بسم اللہ الرحمن الرحیم
باورچی خانہ: خاندانی بقا کی آخری خندق
میاں افتخار احمد
یہ عنوان شاید بہت بھاری اور ڈراؤنا لگتا ہے مگر جب ہم اعداد و شمار، تاریخی حقائق اور بین الاقوامی تھنک ٹینکس کی تحقیق کو سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت سے زیادہ مبالغہ نہیں ہوتا۔ کھانا پکانا محض معدے کی بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی علامت ہے جو خاندانی اتحاد، بین النسلی رابطے اور ثقافتی شناخت کی نمائندگی کرتی ہے۔ جب گھروں میں کھانا پکنا بند ہو جاتا ہے تو دراصل خاندانی نظام کی بنیادوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ مضمون اسی حقیقت کی کھوج ہے کہ کھانا پکانے کا رواج ختم ہونے سے خاندان، صحت، معیشت اور پوری تہذیب پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس حوالے سے امریکہ، یورپ اور پاکستان کے تجربات کیا سبق دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر پوری دنیا میں تحقیق ہو رہی ہے اور پاکستانی تھنک ٹینکس بھی اس حوالے سے اپنی رپورٹس میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔کھانا پکانے کا عمل محض ایک مفید اور عملی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ ایک گہری علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ جب کوئی عورت یا مرد اپنے ہاتھوں سے آٹا گوندھتا ہے، سبزیاں کاٹتا ہے اور چولہے پر سالن پکاتا ہے تو وہ دراصل ایک ایسی خوشبو پیدا کر رہا ہوتا ہے جو پورے گھر کو ایک ساتھ باندھتی ہے۔ یہ وہی خوشبو ہے جو بچے کو اسکول سے واپس آتے ہی گھر کا احساس دلاتی ہے، یہ وہی ذائقہ ہے جو شوہر کو تھکاوٹ کے بعد سکون دیتا ہے اور یہ وہی مہک ہے جو بڑوں کو ان کی ماں کی یاد دلاتی ہے۔ جب یہ سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے تو گھر صرف ایک چھت اور دیواروں کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے جہاں لوگ آتے جاتے ہیں مگر ایک دوسرے سے جڑے نہیں ہوتے۔ کھانے کی میز خاندان کی پارلیمنٹ ہے جہاں دن بھر کے مسائل پر بات ہوتی ہے، بچے اپنی پریشانیاں بتاتے ہیں، باپ مشورہ دیتا ہے، ماں دلاسہ دیتی ہے اور سب ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں۔ جب یہ میز خالی ہو جاتی ہے تو بات چیت ختم ہو جاتی ہے، خاموشی اور تنہائی گھر کا حصہ بن جاتی ہے اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب گھر کے افراد ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ ابتدائی علامات ہیں جو بعد میں بڑے سماجی بحرانوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔
امریکہ میں یہ تبدیلی 1970 کی دہائی کے آس پاس شروع ہوئی جب خواتین کی بڑھتی ہوئی ملازمت، شہری زندگی کی تیز رفتاری اور ڈیلیوری کلچر کے فروغ نے گھروں میں کھانا پکانے کا رواج کم کر دیا۔ لوگوں نے سہولت اور وقت کی بچت کو ترجیح دی اور باہر سے کھانا منگوانا یا فاسٹ فوڈ کھانا معمول بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی خاندانی ڈھانچے میں ایک نمایاں تبدیلی رونما ہوئی۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سن 1970 میں 25 سے 49 سال کی عمر کے 67 فیصد امریکی بالغ افراد اپنے شریک حیات اور ایک یا زیادہ بچوں کے ساتھ رہتے تھے مگر 2021 میں یہ شرح گھٹ کر 37 فیصد رہ گئی اور اگر تمام گھرانوں کا جائزہ لیا جائے تو مردم شماری بیورو کے مطابق یہ شرح 40.3 فیصد سے گھٹ کر 17.8 فیصد تک آ گئی ہے۔ یہ کمی محض ایک عددی تبدیلی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک پوری ثقافتی اور سماجی انقلاب ہے جس نے امریکی معاشرے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ اکیلے رہنے لگے ہیں، پندرہ فیصد خواتین اور بارہ فیصد مرد ایسے گھرانوں میں رہتے ہیں جن میں صرف وہ خود ہیں۔ اکیسویں صدی کے اس امریکہ میں چوالیس فیصد بچے شادی کے بغیر پیدا ہوتے ہیں، پہلی شادیوں میں طلاق کی شرح پچاس فیصد تک پہنچ گئی ہے، دوسری شادیوں میں یہ شرح سڑسٹھ فیصد اور تیسری شادیوں میں چوہتر فیصد ہے۔ یہ سب کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی قیمت ہے جس نے گھر کا کھانا اور خاندانی میز ترک کر دی۔ ماہرین معیشت نے اس تبدیلی کے بارے میں پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ جب حکومت بچوں اور بزرگوں کی نگہداشت کا ذمہ لے لے گی اور کھانے کی تیاری نجی کمپنیاں سنبھال لیں گی تو خاندانی نظام کمزور پڑ جائے گا اور یہی ہوا۔

