ڈپریشن، ADHD اور ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بعض عام اور کثرت سے تجویز کی جانے والی ادویات شدید گرمی کے دوران جسم میں پانی کی کمی اور دیگر گرمی سے متعلق مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔

یورپ میں جون کے دوران آنے والی شدید ہیٹ ویو نے اس مسئلے کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض ادویات جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے، پسینہ آنے، پیاس محسوس کرنے یا بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے کے عمل کو متاثر کرسکتی ہیں، جس کے باعث شدید گرمی میں کچھ افراد زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔

بعض ادویات گرمی برداشت کرنا مشکل بنا سکتی ہیں

عام حالات میں انسانی جسم پسینہ آنے اور خون کی گردش میں تبدیلی کے ذریعے اپنا درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے۔ تاہم کچھ ادویات ان قدرتی نظاموں کو متاثر کرسکتی ہیں یا جسم سے پانی کے اخراج میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

کچھ اینٹی ڈپریسنٹس پسینے، پیاس یا جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ ADHD کے لیے استعمال ہونے والی بعض ادویات دل کی دھڑکن اور جسمانی درجہ حرارت کو متاثر کرسکتی ہیں، جبکہ بلڈ پریشر کی کچھ ادویات اور ڈائیوریٹکس جسم میں پانی کی کمی یا بلڈ پریشر میں تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔

تاہم ادویات کے اثرات ہر فرد میں مختلف ہوسکتے ہیں۔ اس کا انحصار دوا کی قسم، خوراک، دیگر صحت کے مسائل، موسم اور ٹھنڈی جگہ تک رسائی سمیت مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔

برسلز میں خاتون کو شدید گرمی کا سامنا

یورپ میں جون کی ہیٹ ویو کے دوران 28 سالہ ایلیانا اوکومس کو برسلز میں اپنے گھر کے اندر شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑا۔

اوکومس ایک ایسی عمارت کی بالائی منزل پر رہتی ہیں جہاں ایئر کنڈیشننگ موجود نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گھر سے باہر نکلتے ہی انہیں شدید پسینہ آنے لگتا تھا اور وہ دفتر یا مقامی کیفے میں جا کر ٹھنڈک حاصل کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔

ایک دن ان کے اپارٹمنٹ کے اندر درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ (93 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا۔ ان کے مطابق وہ تقریباً 18 گھنٹے سوئیں اور جاگنا بھی مشکل محسوس ہوا۔ انہیں خدشہ تھا کہ شاید ان کا بلڈ پریشر کم ہوگیا ہے۔

اوکومس اس سے قبل دنیا کے مختلف علاقوں میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرمی برداشت کرچکی تھیں، لیکن اس مرتبہ گرمی کا اثر ان پر کہیں زیادہ شدید تھا۔

بعد میں سوشل میڈیا پر اسی طرح کی علامات رکھنے والے افراد کی پوسٹس دیکھنے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ ممکنہ طور پر ان کی علامات کا تعلق ان ادویات سے بھی ہوسکتا ہے جو انہوں نے تقریباً دو سال قبل ڈپریشن اور بے چینی کے علاج کے لیے لینا شروع کی تھیں۔

ہیٹ ویو کے دوران احتیاط ضروری

شدید گرمی اور بعض ادویات کا امتزاج ان افراد کے لیے اضافی خطرہ پیدا کرسکتا ہے جو پہلے ہی گرمی سے متاثر ہونے کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔

شدید پسینہ، چکر آنا، غیر معمولی تھکن، کمزوری، سر درد، الجھن یا بے ہوشی اس بات کی علامات ہوسکتی ہیں کہ جسم شدید گرمی کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ سنگین علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔

ماہرین عام طور پر مشورہ دیتے ہیں کہ جو افراد مستقل بنیادوں پر ادویات استعمال کرتے ہیں وہ شدید گرمی کے دوران اپنی دوا خود سے بند یا تبدیل نہ کریں۔ اس کے بجائے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے معلوم کرنا چاہیے کہ آیا ان کی مخصوص دوا گرمی برداشت کرنے، پانی کی کمی یا بلڈ پریشر پر اثر ڈال سکتی ہے۔

ہیٹ ویو کے دوران مناسب مقدار میں پانی پینا، ٹھنڈی جگہوں پر رہنا اور طویل عرصے تک شدید گرمی میں رہنے سے گریز کرنا خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں ہیٹ ویوز کی شدت بڑھنے کے ساتھ یہ سمجھنا بھی اہم ہوتا جارہا ہے کہ عام ادویات اور انتہائی گرم موسم ایک دوسرے پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ادویات استعمال کرنے والے افراد کے لیے شدید گرمی سے بچاؤ اب صحت اور ادویات کے محفوظ استعمال کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