Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) کے انتخابات کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی “الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے”۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابات شفاف، آزاد اور منصفانہ نہیں تھے اور بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی۔

پیپلز پارٹی وفاق میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعت ہے، تاہم آزاد کشمیر انتخابات کے دوران دونوں جماعتوں کے درمیان سخت سیاسی کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں پیپلز پارٹی مسلسل انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھاتی رہی۔

بلاول کا مسلم لیگ (ن) کو سخت پیغام

انتخابی نتائج کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

“میرے مسلم لیگ (ن) کے دوستو! کیا آپ کو وہ آواز سنائی دے رہی ہے؟ وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔”

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ 10 اگست کو ضلع باغ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کریں گے اور پونچھ کے عوام اور پارٹی کارکنوں سے بھرپور شرکت کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا:

“پونچھ! میں آ رہا ہوں، تیاری کر لو۔”

انتخابات کو متنازع قرار دیا

بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر انتخابات کو “نہ آزاد، نہ منصفانہ” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ دھاندلی زدہ، گولیوں والے اور خون آلود انتخابات تھے۔

انہوں نے کہا کہ تمام تر مشکلات اور مبینہ بے ضابطگیوں کے باوجود پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے بھرپور جدوجہد کی اور پارٹی نے 9 نشستیں جیت کر اپنی سیاسی طاقت کا ثبوت دیا۔

انہوں نے کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا:

“آپ نے تمام رکاوٹوں کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کو نو نشستوں پر کامیاب کرایا، جس پر میں آپ سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔”

مبینہ طور پر “چھینی گئی نشستیں” واپس لینے کا اعلان

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ان کی جماعت میرپور اور مظفرآباد کی وہ نشستیں بھی واپس لے کر رہے گی جنہیں ان کے بقول پارٹی سے چھینا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی دباؤ میں پیچھے نہیں ہٹے گی۔

“پاکستان پیپلز پارٹی نہ کبھی حوصلہ ہارتی ہے، نہ میدان چھوڑتی ہے اور نہ ہی جدوجہد سے دستبردار ہوتی ہے۔”

شرجیل میمن کی بھی وفاقی حکومت کو تنبیہ

بلاول بھٹو کے بیان سے کچھ دیر قبل سندھ کے سینئر وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے بھی وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے اپنے امیدواروں کو دو روز پہلے ہی بیلٹ پیپر فراہم کر دیے تھے۔

شرجیل میمن نے الزام لگایا کہ آزاد کشمیر کے صدر اور وزیراعظم کی شکایات تک کو نظر انداز کیا گیا اور انتخابات میں تاریخی دھاندلی کی گئی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر انتخابات شفاف تھے تو 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کامیابیوں پر بھی سوالات کیوں نہ اٹھائے جائیں۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنانے کی پوزیشن

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 45 میں سے 23 نشستیں حاصل کر کے سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔

آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کے بعد حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، کے درمیان سیاسی بیانات اور الزامات نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ دونوں جماعتیں وفاقی سطح پر بدستور اتحادی ہیں۔