پچاس بلین ڈالر کا نقصان: کیا امریکہ خلیج چھوڑ رہا ہے؟
میاں افتخار احمد
خلیج کے امریکی قلعے اس وقت ایران کی میزائلوں کے سائے میں ہیں۔ خلیجی اتحادیوں میں پریشانی بڑھ گئی ہے ان کو امریکی اڈے اب بوجھ لگنے لگے ہیں ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ کا اب تک پچاس بلین ڈالر کا نقصان ہو گیا ہے۔ اگر امریکہ انخلا کی تیاری کرتا ہے تو خلیجی ممالک کو نیا دفاعی منصوبہ بنانا پڑے گا۔ایران امریکہ جنگ نے مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور عسکری حرکیات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے اور اس تنازعے کا ایک اہم پہلو خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں کی حیثیت ہے جو اڈے کبھی اسٹریٹیجک اثاثے اور امریکی طاقت کے مظہر سمجھے جاتے تھے وہ آج اپنی میزبان حکومتوں کے لیے ایک بڑے خطرے اور ذمہ داری میں تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں طویل ہوتی جنگ بڑھتے ہوئے انسانی اور مالی نقصانات اور امریکی حکمت عملی کی غیر یقینی صورتحال نے خلیجی اتحادیوں کو مایوسی اور تحفظ کے نئے متبادل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے خلیجی اتحادی جن میں سعودی عرب متحدہ عرب امارات قطر کویت اور بحرین شامل ہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طویل جنگ اور سفارتی حل تلاش کرنے میں ناکامی پر شدید مایوس ہیں ایک خلیجی عہدیدار کے مطابق جنگ ڈونلڈ ٹرمپ نے شروع کی اور اس کی قیمت ہم ادا کر رہے ہیں یہ جملہ خلیجی ممالک کے اس احساس کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی جنگ کے نتائج بھگت رہے ہیں جس کا فیصلہ ان کی مرضی کے بغیر کیا گیا امریکی صدر کی جانب سے جنگ جاری رکھنے اور اچانک مذاکرات کی بات کرنے کے بیانات نے بھی ان اتحادیوں کو مزید پریشان کر دیا ہے کیونکہ وہ ایک مستحکم اور قابل اعتماد امریکی پالیسی کے خواہاں ہیں جب واشنگٹن سے جنگ بندی یا مکمل فوجی کارروائی کے متضاد پیغامات آتے ہیں تو ریاض اور ابوظہبی جیسے دارالحکومتوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ واقعی اس تنازعے کا کوئی واضح منصوبہ رکھتا ہے یا یہ جنگی مشین اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس کے راستے میں آنے والے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے خلیجی حکمرانوں کے لیے یہ انتہائی پریشان کن ہے کہ وہ ایک ایسی جنگ کا حصہ بن چکے ہیں جس کے آغاز اور انجام دونوں ہی پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور یہ احساس انہیں ہر روز اس حقیقت کا سامنا کرا رہا ہے کہ ان کی سرزمین پر موجود امریکی اڈے اب ان کی پناہ گاہ نہیں بلکہ نشانہ بن چکے ہیں پہلے ان فوجی اڈوں کو ایک ناگزیر برائی سمجھ کر برداشت کیا جاتا تھا یعنی یہ تسلیم کیا جاتا تھا کہ علاقائی تحفظ کے لیے امریکی فوجی موجودگی ضروری ہے چاہے اس کی اپنی مشکلات ہوں مگر اب ان اڈوں کی افادیت اور موجودگی پر سنجیدگی سے سوال اٹھ رہے ہیں قطری تجزیہ کار انس بن زیاد کے مطابق حالیہ واقعات نے اس تعلقات کی ایک پیچیدہ جہت کو ظاہر کیا ہے ایک طرف تو امریکی فوجی موجودگی نے دہائیوں تک علاقائی توازن برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا لیکن دوسری طرف علاقائی تنازعات میں اضافے اور ان اڈوں کو جنگی کارروائیوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے نے انہیں خود تنازعے کا حصہ بنا دیا ہے جب ایران کے خلاف امریکی حملے انہی اڈوں سے شروع ہوتے ہیں تو یہ اڈے جوابی حملوں کا قدرتی ہدف بن جاتے ہیں اور اس صورتحال میں خلیجی ممالک کو اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر رہی ہے انہیں اب یہ سوچنا پڑ رہا ہے کہ کیا یہ اڈے واقعی ان کی حفاظت کر رہے ہیں یا انہیں ایران کا نشانہ بنا رہے ہیں کیا امریکہ کی موجودگی اس خطے میں امن کا ذریعہ ہے یا پھر تنازعات کو ہوا دینے والا ایندھن یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب خلیجی حکمرانوں کو اب کھلے عام دینا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کی عوام بھی اس جنگ کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے اور امریکی اڈوں کو اپنے ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ سمجھنے لگی ہے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے علاقے میں امریکی اڈوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق علاقے کے تیرہ اڈے تقریباً غیر قابل رہائش ہو گئے تھے اور ان کی مرمت کا تخمینہ چالیس سے پچاس بلین ڈالر لگایا گیا تھا یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ کسی بھی خلیجی ملک کا سالانہ دفاعی بجٹ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ نقصانات صرف عمارتوں اور انفراسٹرکچر تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان اڈوں پر تعینات فوجی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو بھی ان حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے بحرین میں امریکی بحری بیڑے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو بھی شدید نقصان پہنچا جس کی وجہ سے اس کی کارروائیاں متاثر ہوئیں اور عملے اور ان کے اہل خانہ کو علاقے سے نکالنا پڑا اس کا مطلب یہ ہے کہ خلیجی ممالک کی سرزمین پر موجود یہ اڈے نہ صرف فوجی تنصیبات ہیں بلکہ وہ پوری کمیونٹیز ہیں جن میں اسکول ہسپتال اور رہائشی علاقے شامل ہیں اور جب یہ حملوں کی زد میں آتے ہیں تو اس کے اثرات صرف فوجی حلقوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری معیشت اور معاشرے پر پڑتے ہیں کویت میں علی سالم ایئر بیس اور عریفجان کیمپ کو بھی متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا جہاں سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے آلات اور دیگر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئر بیس بھی حملوں کی زد میں آیا جس نے ابوظہبی کی معاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا کیونکہ اس اڈے کی اہمیت صرف فوجی نہیں بلکہ تجارتی اور لاجسٹک لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہے یہ حملے صرف ایک بار نہیں ہوئے بلکہ جنگ کے دوران متعدد بار دہرائے گئے جس سے خلیجی ممالک کو یہ احساس ہو گیا کہ ان کی سرزمین پر امریکی موجودگی انہیں ایران کا ہدف بنائے رکھے گی جب تک یہ جنگ جاری رہے گی ان حملوں نے واضح کر دیا کہ امریکی اڈے ایران کی رسائی کے دائرے میں ہیں اور وہ انہیں بآسانی نشانہ بنا سکتا ہے ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کے میزائل اور ڈرون جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں کو بھی چیلنج کر سکتے ہیں اور اس کی صلاحیتیں صرف اس کے اپنے ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ پورے خلیجی علاقے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکتا ہے جس سے خلیجی ممالک کی سیکیورٹی پر سنگین سوالیہ نشان اٹھ گئے ہیں اور انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا امریکی تحفظ کا یہ ماڈل اب بھی موثر ہے یا اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ایران کے ان حملوں نے خلیجی ممالک کو اس حقیقت سے بھی آشنا کیا کہ امریکہ چاہے کتنا بھی طاقتور ہو اس کے دفاعی نظام بھی مکمل طور پر ناقابل تسخیر نہیں ہیں اور اس کی موجودگی کسی بھی ملک کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتی امریکی حکومت نے ان اڈوں کی مرمت کے اخراجات کو اپنی جنگی لاگت میں شامل نہیں کیا جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ اپنی فوجی ترتیب کو تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے امریکہ بڑے اور مستقل اڈوں کے بجائے چھوٹے اور زیادہ لچکدار عسکری مراکز کو ترجیح دے رہا ہے تاکہ وہ ایران کے حملوں کا آسان ہدف نہ بن سکیں یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو گوام اور جاپان جیسے دیگر مقامات پر بھی آزمائی جا چکی ہے

جہاں امریکہ نے بڑے اڈوں کو بند کرکے چھوٹے اور زیادہ متحرک مراکز قائم کیے ہیں مگر خلیج کا جغرافیائی اور سیاسی منظرنامہ بہت مختلف ہے یہاں پر ایران کی قربت اور اس کی میزائل صلاحیتیں اس لچک کو بہت مشکل بنا دیتی ہیں پینٹا گون کے اندر اس بارے میں بحثیں جاری ہیں کہ آیا ان اڈوں کو مکمل طور پر خالی کر دیا جائے یا انہیں جدید دفاعی نظاموں سے لیس کیا جائے لیکن دونوں صورتوں میں ایک چیز واضح ہے کہ موجودہ صورتحال میں یہ اڈے اپنی اصل افادیت کھو چکے ہیں اور ان کی موجودگی خلیجی ممالک کے لیے فائدہ سے زیادہ نقصان کا باعث بن رہی ہے یہ امریکی حکمت عملی خلیجی اتحادیوں کے لیے ایک خطرناک پیغام ہے کیا امریکہ اپنی حفاظت کے لیے انہیں تنہا چھوڑ دے گا جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر ہال برانڈز کہتے ہیں کہ خلیج میں موجود امریکی اڈے خاص طور پر بڑے اڈے انتہائی کمزور ہیں اور امریکہ ممکنہ طور پر اپنے اڈوں کو ایران کی میزائلوں کی حد سے باہر منتقل کرے گا اس کا مطلب ہے کہ خلیجی ممالک کو ایک ایسے امریکہ کا سامنا ہے جو اپنی حفاظت کو ترجیح دے رہا ہے چاہے اس کی قیمت اپنے اتحادیوں کی سلامتی پر ہی کیوں نہ آئے یہ وہ حقیقت ہے جس نے خلیجی حکمرانوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ وہ کئی دہائیوں سے امریکی تحفظ پر انحصار کرتے چلے آ رہے تھے اور اب اچانک انہیں اس احساس کا سامنا ہے کہ یہ تحفظ اب یقینی نہیں رہا یہ صورت حال خلیجی ممالک کو امریکی تحفظ پر مکمل انحصار چھوڑنے اور نئے دفاعی شراکت داروں کی تلاش پر مجبور کر رہی ہے جس کی ایک مثال سعودی عرب ترکیہ اور پاکستان کا باہمی دفاعی معاہدہ ہے اس کے علاوہ چین اور روس کے ساتھ بھی ان ممالک کے تعلقات میں واضح اضافہ ہوا ہے اور وہ اب صرف امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے ایک کثیرالجہتی دفاعی نیٹ ورک تشکیل دے رہے ہیں جس میں یورپی ممالک بھی شامل ہیں یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو شاید چند سال پہلے تک ناقابل تصور تھی لیکن آج حقیقت بن چکی ہے اس کے علاوہ خلیجی ممالک اپنی دفاعی صنعتوں کو بھی فروغ دے رہے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں کسی بھی امریکی انخلا کے لیے تیار رہیں اور یہ کہ ان کا انحصار صرف ایک طاقت پر نہیں رہے گا بلکہ وہ متعدد ذرائع سے اپنی حفاظت کو یقینی بنا سکیں گے خلیجی ممالک نے اس مقصد کے لیے بڑے پیمانے پر دفاعی منصوبے شروع کیے ہیں جن میں جدید طیارے ڈرون اور میزائل نظام کی خریداری شامل ہے اور وہ مقامی طور پر بھی ان ٹیکنالوجیز کو تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ جنگ امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے تعلقات میں ایک نیا اور پیچیدہ باب ہے جہاں امن و امان کے لیے امریکی فوجی تحفظ پر انحصار ایک ذمہ داری بنتا جا رہا ہے وہیں خلیجی حکومتیں اپنی سلامتی کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہیں امریکی اڈے