کیاآنے والے فیصلے پاکستان کا نقشہ بدل سکتے ہیں
میاں افتخار احمد
جب ریاست اپنے آپ کو بدلنے لگے تو سیاست کے موسم بدل جاتے ہیں۔کبھی کبھی قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحے آتے ہیں جب خبریں خاموش ہو جاتی ہیں لیکن اشارے بولنے لگتے ہیں، جب سرکاری بیانات سے زیادہ اہم خاموشیاں ہو جاتی ہیں، جب سیاست دان ایک بات کہتے ہیں مگر ریاست دوسری سمت میں چل رہی ہوتی ہے، جب اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی سرگوشیاں عوام تک افواہوں کی صورت پہنچتی ہیں اور پھر پورا ملک ایک ہی سوال پوچھنے لگتا ہے کہ آخر پس پردہ کیا ہو رہا ہے؟ پاکستان ایک بار پھر ایسے ہی سوالات کی زد میں کھڑا ہے۔ کہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ آئین میں بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں، کہیں نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے، کہیں قومی حکومت کی بازگشت سنائی دیتی ہے، کہیں صدارتی نظام کا ذکر ہونے لگتا ہے اور کہیں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست اپنی آخری منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان تمام باتوں کے درمیان سب سے بڑی غلطی یہ ہوگی کہ ہر افواہ کو حقیقت اور ہر دعوے کو فیصلہ سمجھ لیا جائے، لیکن اس سے بھی بڑی غلطی یہ ہوگی کہ ان تمام مباحث کو محض افواہ قرار دے کر نظر انداز کر دیا جائے۔ سیاست میں بعض اوقات دھواں وہاں بھی اٹھتا ہے جہاں آگ ابھی پوری طرح نظر نہیں آتی۔ اس لیے اصل ضرورت جذباتی ردعمل کی نہیں بلکہ ٹھنڈے دل اور کھلے ذہن کے ساتھ اس پورے منظرنامے کو سمجھنے کی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کل صبح کون وزیراعظم ہوگا، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ آئندہ دس یا پندرہ برس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس نے طاقت کے ہر مرکز، معاشی ماہرین، انتظامی حلقوں، سرمایہ کاروں اور سنجیدہ پالیسی سازوں کو سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے صرف سیاسی بحران کا شکار نہیں بلکہ ایک گہرے ریاستی دباؤ سے گزر رہا ہے۔ معیشت بار بار بیرونی سہاروں کی محتاج ہو جاتی ہے، ٹیکس وصولی آبادی اور معیشت کے حجم کے مطابق نہیں بڑھتی، سرکاری ادارے قومی خزانے پر بوجھ بنے رہتے ہیں، ترقیاتی منصوبے حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ بدل جاتے ہیں، صوبے وسائل پر اختلاف کرتے ہیں، شہروں کی آبادی انتظامی صلاحیت سے کہیں آگے نکل چکی ہے، عدالتیں مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں، پولیس اصلاحات کا سفر ادھورا ہے، بلدیاتی ادارے اکثر بے اختیار رہتے ہیں اور بیوروکریسی کا بڑا حصہ قواعد کی پیچیدگی میں الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ تمام مسائل کسی ایک سیاسی جماعت، ایک وزیراعظم یا ایک صدر کی پیداوار نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جمع ہونے والی کمزوریوں کا نتیجہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب پہلی مرتبہ بحث صرف حکومت کی تبدیلی تک محدود نہیں رہی بلکہ ریاستی کارکردگی کو موضوع بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک نے تقریباً ہر طرز حکمرانی آزما لیا ہے۔ پارلیمانی نظام بھی دیکھا، صدارتی نظام بھی، فوجی حکومتیں بھی اور مخلوط حکومتیں بھی۔ ہر دور میں عوام سے یہی وعدہ کیا گیا کہ اب مسائل حل ہو جائیں گے، مگر چند برس بعد پھر وہی سوالات سامنے آ گئے۔ اس تجربے نے ایک حقیقت واضح کر دی کہ کسی بھی نظام کی کامیابی صرف اس کے آئینی عنوان میں نہیں بلکہ اس کے اداروں کی صلاحیت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر ادارے کمزور ہوں، قانون کمزور ہو، احتساب انتخابی ہو، پالیسیوں میں تسلسل نہ ہو اور قومی وسائل کا مؤثر استعمال نہ ہو تو دنیا کا بہترین آئینی نظام بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔ دوسری طرف اگر ادارے مضبوط ہوں، قانون سب پر یکساں نافذ ہو، فیصلے میرٹ پر ہوں اور قومی مفاد ذاتی مفاد پر غالب ہو تو مختلف نظام بھی کامیابی سے چل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اصل بحث یہ ہونی چاہیے کہ پاکستان کو کس قسم کی ریاست بننا ہے، نہ کہ صرف یہ کہ اسے کس قسم کی حکومت درکار ہے۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ گزشتہ چند برسوں میں ریاستی سطح پر گورننس، انتظامی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، وسائل کے بہتر استعمال، آبادی کے دباؤ اور بڑے صوبوں کی انتظامی مشکلات پر پہلے سے زیادہ گفتگو ہونے لگی ہے۔ یہ گفتگو محض پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں ہو رہی ہے کیونکہ اکیسویں صدی کی ریاستیں انیسویں صدی کے انتظامی ڈھانچوں کے ساتھ زیادہ دیر نہیں چل سکتیں۔ پاکستان کے سامنے بھی یہی چیلنج ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے بنیں گے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ آئندہ پچیس کروڑ سے زائد آبادی کے تقاضوں کو پورا کر سکے گا یا نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ صدارتی نظام آئے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا موجودہ فیصلہ سازی اتنی تیز، مربوط اور مؤثر ہے کہ عالمی معاشی مقابلے میں پاکستان کو آگے لے جا سکے۔ سوال یہ نہیں کہ ایک اور آئینی ترمیم ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا آئین کے اندر موجود ادارے اپنی اصل روح کے مطابق کام کر رہے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی سیاست اور ریاست ایک دوسرے سے الگ نظر آنے کے باوجود دراصل ایک ہی سوال کے گرد گھوم رہی ہیں۔ سیاست اقتدار کی بات کرتی ہے جبکہ ریاست کارکردگی کی۔ سیاست اگلے انتخاب کو دیکھتی ہے جبکہ ریاست اگلی نسل کو۔ سیاست اکثریت تلاش کرتی ہے جبکہ ریاست استحکام تلاش کرتی ہے۔ جب یہ دونوں راستے ایک دوسرے سے دور ہو جائیں تو افواہیں جنم لیتی ہیں، قیاس آرائیاں بڑھتی ہیں اور پھر ہر شخص اپنے اپنے انداز سے مستقبل کی تصویر بنانے لگتا ہے۔ لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ قوموں کا مستقبل افواہوں سے نہیں بلکہ اداروں، معیشت، قانون اور اجتماعی فیصلوں سے تشکیل پاتا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھے بغیر پاکستان کے موجودہ حالات کا کوئی بھی تجزیہ ادھورا رہے گا۔
آخر طاقتور ریاستیں کب اپنے آئینی یا انتظامی ڈھانچے پر نظرِ ثانی کرتی ہیں، کیا پاکستان واقعی ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور اگر تبدیلی آتی ہے تو اس کی اصل سمت کیا ہو سکتی ہے؟ ریاستیں اپنے آئینی یا انتظامی ڈھانچے پر اس وقت نظرثانی نہیں کرتیں جب صرف حکومتیں کمزور ہوں بلکہ اس وقت جب انہیں یہ محسوس ہونے لگے کہ موجودہ نظام آئندہ بیس یا تیس برس کے تقاضوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ بڑی ریاستی اصلاحات ہمیشہ کسی نہ کسی بحران کے بعد سامنے آئیں۔ کہیں معاشی دباؤ نے نظام بدلنے پر مجبور کیا، کہیں آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ نے انتظامی نقشہ تبدیل کیا، کہیں قومی سلامتی کے تقاضوں نے اختیارات کی نئی تقسیم کو جنم دیا اور کہیں ٹیکنالوجی نے صدیوں پرانے ریاستی ڈھانچوں کو غیر مؤثر بنا دیا۔ پاکستان بھی اس وقت کئی ایسے چیلنجوں سے بیک وقت نبرد آزما ہے جنہیں صرف سیاسی نعروں یا حکومتوں کی تبدیلی سے حل کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ پالیسی سازوں کے درمیان اب گفتگو کا مرکز صرف یہ نہیں رہا کہ اقتدار کس کے پاس ہوگا بلکہ یہ بھی ہے کہ ریاست کو زیادہ مؤثر، کم خرچ، تیز رفتار اور جوابدہ کیسے بنایا جائے۔ اگر پاکستان کے موجودہ انتظامی نقشے کو دیکھا جائے تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ آزادی کے وقت جس آبادی کے لیے جو سرکاری ڈھانچہ بنایا گیا تھا، آج وہی ڈھانچہ کئی گنا زیادہ آبادی، کہیں زیادہ پیچیدہ معیشت اور کہیں وسیع تر شہری پھیلاؤ کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہر اپنی اصل منصوبہ بندی سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد روزانہ ان شہروں کے انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، پولیس، عدلیہ اور بلدیاتی خدمات پر انحصار کرتے ہیں، مگر انتظامی صلاحیت اسی رفتار سے نہیں بڑھی۔ یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں، انتظامی یونٹس یا اختیارات کی ازسرنو تقسیم کی بحث محض سیاسی نہیں بلکہ انتظامی بنیاد بھی رکھتی ہے۔لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا نئے صوبے بنا دینے سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے؟ جواب اتنا آسان نہیں۔ اگر صرف ایک نئے صوبے کے ساتھ نیا گورنر ہاؤس، نئی اسمبلی، نئی وزارتیں، نئی بیوروکریسی، نئی سرکاری گاڑیاں، نئے دفاتر اور پروٹوکول کا ایک اور نظام کھڑا کر دیا جائے تو ممکن ہے عوامی خزانے پر بوجھ بڑھ جائے۔ لیکن اگر نئی انتظامی اکائیاں اس اصول پر قائم ہوں کہ حکومت عوام کے قریب آئے، فیصلے ضلعی اور مقامی سطح پر ہوں، غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں، ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جائے اور بیوروکریسی کی غیر ضروری تہیں ختم کی جائیں تو یہی اصلاحات بہتر نتائج بھی دے سکتی ہیں۔ یعنی اصل سوال نئے صوبے نہیں بلکہ نئے طرزِ حکمرانی کا ہے۔
یہی معاملہ صدارتی اور پارلیمانی نظام کے بارے میں بھی ہے۔ پاکستان میں جب بھی سیاسی بحران گہرا ہوتا ہے تو صدارتی نظام کی بحث دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگ سست فیصلہ سازی، سیاسی عدم استحکام اور بار بار کی محاذ آرائی سے تنگ آ جاتے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ شاید ایک مضبوط مرکز اور واضح اختیارات سے نظام تیزی سے چل سکے۔ لیکن دوسری طرف یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ طاقت کا ارتکاز اگر مضبوط احتساب اور آزاد اداروں کے بغیر ہو تو وہ خود ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ صدر طاقتور ہو یا وزیراعظم، بلکہ یہ ہے کہ قانون طاقتور ہے یا نہیں، ادارے آزاد ہیں یا نہیں اور ریاستی فیصلے شخصیات کے تابع ہیں یا اصولوں کے۔ پاکستان کے سامنے سب سے بڑا امتحان شاید یہی ہے کہ وہ حکومت اور ریاست کے فرق کو سمجھے۔ حکومتیں انتخابات سے بنتی اور بدلتی ہیں، لیکن ریاست دہائیوں کے منصوبوں سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کی پالیسی ختم کر دے، اگر ہر منصوبہ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر شروع یا بند ہو، اگر معاشی فیصلے انتخابی ضرورتوں کے تابع رہیں اور اگر قومی ادارے مستقل اصلاحات سے محروم رہیں تو پھر نظام کا نام کچھ بھی ہو، نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا کی کامیاب ریاستیں حکومت کی تبدیلی سے زیادہ ریاستی تسلسل پر زور دیتی ہیں۔ وہ پانچ سال نہیں بلکہ پچیس سال آگے دیکھ کر منصوبہ بندی کرتی ہیں، اور یہی وہ سوچ ہے جس کی پاکستان کو بھی ضرورت ہے۔اسی تناظر میں اگر آج پاکستان کے بارے میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ملک کسی نئے سیاسی یا انتظامی مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے، تو اس کا محتاط جواب یہ ہے کہ ریاستی اصلاحات پر گفتگو یقیناً موجود ہے، لیکن کسی بھی بڑی تبدیلی کا انحصار صرف خواہشات یا افواہوں پر نہیں بلکہ سیاسی اتفاقِ رائے، آئینی عمل، معاشی ضرورت اور عوامی قبولیت پر ہوگا۔ یہی وہ چار ستون ہیں جن کے بغیر کوئی بھی بڑا ریاستی بندوبست دیرپا ثابت نہیں ہو سکتا۔

