پیرس: فرانس میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پراسیسڈ اور پیک شدہ غذاؤں میں استعمال ہونے والے فوڈ پریزرویٹوز (Food Preservatives) صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اور ان کے زیادہ استعمال سے ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو فوڈ پریزرویٹوز پر مشتمل غذائیں زیادہ مقدار میں استعمال کرتے ہیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 29 فیصد جبکہ ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت قلبی بیماریوں کا خطرہ 16 فیصد زیادہ پایا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ خوراک کو خراب ہونے یا رنگ تبدیل ہونے سے بچانے کے لیے استعمال کیے جانے والے بعض اینٹی آکسیڈنٹ پریزرویٹوز، جیسے سٹرک ایسڈ (Citric Acid) اور ایسکاربک ایسڈ (Ascorbic Acid یا وٹامن سی)، بھی زیادہ مقدار میں استعمال کرنے والوں میں ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں 22 فیصد اضافہ سے منسلک تھے۔
یہ تحقیق فرانس کے نیوٹری نیٹ سانتے (NutriNet-Santé) اسٹڈی کے تحت کی گئی، جو غذائی عادات اور انسانی صحت پر ان کے اثرات کا جائزہ لینے والے بڑے تحقیقی منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر میتھلڈ توویے (Mathilde Touvier) نے واضح کیا کہ تحقیق میں قدرتی طور پر پھلوں اور سبزیوں میں موجود وٹامن سی یا سٹرک ایسڈ کا نہیں بلکہ پراسیسڈ غذاؤں میں بطور پریزرویٹو شامل کیے جانے والے اجزا کا جائزہ لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“قدرتی طور پر موجود ایسکاربک ایسڈ اور خوراک میں بطور اضافی شامل کیا جانے والا ایسکاربک ایسڈ، جو کیمیائی طریقے سے بھی تیار کیا جا سکتا ہے، صحت پر مختلف اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔”
ڈاکٹر توویے نے مزید وضاحت کی کہ:
“اس تحقیق کے نتائج کا اطلاق پھلوں اور سبزیوں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے غذائی اجزا پر نہیں ہوتا۔”
ماہرین کے مطابق فوڈ پریزرویٹوز خوراک کو بیکٹیریا، پھپھوندی اور دیگر جراثیم سے محفوظ رکھنے اور اس کی شیلف لائف بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ اجزا عام طور پر پیک شدہ اسنیکس، تیار شدہ کھانوں، پراسیسڈ گوشت، سافٹ ڈرنکس، ساسز، ڈبہ بند اشیا اور منجمد غذاؤں میں شامل ہوتے ہیں۔
اگرچہ محققین نے واضح کیا کہ اس تحقیق سے براہِ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فوڈ پریزرویٹوز ہی دل کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں، تاہم نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کے زیادہ استعمال اور قلبی امراض کے درمیان ایک اہم تعلق موجود ہو سکتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ غذائی اشیا کے لیبل ضرور پڑھیں، پراسیسڈ اور الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا استعمال محدود کریں، اور تازہ پھل، سبزیاں اور قدرتی غذائیں اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں۔
قلبی امراض آج بھی دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہیں، اس لیے صحت مند غذا اور متوازن طرزِ زندگی اپنانا دل کو صحت مند رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ فوڈ پریزرویٹوز کے طویل مدتی اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔



