Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

اسلام آباد: ملک بھر کے بجلی صارفین، بشمول کراچی، کو اگست کے بجلی بلوں میں اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں فی یونٹ 1.20 روپے اضافے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔

مہنگائی اور بڑھتی ہوئی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے پریشان عوام کے لیے یہ ممکنہ اضافہ مزید مالی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر نیپرا اس تجویز کی منظوری دے دیتی ہے تو اس کے اثرات اگست کے بجلی بلوں میں نظر آئیں گے۔

سی پی پی اے کی درخواست

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) نے جون میں پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت کی بنیاد پر نیپرا کو فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی مہنگی کرنے کی درخواست دی ہے۔

نیپرا آج اس درخواست پر عوامی سماعت کر رہی ہے، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے یا نہیں۔

جون میں بجلی کی پیداوار کا تناسب

سی پی پی اے کی درخواست کے مطابق جون کے دوران بجلی کی پیداوار میں سب سے زیادہ حصہ پن بجلی کا رہا، جو مجموعی پیداوار کا 39 فیصد تھا۔

دیگر ذرائع سے بجلی کی پیداوار کا تناسب درج ذیل رہا:

  • پن بجلی: 39 فیصد
  • مقامی کوئلہ: 10.11 فیصد
  • درآمدی کوئلہ: 12.65 فیصد
  • درآمدی گیس: 11.02 فیصد
  • جوہری توانائی: 13.40 فیصد

باقی بجلی دیگر ذرائع سے حاصل کی گئی۔

منظوری کی صورت میں اگست کے بل متاثر ہوں گے

نیپرا کی جانب سے منظوری ملنے کی صورت میں فی یونٹ 1.20 روپے کا اضافی چارج ملک بھر کے بجلی صارفین، بشمول کے الیکٹرک کے صارفین، سے اگست کے بجلی بلوں میں وصول کیا جائے گا۔

اس سے قبل بھی بجلی مہنگی کی گئی تھی

یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی نیپرا نے مئی کے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 34 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا تھا۔

اس اضافے کا اطلاق تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے الیکٹرک کے صارفین پر کیا گیا تھا، جس کے اضافی چارجز جولائی کے بجلی بلوں میں شامل کیے گئے۔

صارفین پر مزید مالی دباؤ

توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق اگر نیپرا نئی تجویز کی منظوری دیتی ہے تو پہلے سے مہنگائی کا شکار عوام پر بجلی کے اخراجات کا مزید بوجھ پڑے گا۔ اب تمام نظریں نیپرا کے فیصلے پر ہیں، جو عوامی سماعت کے بعد متوقع ہے۔