اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کی کارکردگی کا جامع جائزہ لینے کا حکم دیتے ہوئے حکومت کے اندر احتسابی عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس جائزے کی بنیاد پر وفاقی کابینہ میں ردوبدل اور مختلف وزارتوں میں اہم انتظامی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس نے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کو باضابطہ ہدایات جاری کرتے ہوئے فروری 2024 سے اب تک کی کارکردگی پر مبنی تفصیلی رپورٹس مقررہ فارمیٹ میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
وزارتوں کو کارکردگی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت
وزارتوں کو اپنی بنیادی ذمہ داریوں کے مطابق حاصل ہونے والی کامیابیوں، پالیسی اہداف، گورننس اصلاحات اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔
رپورٹس میں ہر منصوبے کے نتائج، تکمیل کی تاریخ، حاصل ہونے والے اہداف اور عوامی فلاح پر پڑنے والے اثرات کو واضح کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
41 وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ
وزیراعظم آفس کی ہدایات کے مطابق مجموعی طور پر 41 وفاقی وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، جن میں:
- 18 وزارتیں معاشی، مالیاتی اور اقتصادی امور سے متعلق ہیں۔
- 14 وزارتیں قانون، داخلہ، سیکیورٹی اور انتظامی معاملات کی ذمہ دار ہیں۔
- 9 وزارتیں صحت، تعلیم اور سماجی شعبوں سے وابستہ ہیں۔
ہر وزارت کو مکمل ہونے والے منصوبوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ زیر التوا منصوبوں کی موجودہ صورتحال، تاخیر کی وجوہات، درپیش مشکلات اور ان کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات بھی رپورٹ میں شامل کرنے ہوں گے۔
گورننس اور انتظامی اصلاحات پر خصوصی توجہ
وزارتوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ انتظامی اصلاحات، اخراجات میں کمی، ادارہ جاتی استعداد بڑھانے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔
وزیراعظم آفس نے واضح کیا ہے کہ ہر دعوے کے ساتھ دستاویزی ثبوت یا قابل تصدیق شواہد فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ نامکمل یا بغیر ثبوت کے جمع کرائی جانے والی رپورٹس قابل قبول نہیں ہوں گی۔
اس جائزے کے دوران ترقیاتی فنڈز کے استعمال، سرکاری منصوبوں کی پیش رفت اور ان کے عملی نتائج کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔
سی پیک اور ترقیاتی پروگرام بھی جائزے میں شامل
کارکردگی کے اس وسیع جائزے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی، پلاننگ کمیشن، سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی)، اقتصادی پالیسیوں کے نتائج، مردم شماری اور شماریاتی نظام میں بہتری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں اور وزیراعظم آفس کے خصوصی پروگراموں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ان اداروں کی کارکردگی کا تفصیلی تجزیہ اس بات کا تعین کرے گا کہ قومی ترقیاتی منصوبے اپنے مقررہ اہداف کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں یا نہیں۔
کابینہ میں تبدیلیوں کا امکان
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کارکردگی رپورٹوں کی روشنی میں وزیراعظم شہباز شریف وفاقی کابینہ، وزارتوں اور دیگر اہم سرکاری اداروں میں تبدیلیوں کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جن وزارتوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہوگا انہیں مزید تقویت دی جائے گی، جبکہ کمزور کارکردگی دکھانے والی وزارتوں اور محکموں میں اصلاحات، نئی ذمہ داریوں کی تقسیم یا قیادت میں تبدیلی جیسے اقدامات زیر غور آ سکتے ہیں۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس احتسابی عمل کا بنیادی مقصد حکومتی کارکردگی میں بہتری، عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی، شفافیت، ادارہ جاتی اصلاحات اور گورننس کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے تاکہ عوام کو بہتر نتائج فراہم کیے جا سکیں۔



