بابر اعظم کے معاملے پر پی سی بی پر تنقید، سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے سوالات اٹھا دیے

بابر اعظم کے معاملے پر PCB کے فیصلے، محمد وسیم کی تنقید

سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے بابر اعظم کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹار بیٹر کو پہلے ڈراپ کرنا اور پھر پا کی کارکردگی کی بنیاد پر واپس بلانا شارٹ ٹرم فیصلہ سازی کی مثال ہے۔

محمد وسیم نے کہا کہ جب تک پی سی بی پاکستان کرکٹ کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے قلیل مدتی فیصلوں پر انحصار کرتا رہے گا، قومی ٹیم کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔

سابق چیف سلیکٹر نے بابر اعظم کے معاملے کو PCB کی غیر مستقل پالیسی کی مثال قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کسی کھلاڑی کو پہلے بیرون ملک دوروں کے لیے منتخب کیا جاتا ہے اور بعد میں اسے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیوں کیا جاتا ہے۔

بابر اعظم کی ڈراپ اور واپسی پر سوالات

محمد وسیم کے مطابق بابر اعظم کو ٹیم سے باہر کرنا اور بعد میں دوبارہ شامل کرنا PCB کی جانب سے مستقل پالیسی کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کو پہلے ڈراپ کیا گیا اور پھر PSL میں کارکردگی کی بنیاد پر واپس بلایا گیا، جو طویل مدتی منصوبہ بندی کے بجائے وقتی فیصلے کی عکاسی کرتا ہے۔

محمد وسیم نے کہا کہ ایسے فیصلوں سے قومی ٹیم میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور کھلاڑیوں کے لیے مستقل ماحول قائم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بابر اعظم کو ڈراپ کرنے اور واپس بلانے کا طریقہ کار PCB کی شارٹ ٹرم فیصلہ سازی کی مثال ہے۔

سابق چیف سلیکٹر نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جو کھلاڑی بعد میں واپس بھیجے جارہے ہیں، انہیں ابتدا میں بیرون ملک دوروں کے لیے منتخب ہی کیوں کیا گیا تھا۔

محمد وسیم کی PCB کی پالیسی پر تنقید

محمد وسیم نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کو درپیش مسائل صرف کھلاڑیوں میں تبدیلی یا اسکواڈ میں ردوبدل سے حل نہیں ہوسکتے۔

ان کے مطابق PCB کو قومی ٹیم کی بنیادی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے ان کے مستقل حل پر توجہ دینی چاہیے۔

بابر اعظم جیسے سینئر کھلاڑی کے معاملے میں بار بار مختلف فیصلے کیے جانے سے انتخابی پالیسی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔

سابق چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے واضح اور طویل مدتی پالیسی ہونی چاہیے تاکہ ٹیم کو تسلسل کے ساتھ تیار کیا جاسکے۔

انہوں نے بیرون ملک دوروں کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب اور بعد میں انہیں واپس بھیجنے کے فیصلوں کو بھی PCB کی مجموعی منصوبہ بندی کا مسئلہ قرار دیا۔

بابر اعظم معاملہ پاکستان کرکٹ کے چیلنجز اجاگر کرتا ہے

بابر اعظم سے متعلق تازہ بحث نے ایک بار پھر پاکستان کرکٹ میں سلیکشن پالیسی اور ٹیم مینجمنٹ کے طریقہ کار کو مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے۔

محمد وسیم کی تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی، کھلاڑیوں کے انتخاب اور اسکواڈ میں استحکام کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

سابق چیف سلیکٹر کے مطابق PCB کو بار بار قلیل مدتی تبدیلیاں کرنے کے بجائے پاکستان کرکٹ کے بنیادی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

بابر اعظم کے معاملے نے یہ سوال بھی پیدا کردیا ہے کہ سینئر کھلاڑیوں کے انتخاب اور مستقبل کے بارے میں PCB کی پالیسی کتنی واضح اور مستقل ہے۔

پاکستان کرکٹ کے لیے طویل مدتی حکمت عملی، مستقل سلیکشن پالیسی اور کھلاڑیوں کو واضح کردار دینا قومی ٹیم کو زیادہ مضبوط اور مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

Related posts

Leave a Comment