مکہ مکرمہ سعودی عرب کا مقدّس ترین شہر ہے، جہاں اگست 2026 میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان ایک تاریخی سہ جانبہ دفاعی معاہدہ طے پایا
بیورو چیف اٹک — رپورٹ
ہے، جسے "مکہ معاہدہ” کا نام دیا گیا ہے اور اس نے اسلامی دنیا بالخصوص پاکستان اور سعودی عرب میں اتحاد کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔
مکہ مکرمہ وہ مبارک شہر ہے جہاں کعبۃ اللہ اور مسجد الحرام واقع ہیں۔ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان روزانہ مکہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں اور زندگی میں کم از کم ایک بار یہاں حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ یہ شہر اسلام کا مرکز اور مسلمانوں کی روحانی طاقت کا سرچشمہ ہے
پاکستان کی اہمیت اور اس کا روحانی پس منظر سیاسی اور معاشی حدود سے بالاتر ہے۔ یہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والی وہ نظریاتی مملکت ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو مذہبی آزادی اور اسلامی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنا تھا
پاکستان کا قیام کسی لسانی یا علاقائی تحریک کا نتیجہ نہیں بلکہ "لا الہ الا اللہ” کی بنیاد پر عمل میں آیا۔
پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی اور واحد باضابطہ ایٹمی طاقت ہے جو اس کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بناتی ہے۔
۔ترکی کا روحانی پس منظر تصوف، عشقِ الٰہی اور اسلامی روایات میں رچا بسا ہے۔ مولانا جلال الدین رومی اور شمس تبریز جیسی عظیم ہستیوں کی سرزمین ہونے کے ناطے، یہاں کی روح میں رواداری، وحدت اور باطنی طہارت رچی ہے، جس نے عثمانی دورِ حکومت میں تہذیب و تمدن کو گہرا متاثر کیا۔
قونیہ شہر میں بسی مولانا جلال الدین روم کی تعلیمات نے پوری دنیا کو محبت، امن اور خدا سے لو لگانے کا درس دیا۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کا تاریخی دفاعی معاہدہ
اگست 2026 کے پہلے ہفتے میں مکہ مکرمہ میں ایک اہم دفاعی سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے دوران سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے مشترکہ دفاعی پر دستخط کی
تینوں برادر اسلامی ممالک نے متفقہ طور پر طے کیا ہے کہ ان میں سے کسی بھی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ اجتماعی سکیورٹی، انٹیلی جنس کے تبادلے اور مشترکہ فوجی مشقوں کی بنیاد فراہم کرتا ہے
اس اتحاد میں سعودی عرب کی معاشی طاقت، ترکی کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور ڈرون انڈسٹری، اور پاکستان کی تجربہ کار اور طاقتور افواج یکجا ہو گئی ہیں۔
امتِ مسلمہ کے لیے پیغام اور خوشی کا سما
مکہ مکرمہ کی بابکت سرزمین پر ہونے والے اس دفاعی اتحاد کو مسلم امہ کے اتحاد اور روشن مستقبل کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے پر پاکستان اور سعودی عرب سمیت مختلف اسلامی ممالک میں خوشی اور فخر کا اظہار کیا گیا ہے، اور عوام نے اسے امتِ مسلمہ کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ایک پائیدار اور غیور قدم مانا
