سورۃ الطارق اور جدید سائنس: کائنات اور انسانی تخلیق

قرآن مجید کے کھلے ہوئے صفحات، ستاروں سے بھرا آسمان اور کائنات کی وسعت کو ظاہر کرتا منظر۔

قرآن اور سائنس

سورۃ الطارق اور جدید سائنسی تحقیق، کائناتی دھڑکن، انسانی تخلیق اور قرآن کی سائنسی صداقت

میاں افتخار احمد

سورۃ الطارق قرآن مجید کی چھیاسیویں سورت ہے جو مکی دور میں نازل ہوئی اور صرف سترہ آیات پر مشتمل ہے لیکن اپنے حجم کے اعتبار سے یہ سورت بے پناہ گہرائی اور وسیع مضامین کی حامل ہے۔ یہ سورت اپنے آغاز ہی میں آسمان اور ایک خاص ستارے کی قسم سے شروع ہوتی ہے جسے قرآن نے الطارق یعنی رات کو دستک دینے والا اور النجم الثاقب یعنی روشنی پھوڑنے والا ستارہ قرار دیا ہے۔ اس کے بعد انسان کی تخلیق کے عمل کا ذکر آتا ہے کہ انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے اور بتایا گیا کہ وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ پھر قیامت کے دن چھپے ہوئے رازوں کی جانچ پڑتال کا ذکر ہے اور آسمان و زمین کی گواہی کے بعد قرآن کو فیصلہ کن کلام قرار دیا گیا ہے جو مذاق نہیں ہے۔ آخر میں کافروں کی سازشوں اور اللہ کی تدبیر کا ذکر کرتے ہوئے نبی کو صبر اور مہلت دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ سورت اپنے اندر کائناتی علوم، حیاتیاتی علوم، روحانی حقائق اور اخلاقی ہدایات کا ایک مکمل مجموعہ سموئے ہوئے ہے اور جدید سائنس کی روشنی میں اس کا تجزیہ ایک دلچسپ اور اہم علمی بحث ہے جس پر دنیا بھر کے تحقیقی ادارے کام کر رہے ہیں۔

سورۃ الطارق کی پہلی تین آیات میں اللہ تعالیٰ آسمان کی اور الطارق کی قسم کھاتا ہے اور پھر خود ہی وضاحت فرماتا ہے کہ الطارق وہ النجم الثاقب یعنی چھیدنے والا یا روشنی پھوڑنے والا ستارہ ہے۔ لفظ طارق عربی زبان میں رات کو آنے والے اور دستک دینے والے کے معنی میں آتا ہے یعنی ایسی چیز جو اندھیری رات میں اچانک نمودار ہو اور اپنی موجودگی کا احساس دلائے۔ جدید فلکیات میں پلسر ستاروں کی دریافت نے اس آیت کی تشریح کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ پلسر دراصل نیوٹران ستارے ہیں جو انتہائی کثیف مادے پر مشتمل ہوتے ہیں اور اپنے محور پر بے حد تیزی سے گھومتے ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ خلا میں برقی مقناطیسی لہروں کی صورت میں مسلسل اور باقاعدہ دھڑکن خارج کرتے ہیں جسے ریڈیو دوربینوں کے ذریعے ایک منظم پلس کی شکل میں سنا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں پلسر یعنی دھڑکنے والا ستارہ کہا جاتا ہے۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے ایک ستارے کو رات کو دستک دینے والا قرار دیا جو جدید سائنس کے مطابق خلا میں مسلسل دھڑکنے والے نیوٹران ستاروں کی خصوصیات سے حیرت انگیز طور پر مطابقت رکھتا ہے۔ النجم الثاقب کا لفظی مطلب چھیدنے والا ستارہ ہے اور جدید تحقیق کے مطابق نیوٹران ستاروں کی کشش ثقل اور تابکاری انتہائی شدید ہوتی ہے جو اپنے گرد و نواح میں موجود مادے کو گہرائی تک متاثر کرتی ہے۔ انڈونیشیا کی جامعہ دارالسلام گونٹور کے محققین نے سنہ دو ہزار چھبیس میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا جس میں سامی بیانیاتی تجزیہ اور سائنسی تفسیر کو یکجا کرتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا کہ سورۃ الطارق کا بیانیاتی ڈھانچہ کائناتی مظاہر جیسے پلسر ستاروں کے ساتھ نمایاں ہم آہنگی رکھتا ہے۔ اس تحقیق نے یہ واضح کیا کہ قرآن کا ستاروں کی نوعیت کے بارے میں بیان اس دور کے علمی تصورات سے ماورا ہے اور جدید فلکیات کی دریافتوں سے متصادم نہیں بلکہ ان کی تائید کرتا ہے۔

