Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

اسٹاک ہوم: سویڈن کے سائنسدانوں نے جارحانہ پروسٹیٹ کینسر کے علاج میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایسی نئی تجرباتی دوا تیار کی ہے جو ابتدائی تحقیقی نتائج کے مطابق نہ صرف کینسر کے ٹیومر کی بڑھوتری کو سست کرتی ہے بلکہ بیماری کو جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے بھی روک سکتی ہے۔

یہ تحقیق سویڈن کی اُومیا یونیورسٹی (Umeå University) کی پروفیسر مارینے لینڈسٹروم (Maréne Landström) کی سربراہی میں کی گئی، جبکہ اس کے نتائج معروف سائنسی جریدے Signal Transduction and Targeted Therapy میں شائع ہوئے ہیں۔

پروسٹیٹ کینسر کیوں خطرناک ہے؟

پروسٹیٹ کینسر دنیا بھر میں مردوں میں تشخیص ہونے والے عام کینسرز میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کی کئی اقسام آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں، لیکن بعض مریضوں میں یہ بیماری انتہائی تیزی سے پھیل کر ہڈیوں، لمف نوڈز اور جسم کے دیگر اعضا کو متاثر کر دیتی ہے۔

کینسر کے جسم کے دوسرے حصوں میں منتقل ہونے کے عمل کو میٹاسٹیسس (Metastasis) کہا جاتا ہے، جو پروسٹیٹ کینسر سے ہونے والی زیادہ تر اموات کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے سائنسدان کئی برسوں سے ایسی ادویات تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس عمل کو روک سکیں۔

مکمل انسانی اینٹی باڈی پر مبنی دوا

تحقیقی ٹیم نے ایک مکمل انسانی اینٹی باڈی (Fully Human Antibody) تیار کی ہے، جو کینسر کے خلیات کی افزائش اور پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرنے والے حیاتیاتی راستے (Biological Pathway) کو نشانہ بناتی ہے۔

چونکہ یہ اینٹی باڈی مکمل طور پر انسانی پروٹینز پر مشتمل ہے، اس لیے محققین کو امید ہے کہ اس سے جسم میں مدافعتی ردعمل کم ہوگا اور مریضوں کو روایتی علاج کے مقابلے میں نسبتاً کم مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ابتدائی تجربات میں حوصلہ افزا نتائج

لیبارٹری میں کیے گئے ابتدائی تجربات کے دوران اس دوا نے جارحانہ پروسٹیٹ کینسر کے ٹیومرز کی بڑھوتری کو نمایاں طور پر سست کیا اور سرطان کو جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے روکنے میں بھی کامیابی دکھائی۔

ماہرین کے مطابق یہ دوا ایسے حیاتیاتی راستے کو بند کرتی ہے جسے کینسر کے خلیات بڑھنے، اردگرد کے صحت مند ٹشوز پر حملہ کرنے اور جسم میں پھیلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق سے وابستہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ تجربات بھی کامیاب رہے تو یہ طریقہ علاج موجودہ تھراپیز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور نسبتاً محفوظ ثابت ہو سکتا ہے۔

کئی اداروں کا مشترکہ تحقیقی منصوبہ

اس اہم منصوبے میں سویڈن کے متعدد تحقیقی اور بائیوٹیک اداروں نے حصہ لیا، جن میں:

  • اُومیا یونیورسٹی
  • SciLifeLab Drug Discovery and Development Platform
  • Umeå Biotech Incubator
  • MetaCurUm Biotech AB

شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق مختلف اداروں کے اشتراک سے دوا کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے اور جدید سائنسی مہارت کو بروئے کار لانے میں مدد ملی۔

انسانی آزمائشیں ابھی باقی

اگرچہ ابتدائی نتائج انتہائی امید افزا ہیں، تاہم سائنسدانوں نے واضح کیا ہے کہ یہ دوا ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے۔

اسے عام مریضوں کے علاج کے لیے منظور کیے جانے سے قبل مزید حفاظتی تجربات، کلینیکل ٹرائلز اور انسانی آزمائشوں سے گزرنا ہوگا تاکہ اس کی افادیت اور محفوظ ہونے کی مکمل تصدیق کی جا سکے۔

دیگر کینسرز کے علاج کی بھی امید

محققین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہی اینٹی باڈی دیگر سالڈ ٹیومرز (Solid Tumors) کے علاج میں بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے یا نہیں۔

اگر آئندہ کلینیکل آزمائشیں کامیاب رہیں تو یہ دوا پروسٹیٹ کینسر کے علاج میں ایک نئی امید بن سکتی ہے، کیونکہ اس کا مقصد صرف ٹیومر کو سکڑانا نہیں بلکہ سرطان کو جسم میں پھیلنے سے روکنا بھی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کینسر کے پھیلاؤ کو ابتدائی مرحلے میں روک لیا جائے تو مریضوں کی زندگی بچانے اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مستقبل میں پروسٹیٹ کینسر کے علاج میں ایک نئی انقلابی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