اب صرف طاقت کا مظہر نہیں رہے بلکہ حملوں کا ہدف مالی بوجھ اور سیاسی رسوائی کا باعث بن چکے ہیں ان کی موجودگی خلیجی عوام میں بھی نفرت پیدا کر رہی ہے کیونکہ وہ اپنے ممالک کو امریکی جنگی مشین کا حصہ دیکھ رہے ہیں اور اس کے نتائج اپنی جیبوں اور جانوں پر برداشت کر رہے ہیں خلیجی معاشرے میں اب یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا یہ اڈے واقعی ان کے مفاد میں ہیں یا انہیں بند کر کے علاقائی ممالک کے ساتھ خود مختار دفاعی معاہدے کیے جائیں اس صورتحال میں خلیجی ممالک کو اپنی قومی سلامتی کے لیے زیادہ خود مختار اور متنوع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جبکہ امریکہ کو بھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو از سر نو طے کرنا ہوگا تاکہ اعتماد کی بحالی ہو سکے ورنہ یہ تعلقات مزید بگڑ سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو دائمی نقصان پہنچ سکتا ہے خلیجی حکمران اب یہ سمجھ چکے ہیں کہ امریکہ ایک ایسا اتحادی ہے جو اپنی مصلحت کے تحت فیصلے کرتا ہے اور اس کا کوئی مستقل وفادار نہیں ہے اس لیے انہیں اپنی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھانی ہوگی اور اس کے لیے وہ تمام ممکنہ ذرائع استعمال کر رہے ہیں مستقبل قریب میں یہ طے کرے گا کہ خلیج فارس کا یہ اسٹریٹیجک خطہ کس نئے سیکیورٹی نظام کے تحت تشکیل پاتا ہے کیا یہ دوبارہ امریکی اجارہ داری کی طرف لوٹے گا یا پھر ایک کثیر قطبی دنیا کا حصہ بنے گا جہاں چین روس ترکیہ اور مقامی طاقتیں بھی اپنا کردار ادا کریں گی واضح ہے کہ پرانی صداقتیں اب کام نہیں کر رہیں اور نئی حقیقتوں کو تسلیم کرنے کا وقت آ گیا ہے خلیجی حکمرانوں کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ وہ امریکی اڈوں کی میزبانی کو ایک اسٹریٹیجک خطرہ سمجھیں یا اسے ایک نئے توازن قوت کا حصہ بنائیں جبکہ امریکہ کو بھی یہ جاننا ہوگا کہ اس کی موجودگی کا اعتماد ختم ہو چکا ہے اور اسے اپنے اتحادیوں کو نیا یقین دلانا ہوگا ورنہ یہ تعلقات مزید بگڑ سکتے ہیں اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا خلیجی ممالک اور امریکہ اس نئے چیلنج کا سامنا مشترکہ طور پر کریں گے یا پھر ان کے راستے ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے جو کہ آنے والے سالوں میں پوری دنیا کی سیاسی اور معاشی حرکیات کو متاثر کرے گا کیونکہ خلیج فارس صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کا اہم مرکز ہے اس لیے اس کا کوئی بھی فیصلہ عالمی سطح پر اثر انداز ہوگا اور تمام بڑی طاقتوں کو اس پر اپنے موقف کا تعین کرنا ہوگا اس پس منظر میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا خلیجی ممالک اپنی اسٹریٹیجک خودمختاری کو برقرار رکھ پائیں گے یا پھر وہ پھر سے کسی بڑی طاقت کی معاون بن کر رہ جائیں گے کیونکہ ان کا جغرافیائی محل وقوع اور تیل و گیس کے ذخائر انہیں ہمیشہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنائے رکھیں گے اور وہ اس سے بچ نہیں سکتے مگر انہیں اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے زیادہ چالاک اور متوازن حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مستقبل کے کسی بھی بحران سے نمٹنے کے قابل ہو سکیں امریکی اڈوں کا مستقبل خلیج میں اب ایک کھلی بحث ہے اور اس کا فیصلہ جلد یا بدیر ہونا ہی ہے لیکن اتنا طے ہے کہ پرانی صورتحال واپس نہیں آئے گی اور خطے کی سلامتی کا نقشہ نئے سرے سے تیار ہوگا جس میں تمام فریقین کو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی اور نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا ہوگا۔


