چراغِ علم اور حرمتِ نسواں

 تحریر:محمد محسن اقبال

ہر والدین کے دل میں یہ آرزو ضرور پنہاں ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو وہ تعلیم اور مواقع فراہم کریں جو شاید انہیں اپنے زمانے کے حالات اور محدود وسائل کے باعث میسر نہ آ سکے۔ ان کا یقین ہوتا ہے کہ علم ہی وہ چراغ ہے جو تنگ دستی کے اندھیروں کو چیر سکتا ہے، خاندان کو محدود وسائل کی گرفت سے نکال سکتا ہے اور ان دروازوں کو کھول سکتا ہے جو مدتوں سے بند چلے آ رہے ہوں۔ اسلام نے بھی علم و تعلیم کو غیر معمولی اہمیت عطا کی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر لازم قرار دیا۔ قرآنِ حکیم پر نازل ہونے والا پہلا لفظ “اقرأ” یعنی “پڑھیے” تھا، اور اس الٰہی حکم میں جنس کی کوئی تفریق نہیں۔ اسلام کے ابتدائی دور میں خواتینِ علم نے علم کے فروغ اور اس کی ترسیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا گہری بصیرت رکھنے والی عظیم عالمہ تھیں، جن سے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی دینی معاملات میں رہنمائی حاصل کرتے تھے۔

لیکن بعد کے ادوار میں بہت سے معاشروں میں بیٹوں کی تعلیم کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی، جبکہ بیٹیوں کی تعلیم کو مقامی رسم و رواج اور فرسودہ روایات کے خلاف سمجھا گیا۔ بہت سے گھرانوں میں یہ تصور جڑ پکڑ گیا کہ لڑکی کا اصل میدان صرف گھر کی چار دیواری ہے، اس لیے اسے باقاعدہ تعلیم دلانا نہ ضروری ہے اور نہ ہی پسندیدہ۔ یوں بعض اوقات معاشرتی رسم و رواج نے دین کی اصل روح پر پردہ ڈال دیا اور وہ بیٹیاں، جو علم کی روشنی سے پورے خاندان کو منور کر سکتی تھیں، علم کے دروازے پر ہی روک دی گئیں۔

تاہم عصرِ حاضر میں بیٹیوں کی تعلیم کے حوالے سے ایک حوصلہ افزا اور مسلسل پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، جو دراصل دین کی حقیقی روح سے ہم آہنگ ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دس سال اور اس سے زائد عمر کی خواتین میں شرحِ خواندگی چون فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ گزشتہ پچیس برس کے دوران مردوں اور خواتین کی شرحِ خواندگی کے درمیان تقریباً تئیس فی صد پوائنٹس کا فرق کم ہو کر لگ بھگ پندرہ فی صد رہ گیا ہے۔ طالبات کی اسکول میں حاضری کی شرح بھی ستاون فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ تعلیمی امتحانات کے تقریباً ہر درجے میں بیٹیاں اپنے بیٹوں اور ہم جماعت لڑکوں سے آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہیں۔ طب، قانون، تدریس اور سائنس جیسے پیشہ ورانہ شعبوں میں بھی وہ پورے اعتماد کے ساتھ قدم رکھ رہی ہیں۔ یہ پیش رفت محض اعداد و شمار کی کامیابی نہیں بلکہ اس اسلامی تصور کی بتدریج بازیافت ہے جس پر صدیوں کی معاشرتی عادات اور روایات نے گرد ڈال دی تھی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیشتر نوجوان خواتین اپنے علم کو عملی زندگی میں بروئے کار لانے کی خواہش رکھتی ہیں، خواہ وہ طب کے شعبے میں ہوں، تدریس سے وابستہ ہوں یا کسی دوسرے پیشے میں اپنی صلاحیتیں آزمائیں۔ اسلام کسی عورت کو باعزت اور حلال روزگار کمانے سے منع نہیں کرتا، خصوصاً جب حالات اس کے تقاضے کریں یا معاشرے کو اس کی خدمات کی ضرورت ہو، بشرطیکہ اس کی عزت، وقار اور دینی حدود محفوظ رہیں۔ بہت سی خواتین ملازمت اس لیے اختیار کرتی ہیں کہ گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹا سکیں یا مالی مشکلات کا بوجھ ہلکا کر سکیں۔ بعض ایسی ملازمتیں یا مصروفیات اختیار کرتی ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور گھریلو فرائض میں بہتر توازن قائم رکھ سکیں۔

ملازمت پیشہ خواتین اس اعتبار سے بجا طور پر تحسین کی مستحق ہیں کہ وہ دفتر یا پیشے کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ گھر کے فرائض بھی سنبھالتی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کی افرادی قوت میں شرکت اگرچہ اب بھی تقریباً اٹھائیس فی صد کے قریب ہے، لیکن جو خواتین عملی میدان میں قدم رکھتی ہیں، وہ بسا اوقات بیک وقت دو محاذوں پر ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں۔ ایک طرف دفتر، ادارہ یا پیشہ ورانہ زندگی کے تقاضے اور دوسری طرف گھر، خاندان اور اولاد کی ذمہ داریاں۔ وہ یہ بوجھ اکثر خاموش عزم، صبر اور غیر معمولی حوصلے کے ساتھ اٹھاتی ہیں۔ ان کی محنت نہ صرف گھر کی بنیاد مضبوط کرتی ہے بلکہ معاشرے کی مجموعی ترقی میں بھی اضافہ کرتی ہے، بشرطیکہ ایمان و اخلاق کی مقرر کردہ حدود کا احترام ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔

تاہم پیشہ ورانہ زندگی میں خواتین کے لیے سب سے کٹھن مرحلہ اکثر وہ رویے ہوتے ہیں جن کا انہیں مردوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے، پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ معاشرے میں بڑی تعداد ایسے مردوں کی ہے جو اپنی خواتین ساتھیوں کے ساتھ مکمل احترام، شائستگی اور وقار کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کا یہ رویہ یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ لیکن ایسے افراد کی کمی بھی نہیں جو ملازمت کرنے والی خواتین کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یا اپنی نگاہوں اور الفاظ کو حدودِ اخلاق سے باہر نکلنے دیتے ہیں۔

قرآنِ کریم نے مومن مردوں اور مومن عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کا حکم دیا ہے، کیونکہ پاکیزگی کا راستہ دل اور نگاہ دونوں کی حفاظت سے ہو کر گزرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو ایک خاص احساس اور باطنی بصیرت عطا کی ہے؛ وہ بسا اوقات اس نگاہ کی حقیقت بھانپ لیتی ہے جس میں اخلاص کے بجائے بدنیتی چھپی ہو۔ جو خواتین محض ضرورت کے تحت روزگار اختیار کرتی ہیں، ان کے لیے یہ صورتِ حال کسی سخت آزمائش سے کم نہیں۔ دینِ اسلام میں عورت کی عزت و آبرو کو حرمت حاصل ہے اور کسی کو یہ حق نہیں کہ اسے اپنی نگاہ، زبان یا رویے سے مجروح کرے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے شہوت بھری نگاہ سے بھی خبردار فرمایا اور اسے شیطان کے زہریلے تیروں میں شمار کیا۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ ایکٹ قانون کا حصہ بن چکا ہے اور نافذ العمل ہے۔ خواتین کو ہراساں کیے جانے کی شکایات سننے کے لیے باقاعدہ محتسب کا ادارہ بھی موجود ہے۔ گزشتہ برس وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کو تقریباً تیرہ سو شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے گیارہ سو سے زائد نمٹا دی گئیں۔ تاہم معاشرتی رویوں کی اصلاح محض قانون سازی سے نہیں ہوتی۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے، عادتیں آسانی سے نہیں چھوٹتیں۔ آج بھی ایسے عمر رسیدہ مردوں کے رویے دیکھنے میں آتے ہیں جو نامناسب نگاہ ڈالنے سے باز نہیں آتے، حالانکہ انہی کے گھروں میں اسی عمر کی بیٹیاں اور بہنیں موجود ہوتی ہیں۔ یہ طرزِ عمل اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔ اسلام نہ صرف بدنگاہی سے روکتا ہے بلکہ ہر مسلمان کو یہ احساس بھی دیتا ہے کہ دوسروں کی عزت و حرمت کی حفاظت اسی طرح کی جائے جیسے وہ اپنی عزت کی حفاظت چاہتا ہے۔ ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کے لیے اخلاقی تربیت بھی ضروری ہے اور قانون کا مستقل، غیر جانب دار اور مؤثر نفاذ بھی۔

اسی کے ساتھ دفاتر اور کام کی جگہوں پر فرائض انجام دینے والی خواتین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حیا کی اس خوبصورت قدر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں جو ایمان کا زیور اور شخصیت کا وقار ہے۔ انہیں اپنے دین، تہذیب، معاشرتی اقدار اور صالح روایات کے مطابق آدابِ گفتگو، شائستگی، متانت اور باوقار طرزِ عمل کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ گفتگو میں احتیاط، رویے میں وقار اور ظاہری و باطنی کردار میں ایسی سنجیدگی ضروری ہے جو نہ نامناسب رویے کی دعوت دے اور نہ اسے برداشت کرے۔ مردوں کی ذمہ داری کے ساتھ یہ عورتوں کے لیے بھی اخلاقی تحفظ کی ایک اہم دیوار ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں اگر باہمی احترام، نگاہوں کی حفاظت، حیا اور عزتِ نفس کے ان اسلامی اصولوں کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیٹیوں کی تعلیم کی یہ روشن پیش رفت اپنی پوری برکت کے ساتھ ثمر آور ہو سکتی ہے۔ پھر ایک پوری نسل کی صلاحیتیں غیر ضروری آزمائشوں کے سائے کے بغیر اپنے خاندان اور معاشرے کی خدمت کے لیے بروئے کار آ سکیں گی۔

قوموں کی ترقی صرف بلند عمارتوں، وسیع شاہراہوں اور بڑے منصوبوں سے نہیں ہوتی؛ قومیں اس وقت عروج پاتی ہیں جب ان کے بیٹے علم سے آراستہ اور ان کی بیٹیاں علم کے ساتھ عزت و وقار کی محافظ بن کر آگے بڑھتی ہیں۔ بیٹی کو تعلیم دینا صرف ایک فرد کو پڑھانا نہیں، بلکہ ایک پورے خاندان کے مستقبل کو روشن کرنا ہے۔ اور اس تعلیم کا حسن اس وقت دوبالا ہو جاتا ہے جب علم کے ساتھ کردار، قابلیت کے ساتھ حیا، اور آزادیِ عمل کے ساتھ عزتِ نفس بھی اس کی شخصیت کا حصہ بن جائے۔

یہی وہ متوازن راستہ ہے جس پر چل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے جو زمانے کی بدلتی ہوئی ضرورتوں سے ہم آہنگ بھی ہو اور اپنے دینی و اخلاقی تشخص سے وابستہ بھی۔ حقیقی ترقی وہی ہے جس میں علم چراغ بنے، کردار اس کی روشنی ہو اور عزتِ انسانیت اس چراغ کی حفاظت کرنے والی لو۔