اسرائیل کے انتخابات، ایران سے کشیدگی اور اوورسیز ووٹرز کا کردار اہمیت اختیار کر گیا
نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل پر سلامتی کی صورت حال کے اثرات، بیرونِ ملک مقیم اسرائیلیوں کی ممکنہ واپسی اور اپوزیشن کے لیے نئے امکانات
لاہور(میاں افتخار احمد):تل ابیب، واشنگٹن: اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل، ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بیرونِ ملک مقیم اسرائیلی شہریوں کے انتخابی کردار پر بحث اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیلی سیاست میں دائیں بازو کے حکومتی اتحاد اور مختلف اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مقابلے کے ساتھ خطے کی سلامتی، عدالتی اصلاحات، حکومتی کارکردگی اور عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ جیسے معاملات بھی انتخابی منظرنامے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیوں میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا نیتن یاہو سلامتی کے معاملات کو اپنی سیاسی حمایت برقرار رکھنے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں گے یا اپوزیشن ان پالیسیوں اور حکومتی فیصلوں کو بنیاد بنا کر اقتدار میں تبدیلی کی راہ ہموار کر لے گی۔
نیتن یاہو کے لیے اقتدار برقرار رکھنے کا بہت بڑاچیلنج ہے ۔اسرائیلی سیاست میں نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے دائیں بازو و مذہبی اتحادیوں کو مختلف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سیاسی چیلنج درپیش ہے۔ نفتالی بینیٹ، یائیر لیپڈ اور بینی گینٹز جیسے رہنماؤں سے وابستہ سیاسی دھڑے حکومتی پالیسیوں کے متبادل کے طور پر سامنے آتے رہے ہیں، تاہم اپوزیشن کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ جماعتیں انتخابی حکمتِ عملی، قیادت اور حکومت سازی کے امکانات پر کس حد تک اتفاق کر پاتی ہیں۔ نیتن یاہو کے لیے اپنی سیاسی حمایت برقرار رکھنے کا ایک اہم ذریعہ قومی سلامتی، دفاعی صلاحیت اور ایران کے خطرے سے نمٹنے کے حوالے سے ان کا تجربہ اور سخت گیر مؤقف ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت کے ناقدین سلامتی کی پالیسیوں، داخلی سیاسی تقسیم اور حکومتی فیصلوں کے نتائج کو بنیاد بنا کر تبدیلی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بھی اسرائیلی سیاست کے بین الاقوامی پہلو میں اہمیت رکھتے ہیں، تاہم امریکی حمایت بذاتِ خود اسرائیلی انتخابات میں کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

ایران کے ساتھ کشیدگی انتخابی سیاست کا اہم محوربن گیا ہے ۔ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع اسرائیلی انتخابی سیاست میں ایک اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت، علاقائی اتحادیوں اور اسرائیل کی دفاعی حکمتِ عملی سے متعلق خدشات کے باعث سلامتی کا موضوع انتخابی مباحثے میں نمایاں رہنے کا امکان ہے۔ نیتن یاہو اور ان کے حامی یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ ایران کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط قیادت، مؤثر دفاعی نظام اور سخت گیر پالیسی ضروری ہے۔ اس کے برعکس اپوزیشن حکومتی حکمتِ عملی کی افادیت، جنگی فیصلوں کے نتائج، سفارتی تعلقات اور قومی سلامتی کے ساتھ داخلی استحکام کو بھی زیرِ بحث لا سکتی ہے۔ ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے یا کمی کا انتخابی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ اسرائیلی عوام صورتِ حال کو کس طرح دیکھتے ہیں اور حکومت کی کارکردگی کے بارے میں ان کی رائے کیا بنتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سلامتی کے معاملات لازماً نیتن یاہو کو فائدہ پہنچائیں گے یا ان کے سیاسی مستقبل کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔
اوورسیز اسرائیلی ووٹرز اور وطن واپسی کا معاملہ بھی شدت سے زیربحث ہے ۔بیرونِ ملک مقیم اسرائیلی شہریوں کا انتخابی کردار بھی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے، کیونکہ عام اسرائیلی شہریوں کے لیے بیرونِ ملک سفارت خانوں میں ووٹ ڈالنے کی سہولت عمومی طور پر دستیاب نہیں۔ بیرونِ ملک ووٹنگ کی محدود قانونی سہولتیں مخصوص سرکاری زمروں تک محدود ہیں، جبکہ عام شہریوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے عموماً اسرائیل میں موجود ہونا پڑتا ہے۔ اس صورتِ حال میں بیرونِ ملک مقیم شہریوں کی وطن واپسی، سفر کے اخراجات اور پروازوں کی دستیابی ان کے انتخابی عمل میں حصہ لینے کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ انتخابات کے قریب بعض سیاسی یا سماجی حلقے شہریوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے اسرائیل واپس آنے کی ترغیب دے سکتے ہیں، تاہم ایسی مہمات، ٹکٹوں میں رعایت یا خصوصی پروازوں کے انتظامات کو کسی مخصوص انتخاب کے لیے تصدیق شدہ اقدام قرار دینے سے پہلے ان کی تفصیلات کی جانچ ضروری ہوگی۔ اسی طرح ایران کے ساتھ تنازع یا فضائی حدود میں پابندیوں کے باعث پروازوں میں ممکنہ تعطل بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے سفر کو مشکل بنا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیرونِ ملک مقیم اسرائیلی نیتن یاہو کے مخالف ہیں؟
بیرونِ ملک مقیم اسرائیلیوں کے سیاسی رجحانات کے بارے میں یہ دعویٰ کہ ان کی اکثریت نیتن یاہو کی مخالف ہے، احتیاط کا متقاضی ہے۔ شمالی امریکہ اور یورپ میں رہنے والے اسرائیلی شہریوں کے سیاسی نظریات یکساں نہیں اور ان کے رجحانات کا تعلق عمر، مذہبی وابستگی، سماجی پس منظر، اسرائیل سے تعلق اور ذاتی سیاسی ترجیحات سے ہو سکتا ہے۔ اسرائیل میں عدالتی اصلاحات کے خلاف ہونے والے احتجاج اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید نے بیرونِ ملک مقیم بعض اسرائیلی شہریوں کو بھی متحرک کیا تھا۔ ان حلقوں میں جمہوری اداروں، عدلیہ کی آزادی اور دائیں بازو کی جماعتوں کے اثر و رسوخ کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ تاہم ان مظاہروں کی بنیاد پر تمام اوورسیز اسرائیلیوں کو نیتن یاہو مخالف قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ مذہبی اور قدامت پسند شہریوں سمیت بیرونِ ملک مقیم اسرائیلیوں کا ایک حصہ دائیں بازو کی سیاست اور سخت گیر سلامتی کی پالیسیوں کی حمایت بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے ان کے سیاسی رجحانات کا درست اندازہ لگانے کے لیے قابلِ اعتماد سروے اور انتخابی اعداد و شمار ضروری ہیں۔یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اوورسیز ووٹرز انتخابی نتائج پر کتنا اثر ڈال سکتے ہیں؟
بیرونِ ملک مقیم اسرائیلی شہریوں کی وطن واپسی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے، لیکن اس کا حقیقی حجم کئی عوامل سے مشروط ہوگا۔ ان میں واپس آنے والے ووٹرز کی تعداد، ان کے سیاسی رجحانات، انتخابات میں مجموعی ٹرن آؤٹ اور مختلف جماعتوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم شامل ہیں۔ اسرائیل کے کنیسٹ میں 120 نشستیں ہیں اور حکومت سازی کے لیے عموماً کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے اگر کسی انتخاب میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان فرق محدود ہو تو اضافی ووٹ چند نشستوں کے نتائج اور حکومت سازی کے امکانات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم بیرونِ ملک سے آنے والے ووٹرز کی تعداد اور ان کی جماعتی ترجیحات کے بارے میں مستند اعداد و شمار کے بغیر یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی واپسی لازماً اپوزیشن کے حق میں فیصلہ کن ثابت ہوگی۔ اس تمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے اسرائیلی سیاست کا ممکنہ منظرنامہ پر نظر ڈالیں تو اسرائیل کے آئندہ انتخابی منظرنامے میں تین عوامل اہم رہیں گے: ایران اور خطے کی سلامتی کی صورتِ حال، نیتن یاہو حکومت کی داخلی و خارجی پالیسیوں کے بارے میں عوامی رائے، اور اپوزیشن جماعتوں کی اتحاد قائم کرنے کی صلاحیت۔ بیرونِ ملک مقیم اسرائیلی شہریوں کی انتخابی شرکت بھی اہم ہو سکتی ہے، خصوصاً اس صورت میں جب انتخابی مقابلہ انتہائی سخت ہو اور چند نشستیں حکومت سازی کا توازن تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ تاہم اوورسیز اسرائیلیوں کی سیاسی ترجیحات کو یکساں سمجھنا یا ان کی ممکنہ وطن واپسی کو نیتن یاہو کی شکست کا یقینی سبب قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ حتمی سیاسی نتیجہ اسرائیلی ووٹرز کے فیصلے، انتخابی مہم کے موضوعات، جماعتی اتحادوں اور اس وقت کی سلامتی و معاشی صورتِ حال پر منحصر ہوگا۔