یورپ میں صورت حال امریکہ سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ یوروسٹیٹ کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق یورپی یونین کے 20.31 کروڑ گھرانوں میں سے صرف 4.74 کروڑ یعنی 23.4 فیصد گھرانوں میں بچے ہیں جبکہ بقیہ 76.6 فیصد گھرانوں میں بچے نہیں ہیں۔ ان میں سب سے بڑا گروپ اکیلے رہنے والے افراد کا ہے جو کل گھرانوں کا 37.5 فیصد ہے۔ اس کے بعد بغیر بچوں والے جوڑوں کا نمبر آتا ہے جو 24.1 فیصد ہیں۔ 2016 سے 2025 کے درمیان بغیر بچوں والے اکیلے افراد کے گھرانوں میں 19.2 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بچوں والے جوڑوں کے گھرانوں میں 6.3 فیصد کمی آئی ہے۔ سب سے کم شرح بچوں والے گھرانوں کی فن لینڈ میں 18.2 فیصد، لتھوانیا میں 18.4 فیصد اور جرمنی میں 19.9 فیصد ہے۔ یورپی یونین کے بچوں والے 50.2 فیصد گھرانوں میں صرف ایک بچہ ہے، 37.6 فیصد میں دو بچے ہیں اور صرف 12.2 فیصد میں تین یا اس سے زیادہ بچے ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ گھروں میں کھانا پکانا اور خاندانی نظام کا آپس میں گہرا تعلق ہے جہاں کھانا پکانا کم ہوا وہاں خاندان بکھر گئے اور جہاں خاندان بکھر گئے وہاں کھانا پکانا کم ہو گیا۔ یورپی پالیسی ساز ان اعداد و شمار کو دیکھ کر پریشان ہیں اور یورپی فیملی پالیسی کانفرنس جیسے فورمز پر اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں مگر اب تک کوئی موثر حل سامنے نہیں آیا۔
پاکستان میں ابھی یہ صورت حال امریکہ اور یورپ کی طرح سنگین نہیں ہے مگر تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کی ساتویں آبادی اور ہاؤسنگ مردم شماری 2023 کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 24.15 کروڑ ہے جس میں سے 65.97 فیصد آبادی شادی شدہ ہے جبکہ 29.75 فیصد غیر شادی شدہ ہیں۔ طلاق یافتہ افراد کا تناسب صرف 0.35 فیصد ہے اور بیوگان 3.78 فیصد ہیں۔ اوسط پاکستانی گھرانے کا حجم 6.30 افراد ہے۔ یہ اعداد و شمار امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں خاندانی نظام کی مضبوطی کی نشاندہی کرتے ہیں مگر ان مثبت اشاروں کے باوجود پاکستان میں مشترکہ خاندانی نظام تیزی سے ٹوٹ رہا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی تحقیق کے مطابق روایتی مشترکہ اور توسیعی خاندانی نظام تیزی سے ٹوٹ رہا ہے اور اس کی جگہ نیوکلیئر خاندانوں کا رجحان بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں بزرگ تیزی سے بے سہارا ہو رہے ہیں۔ پنجاب میں ایک سروے کے مطابق 38 فیصد بوڑھے مردوں اور عورتوں کو اپنے بالغ بیٹوں سے کوئی مالی امداد نہیں ملتی اور 23 فیصد بزرگوں کو بیماری کے دوران اپنے بچوں سے شاذ و نادر ہی کوئی مدد ملتی ہے یا بالکل نہیں ملتی۔ پاکستان میں خاندانی فیصلہ سازی کا نظام بڑی حد تک پدرانہ ہے اور ایک تحقیق کے مطابق 99 فیصد خاندانوں میں فیصلہ سازی کا نظام پدرانہ ہے جہاں گھر کے بزرگ یا شوہر اکیلے فیصلے کرتے ہیں۔ یہ پدرانہ نظام اگرچہ روایتی طور پر مضبوط رہا ہے مگر اب اس میں دراڑیں پڑ رہی ہیں کیونکہ خواتین تعلیم اور ملازمت کے ذریعے بااختیار بن رہی ہیں اور اپنے فیصلوں میں شمولیت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