اگر پاکستان کو واقعی ایک “ریاستی ری سیٹ” کی ضرورت ہے تو اس کی شکل کیا ہو سکتی ہے، اور کیا اصل تبدیلی ایوانِ صدر، وزیراعظم ہاؤس یا پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ ریاستی اداروں میں ہونی چاہیے؟ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ پاکستان کو محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ریاستی کارکردگی میں بنیادی بہتری کی ضرورت ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی اصلاحات ہیں جو واقعی ملک کی سمت بدل سکتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی نعروں کا خاتمہ اور ریاستی حقیقتوں کا آغاز ہوتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان نے بارہا یہ تجربہ کیا کہ ایک حکومت گئی، دوسری آگئی، ایک جماعت کی جگہ دوسری جماعت نے لے لی، ایک وزیراعظم کے بعد دوسرا آگیا، لیکن عام شہری کی زندگی میں وہ انقلاب نہ آسکا جس کا ہر انتخاب سے پہلے وعدہ کیا جاتا تھا۔ اس تجربے نے ایک تلخ حقیقت کو جنم دیا کہ شاید مسئلہ صرف حکمرانوں کا نہیں بلکہ حکمرانی کے طریقۂ کار کا بھی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کسی ایک شخصیت نے قوموں کو عظیم نہیں بنایا بلکہ ایسے ادارے قائم کیے گئے جو افراد سے زیادہ مضبوط تھے۔ حکومتیں بدلتی رہیں لیکن ریاست کی رفتار نہیں رکی، پالیسیاں تبدیل ہوئیں مگر قومی مفاد کا رخ تبدیل نہیں ہوا، انتخابات ہوئے مگر معیشت، خارجہ پالیسی، تعلیم، انصاف اور قومی سلامتی جیسے بنیادی شعبوں میں تسلسل برقرار رہا۔ یہی وہ تصور ہے جسے جدید ریاستی صلاحیت یا اسٹیٹ کیپیسٹی کہا جاتا ہے، اور شاید پاکستان کی اصل ضرورت بھی یہی ہے۔آج اگر پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے تو ایک حقیقت واضح نظر آتی ہے کہ ریاست اپنے وسائل سے زیادہ اخراجات کی عادی ہو چکی ہے۔ قرض لے کر ترقی کرنا ایک حد تک ممکن ہوتا ہے لیکن مسلسل قرض لے کر ریاست نہیں چلائی جا سکتی۔ اس صورت حال میں سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومتی اخراجات کا موجودہ ڈھانچہ قابلِ برداشت ہے؟ کیا وفاق اور صوبوں میں موجود وزارتوں، محکموں، اتھارٹیز، سرکاری اداروں اور انتظامی سطحوں کی تعداد واقعی اتنی ہی ضروری ہے جتنی آج موجود ہے؟ کیا ہر ادارہ اپنی افادیت ثابت کر رہا ہے یا صرف بجٹ کا ایک مستقل حصہ بن چکا ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو دنیا کے ہر اس ملک نے پوچھے جس نے معاشی بحران کے بعد خود کو دوبارہ منظم کیا۔ کامیاب ریاستوں نے وزارتوں کو ضم کیا، غیر ضروری ادارے ختم کیے، ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا، سرکاری عملے کی ذمہ داریاں واضح کیں، مقامی حکومتوں کو اختیارات دیے اور وسائل کا ضیاع کم کیا۔ پاکستان بھی اگر اسی سمت بڑھتا ہے تو اس کے نتائج محض آئینی ترمیم سے کہیں زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں صدارتی اور پارلیمانی نظام کی بحث کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر صرف وزیراعظم کا عہدہ ختم کر کے ایک طاقتور صدر منتخب کر دیا جائے لیکن بیوروکریسی وہی رہے، سرکاری اداروں کی کارکردگی وہی رہے، احتساب کا معیار وہی رہے، عدالتی مقدمات کی رفتار نہ بدلے، ٹیکس چوری جاری رہے، بجلی کی تقسیم کے مسائل برقرار رہیں اور مقامی حکومتیں بدستور کمزور رہیں تو عام آدمی کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟ شاید بہت کم۔ دوسری طرف اگر موجودہ پارلیمانی نظام برقرار رہے مگر ریاستی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کر دیا جائے، سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی لائی جائے، ٹیکنالوجی کو فیصلہ سازی کا حصہ بنایا جائے، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور قانون کی حکمرانی کو غیر متزلزل بنا دیا جائے تو یہی نظام کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے دانش کا تقاضا یہ ہے کہ بحث کو صرف اس نکتے تک محدود نہ رکھا جائے کہ اقتدار کا مرکز ایوانِ صدر ہوگا یا وزیراعظم ہاؤس، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ دیکھا جائے کہ ریاست کا ہر ادارہ عوام کے لیے کتنا مفید، شفاف اور جوابدہ ہے۔