فورٹ بینڈ میں ساؤتھ ایشین کمیونٹی کا اہم سیاسی و شہری اجتماع، ری ڈسٹرکٹنگ اور 2027 کے چیلنجز پر گفتگو

شوگر لینڈ، ٹیکساس

ساؤتھ ایشینز یونائیٹڈ آف فورٹ بینڈ کے زیر اہتمام منگل کی شام مائی کولاچی، شوگر لینڈ میں ایک اہم سیاسی، شہری اور کمیونٹی مکالمے کا انعقاد کیا گیا، جس میں فورٹ بینڈ کاؤنٹی کی ساؤتھ ایشین کمیونٹی، منتخب نمائندوں، ججز، کمیونٹی رہنماؤں، مختلف عہدوں کے امیدواروں اور شہری کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بھرپور حاضری کے باعث تقریب ایک انتہائی مصروف اور جاندار کمیونٹی اجتماع کی شکل اختیار کرگئی

تقریب کے انتظامات فرح احمد، افشین بھیمنی اور صوفیہ شیخ نے دیگر ساتھیوں کے تعاون سے کیے، جبکہ نظامت کے فرائض قیصر “Q” امام اور لکشمی نے انجام دیے دونوں میزبانوں نے پروگرام کو نہایت منظم انداز میں آگے بڑھایا اور مختلف موضوعات اور مقررین کے درمیان گفتگو کو مربوط رکھا

تقریب کا ایک اہم حصہ فورٹ بینڈ کاؤنٹی میں بڑھتی ہوئی ایشین امریکن، بالخصوص ساؤتھ ایشین آبادی، اور مستقبل میں اس کے سیاسی اثرات سے متعلق تھا پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق فورٹ بینڈ کی AAPI کمیونٹی میں ساؤتھ ایشینز ایک نمایاں حصہ رکھتے ہیں، جس کے باعث ووٹر رجسٹریشن، انتخابی شرکت اور مسلسل civic engagement کی اہمیت پر خصوصی زور دیا گیا

پروگرام میں ڈاکٹر مارک پی جونز کی جانب سے ری ڈسٹرکٹنگ کے موضوع پر معلوماتی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔ اس میں ٹیکساس اور فورٹ بینڈ کاؤنٹی کے سیاسی و آبادیاتی منظرنامے، انتخابی اضلاع کی ممکنہ تبدیلیوں اور 2027 میں ٹیکساس ہاؤس و سینیٹ کی ممکنہ mid decade redistricting کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔ مقررین نے بالخصوص اس سوال کو موضوع بنایا کہ انتخابی نقشوں میں تبدیلی فورٹ بینڈ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اور متنوع آبادی، خصوصاً ایشین امریکن ووٹرز کی سیاسی نمائندگی پر کس طرح اثرانداز ہوسکتی ہے

بعد ازاں ایک تفصیلی سوال و جواب اور پینل ڈسکشن منعقد ہوئی جس میں جج سرندر پٹیل، جج جولی میتھیو اور جج سونیا راش نے شرکت کی، جبکہ ریاستی نمائندے ڈاکٹر سلیمان لالانی کی جانب سے ان کے نمائندے نے گفتگو میں حصہ لیا۔ پہلے سے تیار کردہ سوالات کے ساتھ ساتھ حاضرین کو بھی براہ راست سوالات کا موقع دیا گیا، جس سے گفتگو مزید دلچسپ اور بامقصد ہوگئی

جج سرندر پٹیل نے کہا کہ 2018 کے بعد ساؤتھ ایشین کمیونٹی کی سیاسی اور شہری سرگرمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم اصل طاقت ووٹ اور انتخابی عمل میں مستقل شرکت سے پیدا ہوتی ہے ان کے مطابق کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی تعداد اسی وقت سیاسی اثر میں تبدیل ہوگی جب لوگ باقاعدگی سے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے

جج جولی میتھیو نے عدالتی نظام، کمیونٹی سیفٹی اور تنوع کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فورٹ بینڈ مختلف ملکوں، ثقافتوں اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا گھر ہے اور اداروں کو اس تنوع کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی

جج سونیا راش نے کہا کہ ساؤتھ ایشین کمیونٹی کا اعتماد صرف انتخابات کے دنوں میں رابطہ کرنے سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ کمیونٹی کے ساتھ تعلق پورے سال قائم رکھنا، خاندانوں کے مسائل سمجھنا اور ان کی حفاظت اور ضروریات کے لیے مسلسل کام کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں میں نمائندگی اور تنوع کے موضوع پر بھی گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کے لیے سیاسی عمل کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں

ڈاکٹر سلیمان لالانی کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے نمائندے نے نوجوانوں کے لیے leadership اور career development کے مواقع اور پروگراموں کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر لالانی کا پیغام بھی سامنے آیا کہ کمیونٹی جن حقیقی مسائل کا سامنا کررہی ہے، انہیں قانون سازوں تک پہنچنا چاہیے تاکہ انہی مسائل کو مؤثر قانون سازی کی شکل دی جاسکے

تقریب میں امیگریشن، ووٹنگ رائٹس، تعلیم، صحت، مذہبی آزادی، شہری شمولیت اور مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساؤتھ ایشین خاندانوں پر ممکنہ اثرات سے متعلق معلوماتی مواد بھی شرکاء کے لیے موجود تھا

یہ اجتماع ایسے وقت منعقد ہوا جب نومبر کے انتخابات قریب آرہے ہیں اور فورٹ بینڈ کاؤنٹی ٹیکساس کے سب سے زیادہ متنوع اور سیاسی طور پر مسابقتی علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔ تقریب میں متعدد منتخب عہدیداروں، ججز، کمیونٹی رہنماؤں اور مختلف عہدوں کے امیدواروں کی موجودگی نے بھی اس بات کی عکاسی کی کہ ساؤتھ ایشین کمیونٹی اب فورٹ بینڈ کے سیاسی اور شہری منظرنامے میں ایک نمایاں قوت بن رہی ہے

مجموعی طور پر یہ پروگرام محض ایک انتخابی اجتماع کے بجائے ساؤتھ ایشین کمیونٹی کی سیاسی نمائندگی، ووٹر کی طاقت، ری
ڈسٹرکٹنگ، نوجوان قیادت اور مستقبل کی شہری شمولیت پر ایک سنجیدہ اور بروقت مکالمہ ثابت ہوا