از: اصغر علی تبسم
سید بابر علی نے حال ہی میں اپنی زندگی کی دوسری صدی میں قدم رکھا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی سنگِ میل ہے، اور اس سے بھی زیادہ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس عمر میں بھی ان کی سوچ کی شفافیت اور علم و فکر کے بارے میں ان کا تجسس برقرار ہے۔ پیکیجز لمیٹڈ اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے لیے ان کی خدمات کے بارے میں بجا طور پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ان اداروں نے پاکستان کی صنعت اور تعلیم کے شعبوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور ان کی تعمیر و ترقی میں سید بابر علی کا کردار ناقابلِ تردید ہے۔ تاہم، ان کی قومی خدمت کا ایک اہم باب اب بھی بڑی حد تک تحریری تاریخ سے اوجھل ہے، اور وہ ہے نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن (این ایف سی) کی قیادت۔ ہم میں سے وہ لوگ جنہوں نے اس دور میں اس ادارے میں خدمات انجام دیں، ان کے لیے یہ محض ایک نظرانداز شدہ پہلو نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی زندگی کے ریکارڈ میں ایک نمایاں خلا ہے، جس کی زندگی خود پاکستان کی ادارہ جاتی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔
میں نے اس دور کو اندر سے دیکھا ہے۔ میں نے کئی برس این ایف سی میں خدمات انجام دیں اور سینئر منیجر مارکیٹنگ کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔ اس لیے میری یادداشتیں صرف تاریخی ریکارڈ تک محدود نہیں بلکہ اس ادارے کے اندرونی تجربے پر بھی مبنی ہیں، خاص طور پر ان برسوں کے دوران جب سید بابر علی این ایف سی کے چیئرمین تھے۔این ایف سی کی چیئرمین شپ قبول کرنے کا ان کا فیصلہ بذاتِ خود بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی قومیانے کی پالیسیوں سے صرف چند برس قبل ان کے خاندان کے صنعتی مفادات بھی متاثر ہوئے تھے۔ لیکن انہوں نے اس تجربے کو ایک بڑے سرکاری ادارے کی ذمہ داری قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو این ایف سی کے لیے استعمال کیا اور اپنی مہارت کو ملک کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔جب انہوں نے این ایف سی کی ذمہ داری سنبھالی تو یہ ادارہ ابھی ابتدائی مراحل میں تھا۔ اس کی ابتدائی پیداواری بنیاد چار کھاد فیکٹریوں پر مشتمل تھی، جو ملتان، داؤدخیل، لائل پور اور جڑانوالہ میں قائم تھیں۔ یہ کارخانے ملک کی مجموعی طلب کا صرف ایک محدود حصہ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ بعد ازاں حکومت نے ملک میں کھاد کی پیداوار بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ سید بابر علی نے بعد کے برسوں میں یاد کرتے ہوئے بتایا کہ نئی پیداواری سہولیات کے قیام کے لیے تقریباً 50 کروڑ امریکی ڈالر فراہم کیے گئے اور ان منصوبوں کے لیے خریداری کا عمل مسابقتی بولیوں اور باقاعدہ جانچ پڑتال کے ذریعے مکمل کیا گیا۔ان کی نگرانی اور قیادت میں این ایف سی نے تیزی سے توسیع کی۔ کھاد کی نئی پیداواری صلاحیت قائم کی گئی، موجودہ کارخانوں کو جدید بنایا گیا اور کئی بڑے منصوبے شروع کیے گئے۔ وقت کے ساتھ این ایف سی کے نظام میں پاک سعودی فرٹیلائزرز، پاک عرب فرٹیلائزرز، پاک امریکن فرٹیلائزرز، پاک چائنا فرٹیلائزرز اور نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ لمیٹڈ (این ایف ایم ایل) جیسے ادارے شامل ہو گئے۔

یہ محض پیداواری اعداد و شمار کا معاملہ نہیں تھا۔ ایک ایسی زرعی معیشت کے لیے جو درآمدی کھاد پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتی تھی، یہ قومی پیداواری صلاحیت پیدا کرنے کا معاملہ تھا۔ایک اتنا ہی اہم چیلنج یہ تھا کہ تیار ہونے والی کھاد واقعی کسانوں تک پہنچے۔ 1976ء میں نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ لمیٹڈ کو این ایف سی کے ذیلی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا۔ اس کا مقصد ملک بھر میں کھاد کی ترسیل اور تقسیم کے لیے ایک منظم نظام قائم کرنا تھا۔ ملک گیر ڈیلر نیٹ ورک تشکیل دیا گیا، جس کے ذریعے ہر صوبے میں کسانوں کے لیے کھاد کی دستیابی کو ان کے قریب لانے کی کوشش کی گئی۔این ایف سی کے مارکیٹنگ شعبے میں کام کرنے کی وجہ سے مجھے اس پہلو کی خاص طور پر یاد ہے۔ آج جو چیز محض تقسیم کے اعداد و شمار یا ایک معمول کی انتظامی سرگرمی محسوس ہوتی ہے، اس زمانے میں وہ صنعتی ترقی کو پاکستان کی زرعی معیشت کی حقیقی ضروریات سے جوڑنے کی ایک بڑی کوشش تھی۔
سید بابر علی کی بعد کی خدمات، خصوصاً لمز کے قیام اور ترقی، فطری طور پر کہیں زیادہ معروف ہوئیں۔ لمز پاکستان کی نمایاں جامعات میں شمار ہونے لگا۔ پیکیجز بھی آج ان کے صنعتی وژن کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ ہے۔ تاہم ان نمایاں کامیابیوں کو یاد کرتے ہوئے این ایف سی میں ان کی خدمات کا باب بڑی حد تک پس منظر میں چلا گیا۔اس دور کی ایک خاص اہمیت ہے۔ پیکیجز میں وہ ایک نجی کاروباری ادارہ تعمیر کر رہے تھے۔ لمز میں انہوں نے ایک تعلیمی وژن کو ایک پائیدار ادارے کی شکل دینے میں کردار ادا کیا۔ لیکن این ایف سی میں انہیں ریاست کے ایک قومی ادارے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یہاں ان کا کام اپنی انتظامی صلاحیتوں کو ریاست اور ملک کی خدمت کے لیے استعمال کرنا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ این ایف سی کے پیداواری کارخانوں کی نجکاری کر دی گئی۔ وہ کارپوریشن جو ملک میں کھاد کی پیداواری صلاحیت پیدا کرنے کے مقصد سے قائم کی گئی تھی، رفتہ رفتہ ان صنعتی اثاثوں سے محروم ہوتی گئی جن کی بنیاد پر اس کا وجود قائم ہوا تھا۔ سید بابر علی نے خود بعد میں اس صورتِ حال پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ بورڈ اور چیئرمین تو باقی رہ گئے، لیکن فیکٹریاں ختم ہو گئیں۔اس کے باوجود ادارے کی میراث مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ لمیٹڈ آج بھی وزارتِ صنعت و پیداوار کے تحت ایک سرکاری ادارے کے طور پر موجود ہے۔ تاہم اس کا موجودہ کردار مختلف ہے۔ این ایف سی کے پیداواری کارخانوں کی نجکاری کے بعد ضرورت کے وقت درآمد شدہ یوریا کی ملک گیر تقسیم کی ذمہ داری اسے سونپی گئی، تاکہ ملک میں کھاد کی دستیابی برقرار رکھنے اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد مل سکے۔
وقت آگے بڑھ چکا ہے۔ لائل پور فیصل آباد بن گیا۔ کھاد کی صنعت میں نمایاں تبدیلیاں آ گئیں۔ این ایف سی کے کارخانے دوسرے ہاتھوں میں چلے گئے۔ افسران اور کارکنوں کی کئی نسلیں ریٹائر ہو گئیں۔ لیکن اس دور سے اٹھنے والا سوال آج بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے: کیا پاکستان آج بھی مضبوط ادارے قائم کر سکتا ہے، اور کیا ایک مرتبہ قائم ہونے والے اداروں کو پائیدار بھی بنا سکتا ہے؟
سید بابر علی کی زندگی اس بات کی مثال پیش کرتی ہے کہ ایسا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے پیشہ ورانہ اہلیت کو اقرباپروری پر، قومی ذمہ داری کو ذاتی رنجش پر، اور ادارہ سازی کو قلیل مدتی مفاد پر ترجیح دینا ضروری ہے۔ہم بجا طور پر انہیں لمز، پیکیجز اور تعلیم و صنعت کے میدان میں ان کی بے شمار خدمات کے حوالے سے یاد کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں این ایف سی کی اس غیر معمولی داستان کو ایک فراموش شدہ باب بننے نہیں دینا چاہیے۔ کچھ لوگ کامیاب کاروبار قائم کرتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایسے ادارے تعمیر کرتے ہیں جو ان کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ سید بابر علی اسی دوسرے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔جب پاکستان ان کی غیر معمولی زندگی کی ایک صدی مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے تو ان کی قومی خدمات کا ریکارڈ نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن میں ان کے کردار کو تسلیم کیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ پاکستان کے لیے ان کی خدمت اور ادارہ سازی کی میراث کا ایک اہم، اگرچہ بہت زیادہ نظرانداز کیا جانے والا، باب ہے۔
