میاں افتخار احمد ازل کی خاموشی سے ابد کے شور تک کائنات کی پوری داستان دراصل انسان اور اختیار کی کہانی ہے، ایک ایسی کہانی جو اس لمحے سے شروع ہوتی ہے جب وقت کی سوئیاں ابھی پیدا نہیں ہوئی تھیں، جب مکان کی وسعتیں سمٹی ہوئی تھیں، جب مادہ توانائی کے سمندر میں تحلیل تھا اور جب انسانی عقل جسے عدم کہتی ہے وہ دراصل رازِ کن فیکون کی دہلیز تھی، اس لمحے صرف ایک ذات موجود تھی، الحی القیوم، وہ واجب الوجود ہستی جو کسی تعریف، کسی گواہی…
Read Moreقیامت
برزخ :شعور کی آزادی، وقت کی موت، اور ابدیت کی پہلی جھلک ہے
میاں افتخار احمد دنیا، برزخ، قیامت، جنت اور دوزخ دراصل صرف مقامات نہیں بلکہ شعور کے مختلف مدارج ہیں اور ان سب کو سمجھنے کی کنجی وقت یعنی ٹائم کے تصور میں پوشیدہ ہے، انسان دنیا میں پیدا ہوتے ہی ایک ایسے نظام میں داخل ہوتا ہے جہاں وقت خطی ہے، گھڑی کی سوئیاں چلتی ہیں، دن رات بدلتے ہیں، عمر بڑھتی ہے، جسم کمزور ہوتا ہے، یادداشت ماضی میں جاتی ہے اور خواہش مستقبل میں، یہی وہ قید ہے جسے قرآن دنیا کہتا ہے اور اسی لیے دنیا کو…
Read Moreسورۃ القارعہ، کائناتی تصادم، طبیعی قوانین کی تحلیل، اور اخلاقی میزان کا حتمی ظہور، اختتام کائنات کا قرآنی تصور۔
میاں افتخار احمد انسان ہمیشہ سے کائنات کے انجام کے بارے میں سوال اٹھاتا رہا ہے۔ قدیم تہذیبوں نے اپنے اپنے انداز میں فنا اور بقا کے تصورات پیش کیے۔ یونانی فلسفہ کائنات کو ازلی سمجھتا تھا۔ ہندومت میں کائنات کی تخلیق اور فنا کا چکر بیان کیا گیا۔ جدید سائنس نے بگ بینگ کا نظریہ پیش کیا اور بتایا کہ کائنات کا ایک آغاز ہے۔ جب آغاز ہے تو انجام بھی ہوگا۔ یہ منطقی نتیجہ ہے۔ لیکن انجام کی نوعیت کیا ہوگی۔ یہی وہ سوال ہے جس پر فلسفہ۔…
Read More