مائیک ہیسن پاکستان کے عبوری ٹیسٹ کوچ مقرر، اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں

مائیک ہیسن پاکستان ٹیسٹ کوچ انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل

ایجبسٹن: پاکستان کے عبوری ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی “افراتفری” جیسے حالات سے نمٹنے کے عادی ہیں، کیونکہ انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستان نے اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کردی ہیں۔

پاکستان پہلے دو ٹیسٹ میچز میں شکست کھا چکا ہے، جس کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے 7 کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر کرکے اتنے ہی نئے کھلاڑیوں کو طلب کیا۔ اس دوران سابق ہیڈ کوچ سرفراز احمد کی جگہ نیوزی لینڈ کے مائیک ہیسن کو عارضی طور پر ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر کو ایجبسٹن میں شروع ہوگا، جہاں پاکستان سیریز میں وائٹ واش سے بچنے کی کوشش کرے گا۔

مائیک ہیسن نے اعتراف کیا کہ گزشتہ چند روز پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ کے لیے خاصے مشکل رہے، کیونکہ متعدد کھلاڑی ٹیم میں شامل اور باہر ہوتے رہے۔

ہیسن دراصل پاکستان کی وائٹ بال ٹیم کے ساتھ ذمہ داریاں نبھا رہے تھے اور ایشین گیمز کی تیاری کے لیے جاپان میں موجود تھے۔ ان کا برطانیہ آنے کا منصوبہ صرف شاہ چارلس سے ملاقات کے لیے تھا، جہاں پاکستانی ٹیم نے بدھ کو بکنگھم پیلس میں ایک تقریب میں شرکت کی۔

تاہم صورتحال اچانک تبدیل ہوگئی اور انہیں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی عارضی کوچنگ ذمہ داری دے دی گئی۔

مائیک ہیسن نے کہا کہ انہیں ابتدا میں شاہ چارلس سے ملاقات کے لیے برطانیہ آنا تھا، لیکن حالات نے ان کے منصوبے کو بدل دیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دن ہوٹل میں کچھ کھلاڑیوں کے آنے اور کچھ کے جانے اور پھر نئے کھلاڑیوں کی آمد کے باعث خاصے مشکل رہے۔

ہیسن کے مطابق پاکستانی کھلاڑی اس طرح کی “افراتفری” کے زیادہ عادی ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ ٹیم نے مایوسی کو ایک طرف رکھ کر اگلے میچ پر توجہ مرکوز کرنا شروع کردی ہے۔

مائیک ہیسن نے پاکستان اسکواڈ میں تبدیلیوں کی وجہ بتا دی

پاکستان کی جانب سے کیے گئے سب سے نمایاں فیصلوں میں تجربہ کار کھلاڑیوں امام الحق، سلمان علی آغا اور محمد رضوان کو اسکواڈ سے باہر کرنا شامل ہے۔

یہ تینوں سینئر کھلاڑی مائیک ہیسن کے باضابطہ طور پر ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے ہی اسکواڈ سے خارج کیے جاچکے تھے۔

اس کے بعد ہیسن نے پاکستان کے بولنگ اٹیک کا جائزہ لیا اور ایجبسٹن کی ممکنہ کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید تبدیلیاں کیں۔

اسپنر علی عثمان اور فاسٹ بولر خرم شہزاد، جو پہلے دونوں ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے تھے، کو بھی دورہ ختم کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

اس کے علاوہ عامر جمال اور محمد عویس جعفر کو بھی اسکواڈ سے ریلیز کردیا گیا، حالانکہ دونوں کھلاڑی انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچز میں پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں بن سکے تھے۔

مائیک ہیسن کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد ایجبسٹن کی صورتحال کے مطابق ایسا کمبی نیشن تیار کرنا ہے جو انگلینڈ کو تیسرے ٹیسٹ میں سخت مقابلہ دے سکے۔

مائیک ہیسن کی توجہ انگلینڈ کے خلاف کم بیک پر مرکوز

مائیک ہیسن نے کہا کہ پہلے دو ٹیسٹ میچز میں شکست کے بعد پاکستانی کھلاڑی شدید مایوس تھے، لیکن اب ٹیم نے ماضی کو ایک طرف رکھ کر تیسرے ٹیسٹ کی تیاری شروع کردی ہے۔

عبوری کوچ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کھلاڑی شکست کے بارے میں سوچتے رہنے کے بجائے اس بات پر توجہ دیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران کھلاڑیوں کا رویہ مثبت رہا ہے اور انہوں نے مشکل حالات کے باوجود تیاری میں اچھی پیش رفت کی ہے۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر کو صبح 11 بجے برطانوی وقت کے مطابق ایجبسٹن میں شروع ہوگا۔

انگلینڈ پہلے ہی سیریز اپنے نام کرچکا ہے، جبکہ پاکستان آخری ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرکے سیریز کا اختتام بہتر انداز میں کرنے کی کوشش کرے گا۔

مائیک ہیسن کے لیے فوری چیلنج نئی ٹیم کو کم وقت میں منظم کرنا اور ایجبسٹن کی کنڈیشنز کے لیے بہترین پلیئنگ الیون تیار کرنا ہوگا۔

Related posts

Leave a Comment