اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان کی توانائی ضروریات کو مضبوط بنانے، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور مقامی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئی آئل ریفائننگ پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔
حکومت کے مطابق اس پالیسی کے تحت ملک کے ریفائننگ شعبے میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ یہ پالیسی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) سمیت متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت ملک کی پرانی آئل ریفائنریوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا تاکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو، جبکہ فرنس آئل کی پیداوار کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف مقامی ایندھن کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیار کے مطابق بہتر معیار کا ایندھن بھی دستیاب ہوگا۔
پالیسی کے تحت یورو 5 معیار کے ماحول دوست ایندھن کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے ریفائنریوں کو سات سالہ مراعاتی پیکیج فراہم کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ان مراعات کا مقصد ریفائنریوں کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ایندھن تیار کرنے کی ترغیب دینا ہے، جس سے فضائی آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔
پالیسی کے مطابق تمام ریفائنری آپریٹرز کو منظوری کے 90 روز کے اندر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ساتھ عملدرآمد کے معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گے۔
ان معاہدوں میں سرمایہ کاری، منصوبوں کی تکمیل کے شیڈول اور پالیسی پر عملدرآمد سے متعلق شرائط شامل ہوں گی۔
حکومت نے نئی پالیسی میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات بھی شامل کیے ہیں۔
پالیسی کے تحت سرمایہ کاری کرنے والی ریفائنریوں کو مستقبل میں ٹیکس قوانین، ماحولیاتی ضوابط اور زرمبادلہ سے متعلق پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیوں کے اثرات سے تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کار طویل المدتی منصوبوں میں اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئی آئل ریفائننگ پالیسی پاکستان کی توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ اس سے ملکی ریفائننگ صلاحیت میں اضافہ، درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی، اعلیٰ معیار کے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور توانائی کے شعبے میں پائیدار سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، جس سے ملک کی مجموعی توانائی سیکیورٹی مزید مضبوط ہوگی۔


