لندن: برطانیہ میں شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث کسانوں کو کئی دہائیوں کے مشکل ترین زرعی سیزن کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے ہفتوں کے دوران صارفین کو مارکیٹوں اور سپر مارکیٹوں میں معمول سے مختلف شکل و رنگ کی سبزیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
مسلسل ہیٹ ویوز اور معمول سے زیادہ گرم موسم بہار نے فصلوں کی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ شدید گرمی کا اثر صرف سبزیوں کی مقدار پر نہیں پڑ رہا بلکہ ان کی شکل، جسامت اور رنگ بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ بعض سبزیاں معمول سے چھوٹی، ٹیڑھی یا غیر معمولی رنگ کی ہو رہی ہیں۔
عام طور پر برطانیہ کے بڑے ریٹیلرز تازہ سبزیوں کے سائز، شکل اور رنگ کے حوالے سے سخت معیار رکھتے ہیں۔ جو پھل اور سبزیاں ان معیار پر پورا نہیں اترتیں، انہیں اکثر فروخت کے لیے قبول نہیں کیا جاتا، حالانکہ وہ کھانے کے لیے بالکل محفوظ ہوتی ہیں۔
تاہم موجودہ صورتحال میں پیداوار کی کمی کے باعث سپر مارکیٹس سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ ان ظاہری معیار میں نرمی کریں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ صارفین کو آنے والے دنوں میں چھوٹی، ٹیڑھی یا غیر معمولی رنگت والی سبزیاں بھی دکانوں پر نظر آسکتی ہیں۔
شدید گرمی سے گوبھی کا رنگ بدل گیا
شدید گرمی سے متاثر ہونے والی سبزیوں میں پھول گوبھی نمایاں ہے۔ عام حالات میں گوبھی کے پھول کو اس کے پتے براہ راست دھوپ سے محفوظ رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کا رنگ سفید رہتا ہے۔
تاہم موجودہ گرم موسم میں گوبھی کے پھول تک زیادہ دھوپ پہنچ رہی ہے، جس کے باعث بعض گوبھیوں کا رنگ سفید کے بجائے زرد یا گہرا ہوگیا ہے۔
اضافی پیداوار فروخت کرنے والی سبسکرپشن کمپنی اوڈ باکس (Oddbox) کی شریک بانی ایمیلی وان پوپرنگھے کے مطابق گوبھی کے رنگ میں تبدیلی محض ظاہری مسئلہ ہے اور اس کا ذائقے یا کھانے کے معیار پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔
انہوں نے بتایا کہ اوڈ باکس نے گزشتہ ہفتے تقریباً 6 ہزار گوبھیاں حاصل کیں جنہیں ان کے گہرے رنگ کی وجہ سے عام سپر مارکیٹوں میں فروخت کے لیے مسترد کردیا گیا تھا۔
کسانوں کے پانی کے ذخائر کم ہونے لگے
شدید گرمی اور خشک موسم نے کسانوں کے پانی کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ وان پوپرنگھے کے مطابق متعدد کاشتکاروں نے پانی کے ذخائر ختم یا بہت کم ہونے کی اطلاع دی ہے، جس سے فصلوں کو مطلوبہ مقدار میں پانی فراہم کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
پھول گوبھی، بروکولی اور دیگر سبزیاں جنہیں مناسب مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے، خشک موسم میں سست رفتاری سے بڑھ سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث آنے والے ہفتوں میں ان سبزیوں کی دستیابی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹیڑھی اور غیر معمولی سبزیاں بھی مارکیٹ میں آسکتی ہیں
موسم کی شدت کا اثر صرف گوبھی تک محدود نہیں۔ کسانوں کے مطابق دیگر سبزیوں کی جسامت اور شکل بھی متاثر ہورہی ہے۔ کھیرے معمول سے زیادہ ٹیڑھے ہوسکتے ہیں جبکہ بعض دیگر سبزیاں چھوٹی یا غیر معمولی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔
ماہرین اور سبزی فروشوں کے مطابق ایسی سبزیاں ظاہری طور پر مختلف ضرور ہوسکتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خراب یا غیر محفوظ ہیں۔ ٹیڑھا کھیرا یا زرد گوبھی عام سبزی کی طرح کھائی جاسکتی ہے۔
اس صورتحال سے فوڈ ویسٹ کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ بڑی مقدار میں پھل اور سبزیاں صرف اس لیے مارکیٹ سے باہر کردی جاتی ہیں کیونکہ وہ مخصوص شکل، رنگ یا جسامت کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔
سپر مارکیٹس کے لیے نئی صورتحال
شدید گرمی کے باعث پیداوار میں کمی سپر مارکیٹس کے لیے بھی ایک چیلنج بن گئی ہے۔ ریٹیلرز کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ روایتی ظاہری معیار برقرار رکھتے ہیں یا مختلف شکل و رنگ والی سبزیوں کو بھی صارفین کے لیے دستیاب کرتے ہیں۔
کاشتکاروں اور خوراک سے وابستہ کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ محدود سپلائی کے باعث سپر مارکیٹس کے لیے شیلف خالی ہونے سے بچانا زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے آنے والے ہفتوں میں صارفین کو ایسی سبزیاں زیادہ تعداد میں نظر آنے کا امکان ہے جو ماضی میں صرف اپنی ظاہری شکل کی وجہ سے مسترد کردی جاتی تھیں۔
برطانیہ میں ’دھوپ سے جھلسی گوبھی‘، ٹیڑھے کھیرے اور دیگر غیر معمولی سبزیاں اب صارفین کے لیے عام منظر بن سکتی ہیں۔ اگرچہ ان سبزیوں کی ظاہری شکل مختلف ہوگی، لیکن ان کے کھانے کے قابل ہونے پر اس کا لازمی طور پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
موجودہ صورتحال اس بات کی ایک واضح مثال ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی اور خشک موسم کس طرح زراعت اور خوراک کی سپلائی کو متاثر کررہے ہیں۔ کسانوں کے لیے بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق پیداوار برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے، جبکہ صارفین کو بھی سبزیوں کی ظاہری شکل کے بارے میں اپنے روایتی معیار میں کچھ نرمی لانا پڑ سکتی ہے۔