سورت کی چوتھی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی جان ایسی نہیں ہے جس پر کوئی نگہبان نہ ہو۔ اس آیت کی الہامی تفسیر یہ ہے کہ ہر انسان پر اللہ کی طرف سے مقرر فرشتے اس کے اعمال کی نگرانی اور حفاظت کرتے ہیں اور انسان ہر لمحہ ایک اعلیٰ نگرانی میں ہے اس لیے اسے اپنے اعمال کا حساب کتاب کرنا چاہیے۔ جدید سائنس کے دائرے میں نگرانی اور ریکارڈنگ کا تصور جینیاتی کوڈ کی سطح پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں ہر انسانی خلیے میں اس کی مکمل معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ ڈی این اے دراصل ایک ایسا معلوماتی ذخیرہ ہے جو انسان کی جسمانی ساخت، رنگ، قد اور دیگر خصوصیات کا مکمل ریکارڈ رکھتا ہے۔ اسی طرح جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں ہر عمل کا ڈیجیٹل نقش محفوظ رہتا ہے جسے بعد میں بازیافت کیا جا سکتا ہے۔ یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کا ہر عمل کسی نہ کسی صورت میں محفوظ اور ریکارڈ شدہ ہے اور قیامت کے دن اس کا مکمل حساب لیے جانے والا ہے۔

سورت کی پانچویں سے ساتویں آیات انسانی تخلیق کے عمل کا ذکر کرتی ہیں اور یہی وہ حصہ ہے جس پر جدید سائنسی تحقیق کا سب سے زیادہ زور ہے۔ قرآن فرماتا ہے کہ انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ ماء دافق کا لفظی معنی اچھلنے والا یا بہنے والا پانی ہے اور جدید سائنس میں اس سے مراد نطفہ اور بیضہ کا ملاپ ہے۔ دافق کی صفت نطفہ کی متحرک نوعیت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو فرٹیلائزیشن کے عمل کے لیے نہایت ضروری ہے کیونکہ سپرم سیل تیر کر انڈے تک پہنچتا ہے اور یہی حرکت انسانی تخلیق کا آغاز ہے۔ صلب اور ترائب کے الفاظ پر مفسرین اور محققین کے درمیان طویل بحث رہی ہے۔ روایتی تشریح کے مطابق صلب سے مراد مرد کی ریڑھ کی ہڈی یا کمر ہے اور ترائب سے مراد عورت کے سینے کی ہڈیاں ہیں۔ جدید سائنسی تشریحات میں متعدد پہلوؤں پر غور کیا گیا ہے۔ ایک تشریح کے مطابق صلب اور ترائب دراصل شرونیی علاقے کی طرف اشارہ ہیں جو مرد اور عورت دونوں کے تولیدی اعضاء سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری تشریح کے مطابق یخرج کا فاعل نطفہ نہیں بلکہ بچہ یعنی جنین ہے جو ماں کے رحم میں نشوونما پاتا ہے اور رحم بھی اسی جسمانی حصے میں واقع ہے۔ تیسری تشریح یہ ہے کہ خصیے جہاں نطفہ پیدا ہوتا ہے جنین کی نشوونما کے دوران پیٹ میں ریڑھ کی ہڈی کے قریب بنتے ہیں اور بعد میں نیچے اترتے ہیں یوں ان کا تعلق کمر اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان والے علاقے سے ہے۔ چوتھی تشریح کے مطابق صلب اور ترائب کا ذکر پورے انسانی جسم کے لیے کنایہ ہے کیونکہ نطفہ اور بیضہ پورے جسم کے نظام کے تحت بنتے ہیں۔ ایرانی تحقیقی جریدے تفسیر معرفت کے سنہ دو ہزار بیس کے ایک مقالے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ صلب اور ترائب کے درمیان کا مطلب پورا انسانی جسم ہے جس میں مرد اور عورت دونوں کا کردار شامل ہے اور یہ جدید طبی علوم سے ہم آہنگ ہے۔ مراکش کے تحقیقی جریدے میں سنہ دو ہزار پچیس میں شائع ہونے والے ایک مقالے نے اس آیت کو سائنسی معجزہ قرار دیا اور یہ ثابت کیا کہ یہ آیت انسانی تخلیق کے عمل کو نطفہ اور بیضہ کے ملاپ سے تعبیر کرتی ہے جبکہ صلب و ترائب کا ذکر ریڑھ کی ہڈی اور شرونیی علاقے کی طرف اشارہ ہے جو تولیدی افعال سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایران کے تحقیقی جریدے قرآن و طب کے سنہ دو ہزار چھبیس کے ایک مقالے نے لسانی تجزیے کی روشنی میں یہ واضح کیا کہ قرآن اور طب کے درمیان کوئی تضاد نہیں اور شبہات ان کلیدی الفاظ کے صحیح مفہوم کی نشاندہی نہ کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ مالیزیا کی اسلامی یونیورسٹی کے سنہ دو ہزار تئیس کے ایک تحقیقی جائزے میں مختلف مفسرین کے اقوال کا جائزہ لیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ بعض مفسرین اس آیت کو جدید سائنس سے ہم آہنگ سمجھتے ہیں جبکہ بعض کے نزدیک اس کا حوالہ بچے یعنی جنین کی طرف ہے جو رحم سے نکلتا ہے۔ عراق کی جامعہ الکفیل میں سنہ دو ہزار پچیس میں منعقدہ ایک سائنسی ورکشاپ میں سورۃ الطارق کے ذریعے قرآن کے سائنسی معجزات پر روشنی ڈالی گئی اور اناٹومی، ایمبریالوجی، فزیالوجی اور ہارمونز کے جدید تصورات کو قرآنی اصطلاحات سے مربوط کیا گیا۔ ان تمام تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے کہ سورۃ الطارق کی آیات انسان کی تخلیق کے بارے میں گہرے اور درست مشاہدات پیش کرتی ہیں جو اپنے دور کے علمی پس منظر سے ماورا تھے اور جدید ایمبریالوجی اور اناٹومی کی دریافتوں سے متصادم نہیں ہیں۔

سورت کی آٹھویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یقیناً وہ انسان کو دوبارہ لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ آیت قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کی واضح دلیل ہے کہ جس طرح اللہ نے انسان کو ایک قطرے سے پیدا کیا اسی طرح وہ اسے موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ جدید سائنس میں خلیوں کی تجدید اور اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کے ذریعے مردہ یا خراب ٹشوز کو دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت پر تحقیق ہو رہی ہے۔ ڈی این اے میں پوری انسانی معلومات کا کوڈ موجود ہے جو نظریاتی طور پر کسی بھی وقت دوبارہ تخلیق کی اجازت دیتا ہے اگرچہ عملی طور پر یہ ابھی ممکن نہیں۔ یہ آیت انسانی وجود کی معلوماتی نوعیت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو جدید جینیات کے مطابق ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان کی تخلیق اور اس کی دوبارہ پیدائش اللہ کی قدرت کے تحت ایک علمی اور منطقی عمل ہے۔

سورت کی نویں اور دسویں آیات میں قیامت کے دن کا ذکر ہے جس دن تمام چھپے ہوئے رازوں کی جانچ پڑتال ہوگی اور انسان کے پاس نہ کوئی طاقت ہوگی اور نہ کوئی مددگار۔ سرائر سے مراد وہ تمام اعمال، نیات اور خیالات ہیں جو دنیا میں پوشیدہ تھے اور اس دن کوئی بھی انسان اپنی طاقت یا کسی اور کی مدد سے عذاب سے نہیں بچ سکے گا۔ جدید سائنس میں سرائر کی جانچ پڑتال کا تصور فاریزک سائنس اور ڈیجیٹل فرانزکس سے مشابہت رکھتا ہے جہاں ہر چھوٹا سے چھوٹا ڈیٹا بازیافت کیا جا سکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی میں ہر عمل کا ڈیجیٹل نقش موجود ہوتا ہے اسی طرح اللہ کے ہاں ہر عمل کا مکمل حساب ہے۔ یہ آیت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اس دن کوئی بھی انسانی ایجاد یا طاقت کام نہیں آئے گی اور ہر انسان کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔

سورت کی گیارہویں اور بارہویں آیات میں اللہ تعالیٰ آسمان کی قسم کھاتا ہے جو بارش لوٹاتا ہے اور زمین کی جو پھٹتی ہے۔ سماء ذات الرجع کا مطلب ہے وہ آسمان جو بارش کو لوٹاتا ہے یعنی پانی بخارات بن کر اوپر جاتا ہے اور پھر بارش کی صورت میں لوٹتا ہے۔ ارض ذات الصدع کا مطلب ہے وہ زمین جو پھٹتی ہے یعنی پودوں اور درختوں کو زمین سے نکالنے کے لیے پھٹتی ہے۔ جدید سائنس میں سماء ذات الرجع کی تشریح ہائیڈرولوجیکل سائیکل یعنی آبی چکر سے کی جاتی ہے جس میں پانی بخارات بنتا ہے، بادل بنتے ہیں، بارش ہوتی ہے اور پانی دوبارہ زمین میں جذب ہوتا ہے۔ انڈونیشیا میں سنہ دو ہزار پچیس میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس آف اسلامک اسٹڈیز میں پیش کردہ ایک تحقیقی مقالے نے الرجع کے لسانی اور سائنسی معانی کا تجزیہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ رجع کا مطلب صرف لوٹنا ہی نہیں بلکہ ذخیرہ کرنا یا روکنا بھی ہے جو فضاء کے پانی کے بخارات کو ذخیرہ کرنے، گاڑھا کرنے اور بارش کے طور پر واپس لوٹانے کے عمل سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔ ارض ذات الصدع کی تشریح میں زمین کا پھٹنا نہ صرف پودوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہے بلکہ ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت اور زلزلوں کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے۔ یہ دونوں مظاہر کائنات کے مسلسل چکر کو ظاہر کرتے ہیں جو ایک منظم نظام کی طرف اشارہ ہے اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن نے فطرت کے ان بنیادی اصولوں کا ذکر کیا ہے جو صدیوں بعد سائنس نے دریافت کیے۔

سورت کی تیرہویں اور چودہویں آیات میں فرمایا گیا کہ یقیناً یہ قرآن ایک فیصلہ کن بات ہے اور یہ کوئی مذاق نہیں۔ یہ آیت قرآن کی حقیقت اور اس کی اہمیت کو واضح کرتی ہے کہ یہ حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والا کلام ہے اور اسے کسی مذاق یا کھیل کی طرح نہیں لیا جا سکتا۔ یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ قرآن کے پیغام پر غور کرے اور اسے سنجیدگی سے قبول کرے کیونکہ یہ اس کی دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کا ضامن ہے۔

سورت کی پندرہویں سے سترہویں آیات میں کافروں کی سازشوں اور اللہ کی تدبیر کا ذکر ہے۔ فرمایا گیا کہ یقیناً یہ لوگ چالیں چل رہے ہیں اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں پس اے نبی تم کافروں کو مہلت دو انہیں ذرا سی مہلت دو۔ یہ آیات بتاتی ہیں کہ کفار رسول اللہ کے خلاف سازشیں بنا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنی سنت اور عدالت سے ان کے منصوبوں کو ناکام بنائے گا۔ نبی کو حکم دیا گیا کہ صبر کرو اور انہیں تھوڑی مہلت دو کیونکہ عذاب یقینی ہے۔ جدید سائنس میں کید یعنی چال یا منصوبہ کا تصور اسٹریٹجک پلاننگ اور سائبر سیکیورٹی سے مشابہت رکھتا ہے جہاں ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے۔ مہلت کا قانون نیچرل سلیکشن اور ایکوسسٹم کے توازن کی یاد دلاتا ہے کہ ہر چیز اپنے وقت پر ہوتی ہے اور کوئی چیز بے حساب نہیں رہتی۔ یہ آخری آیات تاریخ کے قانون یعنی قوموں کے عروج و زوال کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو ہر تہذیب پر لاگو ہوتا ہے اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ اللہ کی تدبیر ہمیشہ انسانی سازشوں پر غالب رہتی ہے۔

مجموعی طور پر سورۃ الطارق ایک مختصر مگر گہری سورت ہے جو کائنات کی عظمت، انسان کی تخلیق کی باریکی اور آخرت کی حقیقت کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔ اس کی ہر آیت انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے تاکہ وہ اپنے خالق کی قدرت کو پہچان سکے۔ جدید سائنسی تحقیق نے اس سورت کی متعدد آیات کی تشریح کے نئے دروازے کھولے ہیں اور دنیا بھر کے تحقیقی ادارے فلکیات، ایمبریالوجی، اناٹومی اور ماحولیاتی سائنس جیسے شعبوں میں اس سورت کا جدید سائنس سے موازنہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ بعض اصطلاحات کی تشریح پر مفسرین میں اختلاف ہے لیکن جدید تحقیقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ قرآن کا بیان جدید سائنسی دریافتوں سے نمایاں ہم آہنگی رکھتا ہے اور یہ اس کے الٰہی ہونے کی ایک مضبوط دلیل ہے۔ سورۃ الطارق دراصل انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کی کائنات اور اپنی تخلیق پر غور کرے اور اس حقیقت کو پہچانے کہ یہ سب کچھ ایک حکمت والے خالق کی جانب سے ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے ہدایت کے لیے قرآن عطا کیا۔ یہ سورت اپنے اندر سائنسی حقائق، روحانی بصیرت اور اخلاقی ہدایات کا ایسا خزانہ سموئے ہوئے ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے یکساں طور پر قابل غور اور قابل عمل ہے۔

Related posts

Leave a Comment