پاکستان میں خاندانی نظام کے مستقبل کے بارے میں ماہرین کی رائے منقسم ہے لیکن زیادہ تر اس بات پر متفق ہیں کہ ماضی کا روایتی مشترکہ خاندان واپس نہیں آ رہا بلکہ خاندان نئی شکلیں اختیار کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئی شکلیں اتنی ہی مضبوط ہوں گی جتنی پرانی تھیں۔ اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اس تبدیلی کو کس طرح منظم کرتے ہیں۔ اگر ہم نے بغیر کسی منصوبہ کے اس تبدیلی کو آنے دیا تو نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں بزرگ بے سہارا ہو جائیں گے، بچے کمزور پرورش پائیں گے اور معاشرہ نفسیاتی بحران کا شکار ہو جائے گا۔ لیکن اگر ہم نے شعوری طور پر اس تبدیلی کو سمجھا اور اس کے مطابق نئے سماجی ڈھانچے وضع کیے تو خاندان کے بنیادی کام جذباتی سہارا، اقدار کی منتقلی اور کمزوروں کی دیکھ بھال کو نئی شکل میں بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں خاندان کو ابھی بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اگر ہم وقت رہتے اسے سمت دے دیں تو ہم امریکہ اور یورپ کے تجربے سے سبق سیکھ کر ایک بہتر راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی کے معاملات پر پالیسی ریسرچ کرنے والے اہم اداروں میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس، سسٹینیبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز شامل ہیں۔ ان اداروں کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا خاندانی نظام ایک نازک موڑ پر ہے جہاں روایتی نظام ٹوٹ رہا ہے اور نیا نظام ابھی مکمل طور پر تشکیل نہیں پا سکا۔ سسٹینیبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے میڈیا کو خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے پر زور دیا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے تاکہ اس شعبے میں پالیسی اور عمل کے درمیان خلا کو کم کیا جا سکے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کی تحقیق کے مطابق پاکستان کی سیاست پر خاندانی اثر و رسوخ گہرا ہے اور 2018 کی قومی اسمبلی میں 55 سے 60 فیصد منتخب ارکان کا تعلق سیاسی پس منظر رکھنے والے خاندانوں سے تھا جس کا جمہوری عمل پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ یہ خاندانی اثر و رسوخ اگرچہ ایک طرف جمہوریت کے لیے چیلنج ہے مگر دوسری طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں خاندان ابھی تک ایک طاقتور ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔
کھانا پکانا بند ہونے کے صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گھر کا بنا کھانا ہمیشہ باہر کے کھانے سے بہتر ہوتا ہے کیونکہ اس میں استعمال ہونے والا تیل معیاری ہوتا ہے، مصالحے متوازن ہوتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ اس میں محبت شامل ہوتی ہے۔ جب گھروں میں کھانا پکنا بند ہو جائے گا تو لوگ ڈیلیوری اور فاسٹ فوڈ پر انحصار کرنے لگیں گے جو کہ غیر معیاری تیل، مصنوعی ذائقوں اور بے حد چینی اور نمک سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ موٹاپا، ذیابیطس، دل کی بیماریاں اور کم عمری میں بلڈ پریشر کی صورت میں نکلے گا۔ پاکستانی جینیات ان بیماریوں کے لیے خاصی حساس ہیں اور اگر ہم نے خوراک کا یہ راستہ اختیار کیا تو آنے والی دہائیوں میں ہماری نسل کو شدید طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق زیادہ پراسیسڈ فوڈز والی خوراک دل کی بیماری، ذیابیطس اور موٹاپے کے خطرات کو 30 فیصد سے زیادہ بڑھا دیتی ہے اور گھر کا باقاعدہ کھانا بہتر غذا، کم موٹاپے، زیادہ خاندانی بندھن اور بہتر ذہنی صحت سے منسلک ہے۔ امریکہ اور یورپ میں یہ وبا پچھلی صدی کی آخری دہائیوں میں شروع ہوئی اور آج وہاں کی بڑی آبادی ان بیماریوں کا شکار ہے جبکہ وہاں کی حکومتیں اور دواساز کمپنیاں اس بحران سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ پاکستان میں اگر یہ رجحان پھیلا تو ہمارا صحت کا نظام جو پہلے ہی کمزور ہے، اس بڑھتے ہوئے بوجھ کو برداشت نہیں کر پائے گا اور لاکھوں لوگ قبل از وقت اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
