Picture of Syed Sardar Muhammad Khondai

Syed Sardar Muhammad Khondai

بلوچستان میں ظلم و جبر کی انتہا، قومی شاہراہیں غیر محفوظ اور صوبے کا مسئلہ سیاسی ہے۔ آل پارٹیز

کوئٹہ( سید سردار محمد خوندئی )
بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ایک اہم اور طویل آل پارٹیز مشاورتی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں نے واضح کیا کہ بلوچستان کا مسئلہ خالصتاً سیاسی ہے اور اسے سیاسی طریقوں سے ہی حل کیا جانا چاہیے۔ اگر بلوچستان کو فتح کرنے کے لیے ایک لاکھ قوانین بھی بنا دیے جائیں، تب بھی اسے فتح نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور وہ صرف زرغون روڈ کی حفاظت میں مصروف ہے۔ صوبے میں ظلم و جبر کی انتہا ہو چکی ہے۔ اگر اسماء جتک کل کو کسی مسلح تنظیم میں شامل ہوتی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟
رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں قومی شاہراہیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں اور نوجوان موجودہ سسٹم سے بیزار ہیں، جو صوبے کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور “فارم 47” کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت کے خلاف سیاسی اور آئینی طریقے سے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
محمود خان اچکزئی کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشتون قومی جرگہ کے بجائے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے، کیونکہ یہاں آباد تمام اقوام ایک ہی مشکل سے دوچار ہیں، صرف اشکال مختلف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے مسائل پر مولانا فضل الرحمن کی زیر قیادت ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوگی، جبکہ 5 ستمبر کو ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیر صدارت تیسرا آل پارٹیز اجلاس منعقد ہوگا جس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
پریس کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، مولانا عبدالواسع، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر داؤد خان اچکزئی، صوبائی پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، صوبائی جنرل سیکرٹری محبت کاکا، عبید اللہ عابد، جاوید خان کاکڑ، صوبائی نائب صدر جمال الدین ریشتیا، ثناء اللہ کاکڑ، نیشنل پارٹی کے کبیر محمد شہی، اسلم بلوچ، جمعیت علمائے اسلام کے آغا محمد شاہ، قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری، بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر حسین لانگو، واحد بلوچ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سید قادر آغا، فقیر خوشحال کاسی، عیسیٰ روشان، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے احمد جان خان، ایمل خان ناصر، عنایت شاہ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر نائل، داؤد جان اور جماعت اسلامی کے زاہد اختر جمیل مشوانی سمیت دیگر قائدین شریک تھے۔