوت سے حاصل نہیں ہوتی؛ اس کے لیے اندرونِ ملک سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد بھی ناگزیر ہیں۔ جو حکومت اپنے شہریوں کے جائز مسائل حل کرنے میں ناکام رہے، اس کے لیے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنا بھی زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

فرانس کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ عوامی احتجاج کو محض شور و غوغا سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر مظاہرہ انقلاب کی تمہید نہیں ہوتا، لیکن ہر بڑے احتجاج کے پیچھے موجود شکایات کو سمجھنا ضروری ہے۔ حکومتیں قانون نافذ کر سکتی ہیں، اداروں کو متحرک رکھ سکتی ہیں اور ریاستی نظم و ضبط قائم کر سکتی ہیں، مگر عوام کے دلوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے انصاف، شفافیت اور جواب دہی کی ضرورت ہوتی ہے۔

انقلابِ فرانس کو ہر دور کے ہر احتجاج پر منطبق کرنا درست نہیں، لیکن اس کی تاریخی یاد ایک بنیادی حقیقت کی طرف ضرور متوجہ کرتی ہے؛ عوامی رضامندی کبھی دائمی ضمانت نہیں ہوتی۔ جب حکومتیں عوام کے مسائل سے بے نیاز ہو جائیں، جب معاشی بوجھ کی تقسیم غیر منصفانہ محسوس ہونے لگے اور جب اختلافِ رائے کو سننے کے بجائے دبانے کی کوشش کی جائے تو سڑکیں عوامی عدالت کا روپ اختیار کر لیتی ہیں۔ وہاں اٹھنے والی آوازیں ہمیشہ حکومت گرانے کے لیے نہیں ہوتیں؛ بعض اوقات وہ حکمرانوں کو اپنی سمت درست کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ فرانس کی احتجاجی روایت کا اصل سبق یہی ہے کہ اقتدار کی قوت ریاست کو چلا سکتی ہے، لیکن اسے پائیدار جواز عوامی اعتماد ہی عطا کرتا ہے۔ جو جمہوریت اس حقیقت کو فراموش کر دے، وہ دیر تک عوامی بے چینی سے آنکھیں نہیں چرا سکتی۔

Related posts

Leave a Comment