کھانا پکانا بند ہونے کا ایک اور پہلو معاشی ہے۔ گھر کا بنا کھانا نہ صرف صحت مند ہوتا ہے بلکہ معاشی طور پر بھی زیادہ سستا ہوتا ہے۔ ایک گھریلو عورت ایک تھال دال چاول سو روپے میں تیار کر سکتی ہے جبکہ باہر سے منگوانے پر وہی کھانا چھ سو سے آٹھ سو روپے میں پڑتا ہے۔ اگر گھروں میں کھانا پکانا بند ہو جائے تو گھرانوں کا ماہانہ بجٹ خوراک پر چالیس سے پچاس فیصد بڑھ جائے گا اور یہ اضافی بوجھ متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دے گا۔ پاکستان میں افراط زر اور مہنگائی پہلے ہی عوام کو بری طرح متاثر کر رہی ہے اور اس طرح کے اضافی اخراجات لاکھوں خاندانوں کو غربت کی طرف دھکیل دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ گھر کی عورت جب کھانا پکانا بند کر دے گی تو وہ خود کو غیر مفید محسوس کرے گی اور اس کا کردار صرف خریداری اور ڈیلیوری آرڈر دینے تک محدود ہو جائے گا۔ اس سے خواتین میں بے چینی اور ڈپریشن میں اضافہ ہوگا اور میاں بیوی کے درمیان جھگڑے بڑھیں گے جس کا نتیجہ گھریلو تشدد اور طلاق کی صورت میں نکلے گا۔ معاشی دباؤ اور جذباتی دوری کا یہ امتزاج خاندانوں کو اندر سے کھوکھلا کر دے گا اور پھر وہی منظر پیش آئے گا جو آج امریکہ اور یورپ میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔
امریکہ اور یورپ کا تجربہ ہمارے سامنے ایک کھلا سبق ہے کہ اگر ہم نے وقت رہتے اپنے خاندانی نظام اور اپنے باورچی خانے کو نہیں سنبھالا تو وہی صورت حال جو امریکہ اور یورپ میں پچاس سالوں میں رونما ہوئی، پاکستان میں صرف بیس سالوں میں نظر آ سکتی ہے۔ ہمارے بزرگ اپنے ساتھ سفر میں بھی گھر کا پکا ہوا کھانا رکھتے تھے اور اسے اپنی ثقافت اور شناخت کا حصہ سمجھتے تھے مگر آج ہم گھر میں ہو کر بھی باہر سے کھانا منگوانے کو آسانی سمجھتے ہیں۔ یہ تبدیلی ظاہری طور پر بہت معمولی لگتی ہے مگر اس کے معاشرتی، صحتی، معاشی اور نفسیاتی اثرات بہت گہرے اور دیرپا ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ باورچی خانہ صرف چولہا اور دیگیں نہیں ہے بلکہ یہ خاندانی تہذیب کا گہوارہ ہے، یہ بچوں کی تربیت کا اسکول ہے، یہ بزرگوں کی عزت کا ضامن ہے اور یہ مرد و عورت کے درمیان محبت کا پل ہے۔ جب باورچی خانہ خاموش ہو جاتا ہے تو گھر کی روح خاموش ہو جاتی ہے اور پھر وہ گھر صرف ایک عمارت رہ جاتا ہے جس میں لوگ تو رہتے ہیں مگر ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن جاتے ہیں۔اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے باورچی خانے کو زندہ کریں، صرف چولہا نہیں بلکہ وہ رشتے اور وہ محبت جو اس کے گرد پروان چڑھتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو گھر کے کھانے کا ذائقہ سکھانا ہوگا، انہیں میز پر بٹھا کر باتیں کرنی ہوں گی اور انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ گھر کی خوشبو اور گھر کا ذائقہ کسی بھی باہر کے کھانے سے بہتر ہے۔ ہمیں بزرگوں کو اس میز پر جگہ دینی ہوگی اور ان کے تجربات سے سیکھنا ہوگا تاکہ نسلیں ایک دوسرے سے جڑی رہیں۔ خواتین کو کھانا پکانے کا بوجھ نہیں بلکہ ایک مشن سمجھنا چاہیے جس میں پورا خاندان حصہ لے اور ایک دوسرے کی مدد کرے۔ مردوں کو بھی باورچی خانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ یہ عمل سب کی مشترکہ ذمہ داری بن جائے اور اس سے خاندانی بندھن مزید مضبوط ہو۔ آئیے ہم اپنے گھروں کو ریسٹورانٹ نہ بننے دیں اور اپنے خاندانوں کو صرف سوشل میڈیا فرینڈز نہ رہنے دیں۔ ایک بیڈروم سے گھر نہیں بنتا، ایک باورچی خانے سے خاندان جڑتا ہے اور اسی باورچی خانے سے ایک پوری قوم کی تہذیب اور شناخت زندہ رہتی ہے۔ یہ صرف کھانا پکانے کی بات نہیں ہے بلکہ یہ ہماری بقا، ہماری شناخت اور ہمارے آنے والی نسلوں کے مستقبل کی بات ہے۔ اگر ہم نے آج اس طرف توجہ نہ دی تو کل ہمیں بہت دیر ہو جائے گی اور ہم اسی بحران کا شکار ہو جائیں گے جس سے آج امریکہ اور یورپ نبرد آزما ہیں۔


