سیکرٹری تعلیم بلوچستان لعل جان جعفر نے کہا ہے کہ قانون میں چھٹیوں کی فیس پر پابندی نہیں، والدین کو اقساط کی سہولت دینے پر زور دیا
کوئٹہ (سید سردار محمد خوندئی): سیکرٹری تعلیم بلوچستان لعل جان جعفر نے کہا ہے کہ بلوچستان پرائیویٹ اسکولز رجسٹریشن اینڈ پروموشن ایکٹ 2022 میں چھٹیوں کی فیس وصول کرنے پر کوئی پابندی نہیں، لہٰذا نجی تعلیمی ادارے قانون کے مطابق چھٹیوں کی فیس وصول کر سکتے ہیں، تاہم والدین کو اقساط کی سہولت فراہم کرنے میں تعاون کیا جائے۔
یہ بات انہوں نے 15 اکتوبر کو بلوچستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز الائنس کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل، فیسوں کی وصولی اور حالیہ انتظامی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد نے سیکرٹری تعلیم کو آگاہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ کی جانب سے کھلی کچہری کے دوران نجی اسکولوں کو ڈبل فیس وصول کرنے سے روکنے کے اعلان کے بعد تعلیمی اداروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ وفد نے اپنے تحفظات، انتظامی مشکلات اور مالی مسائل سے بھی آگاہ کیا۔
سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر نے وفد کا مؤقف سنا اور یقین دہانی کرائی کہ معاملے کے حل کے لیے باقاعدہ ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر ایسٹ کوئٹہ سے ملاقات میں بھی اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ تعلیم نجی تعلیمی اداروں کے جائز تحفظات کا احترام کرتا ہے اور تمام معاملات قانون کے مطابق حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے والدین کے ساتھ مالی معاملات میں مناسب تعاون اور اقساط کی سہولت فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔
سیکرٹری تعلیم نے بلوچستان میں معیاری تعلیم کے فروغ، بالخصوص دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور شرح خواندگی میں اضافے کے لیے نجی شعبے کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
ملاقات میں وفد کے صدر ملک رشید احمد خان کاکڑ، جنرل سیکرٹری محمد نواز پندرانی، ترجمان حاجی سلیم ناصر، وائس چیئرمین حافظ نعمت اللہ خان کاکڑ، خزانچی جمیل احمد مشوانی، جوائنٹ سیکرٹری عبدالظاہر خان کاکڑ اور ایجوکیشن سیکرٹری لیاقت علی ہزارہ شریک تھے۔
وفد نے سیکرٹری تعلیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ محکمہ تعلیم نجی تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل اور ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
دریں اثناء نجی اسکولوں کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ چھٹیوں کے دوران بھی اداروں کو ملازمین کی تنخواہوں، عمارتوں کے کرایوں اور دیگر انتظامی اخراجات کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ان اخراجات کے باعث فیسوں کی وصولی اداروں کے مالی معاملات چلانے کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے بعض حلقوں کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ نجی شعبے کی تعلیمی خدمات کو بھی مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔
