Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

ایک طویل مدتی دماغی تحقیق میں سگریٹ نوشی، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری اور خون میں چکنائی کی بلند سطح کو دماغ میں ایسی تبدیلیوں سے مضبوط طور پر منسلک کیا گیا ہے جو ویسکولر ڈیمینشیا کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔

محققین کے مطابق دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بعض مسائل وقت کے ساتھ دماغ تک خون کی مناسب رسد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ خون کی روانی میں رکاوٹ یا شریانوں کو پہنچنے والا نقصان دماغی بافتوں کو متاثر کر سکتا ہے اور مستقبل میں یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔

سگریٹ نوشی اور ڈیمینشیا کا خطرہ

تحقیق میں سگریٹ نوشی کو دماغی اور قلبی صحت کے لیے ایک اہم خطرے کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ تمباکو نوشی خون کی شریانوں کو نقصان پہنچانے، جسم میں سوزش بڑھانے اور دل سے متعلق مسائل پیدا کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے، جو بالآخر دماغی صحت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر بھی اہم خطرہ

ہائی بلڈ پریشر بھی ویسکولر ڈیمینشیا کے اہم خطرات میں شامل ہے۔ اگر بلڈ پریشر طویل عرصے تک زیادہ رہے تو یہ دماغ کو خون فراہم کرنے والی شریانوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے، جس سے خون کی شریانوں کو نقصان پہنچنے اور دماغی افعال متاثر ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

دل کی بیماری اور ہائی کولیسٹرول

تحقیق میں دل کی بیماری کو بھی دماغی خون کی شریانوں سے متعلق نقصان کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ دل کی بعض بیماریاں جسم میں خون کی مؤثر گردش کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں دماغ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

اسی طرح خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کی بلند سطح شریانوں میں چربی کے ذخائر پیدا کر سکتی ہے، جس سے خون کی روانی متاثر ہونے اور خون کی شریانوں سے متعلق پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

صحت مند طرز زندگی دماغ کی حفاظت میں مددگار

تحقیق کے نتائج اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ دل اور خون کی شریانوں سے متعلق خطرات کو بروقت کنٹرول کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی ترک کرنا، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اختیار کرنا اور متوازن غذا استعمال کرنا مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

ویسکولر ڈیمینشیا دماغ تک خون کی رسد متاثر ہونے کے نتیجے میں دماغی بافتوں کو پہنچنے والے نقصان سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سے یادداشت، سوچنے، سمجھنے اور روزمرہ کے معمولات انجام دینے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

تازہ تحقیق اس بڑھتے ہوئے شواہد میں اضافہ کرتی ہے کہ دل کی بہتر صحت دماغ کی صحت کے لیے بھی اہم ہو سکتی ہے۔ اگرچہ طرز زندگی میں تبدیلیاں ڈیمینشیا سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتیں، تاہم قابلِ تبدیلی قلبی خطرات کو کم کرنا دماغی صحت کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