اسی بحث کا ایک اہم پہلو نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا بھی ہے۔ بعض ماہرین کے نزدیک بڑے صوبوں کو انتظامی طور پر چھوٹا کرنا مستقبل کی ضرورت بن سکتا ہے کیونکہ آبادی، شہری پھیلاؤ اور وسائل کی تقسیم کے موجودہ تقاضے ماضی سے بہت مختلف ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اگر صرف نقشہ بدل دیا گیا اور سوچ نہ بدلی تو مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ دونوں آرا میں ایک مشترک نکتہ موجود ہے، اور وہ یہ کہ پاکستان کو انتظامی اصلاحات کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سوال صرف یہ ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد عوامی سہولت ہوگا یا صرف ایک نیا سرکاری ڈھانچہ کھڑا کرنا۔ اگر مقصد عوامی خدمت ہوگا تو تبدیلی مفید ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر مقصد صرف عہدوں اور دفاتر میں اضافہ ہوا تو قوم کو اس کا بوجھ ہی اٹھانا پڑے گا۔شاید یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے مستقبل کا سب سے اہم سوال سامنے آتا ہے۔ کیا ہم ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں ہر بحران کا علاج صرف حکومت کی تبدیلی سمجھا جائے، یا پھر ایسی ریاست جہاں ادارے اتنے مضبوط ہوں کہ حکومتوں کی تبدیلی سے قومی سمت متاثر نہ ہو؟ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ افراد سے زیادہ اداروں پر سرمایہ کاری کرتی ہیں، نعروں سے زیادہ نظم و ضبط کو اہمیت دیتی ہیں اور اقتدار سے زیادہ کارکردگی کو معیار بناتی ہیں۔ اگر پاکستان نے یہ راستہ اختیار کر لیا تو چاہے نظام پارلیمانی رہے یا صدارتی، ریاست زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے، لیکن اگر بنیادی اصلاحات کے بغیر صرف آئینی عنوان تبدیل کیے گئے تو ممکن ہے چند برس بعد یہی سوالات دوبارہ اسی شدت سے ہمارے سامنے کھڑے ہوں۔
پاکستان اس وقت جس مقام پر کھڑا ہے وہاں سب سے بڑی ضرورت جذباتی نعروں، سیاسی وابستگیوں اور وقتی مفادات سے بلند ہو کر ریاست کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ مکالمہ کرنے کی ہے۔ دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں صرف اس لیے ترقی نہیں کرتیں کہ انہوں نے اپنا آئین بدل لیا، نہ ہی اس لیے کہ انہوں نے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کر دیا، بلکہ وہ اس لیے ترقی کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے اداروں کو مضبوط بنایا، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا، قومی وسائل کو امانت سمجھا، احتساب کو بلاامتیاز نافذ کیا اور ریاستی فیصلوں کو آنے والے انتخابات کے بجائے آنے والی نسلوں سے جوڑ دیا۔ پاکستان کا اصل امتحان بھی یہی ہے۔ اگر آج کوئی یہ سمجھتا ہے کہ صرف ایک آئینی ترمیم، صرف ایک نئے نظام، صرف ایک قومی حکومت یا صرف ایک نئی سیاسی صف بندی سے ملک کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے تو شاید وہ پاکستان کے بحران کی اصل نوعیت کو پوری طرح نہیں سمجھ رہا۔ اس بحران کی جڑیں بہت گہری ہیں اور ان کا تعلق سیاست سے زیادہ ریاست کی ساخت، انتظامی صلاحیت، مالی نظم و ضبط، تعلیم، انصاف، ٹیکنالوجی، مقامی حکومتوں، انسانی وسائل اور قومی ترجیحات سے ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اب اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں روایتی طرزِ حکمرانی کے ساتھ آگے بڑھنا پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، شہری مسائل پیچیدہ ہو رہے ہیں، عالمی معیشت مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور تیز رفتار فیصلہ سازی کے دور میں داخل ہو چکی ہے جبکہ پاکستان اب بھی کئی شعبوں میں گزشتہ صدی کے انتظامی طریقوں پر انحصار کر رہا ہے۔ اگر ریاست نے خود کو ان نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں تاخیر کی تو صرف سیاسی استحکام بھی معاشی ترقی کی ضمانت نہیں بن سکے گا۔ اسی لیے اب بحث کا رخ حکومت سے زیادہ گورننس، اقتدار سے زیادہ کارکردگی، شخصیت سے زیادہ ادارے اور سیاست سے زیادہ ریاست کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔اس وقت مختلف حلقوں میں جو قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں، ان میں سے کچھ وقت کے ساتھ درست بھی ثابت ہو سکتی ہیں اور بہت سی محض افواہیں بھی ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن ان سب سے ہٹ کر ایک حقیقت ایسی ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ پاکستان کو ریاستی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ اصلاحات چاہے موجودہ آئینی ڈھانچے کے اندر ہوں یا مستقبل میں کسی نئے سیاسی اتفاقِ رائے کے ذریعے، ان کا مرکز عوامی خدمت، مؤثر حکمرانی اور مضبوط ادارے ہونے چاہئیں۔ اگر کسی دن نئے صوبے بنتے ہیں تو ان کا مقصد عوام کے قریب حکومت لانا ہونا چاہیے، اگر مالیاتی نظام میں تبدیلی آتی ہے تو اس کا مقصد وسائل کی منصفانہ تقسیم ہونا چاہیے، اگر انتظامی یونٹس تشکیل پاتے ہیں تو ان کا مقصد اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہونا چاہیے، اگر کوئی آئینی ترمیم ہوتی ہے تو اس کا مقصد ریاست کو زیادہ جوابدہ اور مؤثر بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ صرف طاقت کی نئی تقسیم۔
آج پاکستان کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ ایوانِ صدر زیادہ طاقتور ہوگا یا وزیراعظم ہاؤس، نہ ہی یہ کہ کون سی جماعت اقتدار میں رہے گی اور کون اپوزیشن میں جائے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک ایسی ریاست بن سکے گا جس میں قانون شخصیت سے طاقتور ہو، ادارے حکومتوں سے زیادہ مضبوط ہوں، پالیسی انتخابات سے زیادہ دیرپا ہو، قومی وسائل ذاتی مفادات کے بجائے عوامی بہبود پر خرچ ہوں اور فیصلے وقتی سیاسی فائدے کے بجائے قومی مستقبل کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔ اگر اس سوال کا جواب ہاں میں تلاش کر لیا گیا تو آئین کی دفعات، حکومت کی شکل اور اقتدار کے مراکز اپنی جگہ خود متوازن ہوتے چلے جائیں گے، لیکن اگر اس بنیادی سوال کو پھر نظر انداز کر دیا گیا تو چاہے کتنی ہی ترامیم ہو جائیں، کتنے ہی نئے عہدے قائم ہو جائیں، کتنی ہی حکومتیں آ جائیں یا چلی جائیں، عام پاکستانی کی زندگی میں وہ تبدیلی نہیں آئے گی جس کا خواب اس نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک دیکھا ہے۔ شاید اسی لیے آنے والے مہینے اور سال صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری ریاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ یہ فیصلہ کسی ایک شخصیت کا نہیں ہوگا بلکہ یہ طے کرے گا کہ پاکستان اپنی اگلی نصف صدی کس سمت میں لے جانا چاہتا ہے۔ کیا ہم ماضی کی کشمکش کو مستقبل پر مسلط رکھیں گے یا مستقبل کی ضرورتوں کو ماضی کی سیاست پر ترجیح دیں گے؟ کیا ہم اقتدار کی گردش کو تبدیلی سمجھتے رہیں گے یا ریاست کی اصلاح کو اصل انقلاب مانیں گے؟ کیا ہم ہر بحران کا حل حکومت کی تبدیلی میں تلاش کریں گے یا اداروں کی مضبوطی میں؟ تاریخ شاید انہی سوالوں کے جواب میں پاکستان کی آئندہ منزل کا تعین کرے گی، کیونکہ ریاستیں نعروں سے نہیں، فیصلوں سے بنتی ہیں، فیصلے خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ اور شاید پاکستان کی تاریخ اب اسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں سب سے بڑا فیصلہ یہ نہیں کہ اقتدار کس کے پاس ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ ریاست آخر کس سمت جائے گی۔



